متبنی حقیقی باپ کا وارث ہے
    تاریخ: 17 مارچ، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1054

    سوال

    15 سال قبل میں نے اپنے دیورسے بچہ گود لیا ، اسکو پال کر بڑا کیا ہے اب اسکا حقیقی والد یعنی میرے دیور کا انتقال ہوگیا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا اس بچے کا اپنے حقیقی والد کی وراثت میں حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟شرعی فتوٰی دے دیں تاکہ اسکی والدہ کو دکھایا جا سکے۔

    سائل:محمد جاوید: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بچہ کسی کو گود دینے کے باوجود حقیقی والدین ہی بچہ کے اصل والدین رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شرعاََلے پالک بچے کی ولدیت میں اسکے اصلی والدین کا نام لکھنا اور اسی سے پکارنا ضروری و لازم ہے، خانہ ولدیت میں پرورش کنندگان کا نام لکھنا ناجائز و حرام ہے۔ یہ پرورش کنندگان اسکے والدین نہیں کہلاتے اور نہ ہی ان کے حق میں اس بچے کی وراثت وغیرہ کے احکام ثابت ہوتے ہیں ۔بلکہ یہ بچہ اپنے حقیقی والدین کا ہی وارث ہوگا۔اور انکی وراثت سے وہ حصہ پائے گا جو شرعا اسکا حق بنتا ہے۔

    قال اللہ تبارک و تعالی :ادْعُوهُمْ لِآبائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۔ترجمہ: انہیں انکے پاپ ہی کا کہہ کر پکا رویہ اللہ کے نز دیک زیادہ ٹھیک ہے ۔ (سورۃالاحزاب :5)

    اس آیت مبارکہ کے تحت احکا م القرآن للجصاص میں ہے: فیہ حظر اطلاق اسم الابوۃ من غیر جہۃ النسب۔ترجمہ :اس آیت مبارکہ میں ولدیت کی نسبت، نسبی والد کے علاوہ کی طرف کر نے کی ممانعت ہے۔(احکا م القرآن للجصاص قدیمی کتب خانہ ،ج:3 ص:521)

    چناچہ تفسیر مظہری میں ہے:فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك :ترجمہ:منہ بولا بنانے سے نسبی اولاد والے احکام ثابت نہیں ہونگے مثلا وراثت،نکاح وغیرہ کا حکم۔(تفسیر مظہری ، جلد 7 ص 234)

    وراثت کے اسباب میں سے ایک سبب قرابت (یعنی رشتہ داری)ہے جیساکہ الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:أما أسباب الإرث المتفق عليها فهي ثلاثة: وهي القرابة، والزوجية، والوَلاء۔ترجمہ:وراثت کے تین متفق علیہ اسباب ہیں۔1:قرابت،2:زوجیت،3:ولاء۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ ،جلد 10 ص 377)

    اسی طرح الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: أَسْبَابُ الإْرْثِ أَرْبَعَةٌ، ثَلاَثَةٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهَا بَيْنَ الأْئِمَّةِ الأْرْبَعَةِ، وَالرَّابِعُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.فَالثَّلاَثَةُ الْمُتَّفَقُ عَلَيْهَا: النِّكَاحُ، وَالْوَلاَءُ، وَالْقَرَابَةُ،ترجمہ:ائمہ اربعہ کے درمیان وراثت کے متفق علیہ اسباب تین ہیں ۔ایک مختلف فیہ ہے ۔ متفق علیہ یہ تین ہیں۔1:نکاح ،2: ولاء،3:قرابت۔(الموسوعۃ الفقہیہ جلد 3 ص 22)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:18 ذیقعدہ 1441 ھ/09 جولائی 2020 ء