سوال
شوہر کا بیان
میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میں نے رات کو غصے میں بیوی کو کہا ''خاموش ہوجاؤ میں تمہیں طلاق دے دونگا''پھر فون کرکے بیوی کی بہن کو بتایا کہ میں نے آپکی بہن کو طلا ق دے دی ہے ۔اپنی والدہ کو اس معاملے میں شامل کرلو ۔پھر ہم نے ایک مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا طلاق واقع ہوگئی عدت میں رجوع کرلو پھر میں نے انکے گھر جاکر ان سے رجوع بھی کیا ۔اب اس صور ت حال کا کیا حکم ہے ؟برائے کرم تحریری فتوٰی کی صورت میں شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
بیوی کا بیان
میں عشرت حلفیہ کہتی ہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ الفاظ کہے''خاموش ہوجاؤ میں تم کو طلاق دے دونگا '' پھر فون کرکے میری بہن کو بتایا کہ میں نے آپکی بہن کو طلاق دے دی ہے ۔اب ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں کیا حکم ہے ؟
سائلین:یاسر و عشرت: شاہ فیصل کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت حال کے پیش نظرعورت کو ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی جس کے بعد شوہر نے دوران عدت ہی رجوع کرلیا ۔ لہذا اب دونوں بدستور میاں بیوی ہیں ، انکا آپس میں رہنا جائز و حلال ہے،لیکن یاد رہے آئندہ شوہر کو صرف دو طلاق کا حق باقی رہے گا۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب شوہرنے محض یہ کہا ہے کہ ''خاموش ہوجاؤ ،میں تمہیں طلاق دے دونگا ''تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی ، کیونکہ یہ الفاظ،الفاظِ طلاق نہیں بلکہ ارادہ طلاق کے ہیں ، اور ارادہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔فتح القدیر باب ایقاع الطلاق جلد 4ص7میں ہے: وَلَا یَقَع بِأُطَلِّقُک إلَّا إذَا غَلَبَ فِی الْحَالِ :ترجمہ : اور میں تجھے طلاق دے دونگا سے طلاق واقع نہیں ہوگی لیکن جبکہ حال میں اسکا استعمال غالب ہو تواس سے طلاق ہو جائے گی۔
لیکن جب شوہر نے بیوی کی بہن کو فون پر کہا کہ میں نے آپکی بہن کو طلاق دے دی ہے تو اس سے قضاء ایک طلاق واقع ہوگئی ہے جسکے بعد عدت لازم ہوئی اور اسی دوران شوہر نے رجوع کرلیا اب دونوں باہم میاں بیوی ہیں ۔شامی میں ہے : وَلَوْ أَقَرَّ بِالطَّلَاقِ كَاذِبًا أَوْ هَازِلًا وَقَعَ قَضَاءً لَادِيَانَةً۔ ترجمہ:اور اگر شوہر طلاق کا اقرار کرے خواہ جھوٹ میں کرے یا مذاق میں کرے قضاءََ طلاق واقع ہوجائے گی دیانۃ واقع نہیں ہوگی۔ (رد المحتار مع الدر المختار کتاب الطلاق جلد 3 ص 236،بیروت لبنان۔)
مفتی امجد علی اعظمی بہار شریعت حصہ 8 ص 117 میں رقمطراز ہیں :عورت کو طلاق نہیں دی ہے مگر لوگوں سے کہتا ہے میں طلاق دے دی تو قضاءً ہوجائے گی اور دیانۃً نہیں، اور اگر ایک طلاق دی ہے اور لوگوں سے کہتا ہے تین دی ہیں تو دیانتہً ایک ہوگی قضاءً تین، اگرچہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا۔۔(بحوالہ الفتاوی الخیریہ ص 37)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:02 صفر المظفر 1441 ھ/02 اکتوبر 2019 ء