طلاق کا حکم بذریعہ نوٹس

    talaq ka hukm bazariya notice

    تاریخ: 6 جولائی، 2026
    مشاہدات: 44
    حوالہ: 1580

    سوال

    ایک شخص نے طلاق کے چار نوٹس بنوائے جن میں سے تین نوٹس پر لکھوایا کہ نوٹس طلاقِ اول ، بعد ازاں اپنے اور گواہان کے دستخط کرکے رکھ لئے ۔ان تینوں کے الفاظ یہ تھے میں مظہر فریق اول،فریق دوم کو نوٹس طلاقِ اول جاری کررہا ہوں۔

    جبکہ چوتھے نوٹس پر نوٹس طلاقِ دوم لکھااور اپنے اور گواہان کے دستخط کردئیے اس کے الفاظ یہ تھے میں مظہر فریق اول،فریق دوم کو نوٹس طلاقِ دوم جاری کررہا ہوں۔پھر ان میں سے بیوی کو ایک نوٹس طلاقِ اول کا اور ایک نوٹس طلاق ِدوم کا بھیج دیا ۔اب سوال یہ ہے مذکورہ صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں ؟ اگر ہوئی تو کتنی؟

    سائل: مظہر : ساہیوال


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی ، نہ ایک نہ ایک سے زائد ، کیونکہ طلاق انشاء کی قبیل سے ہے لہذا اس کے لئے ایسے الفاظ لازم ہیں جو انشاء طلاق پر دلالت کرتے ہوں جبکہ چاروں طلاق ناموں میں موجود الفاظ مفیدِ انشاء نہیں ہے۔ بلکہ ظاہر یہی ہے کہ یہ الفاظ محض ارادے کا اظہار ہےاور ارادہِ طلاق سے طلاق نہیں ہوتی۔

    طلاق کے الفاظ ایسے ہوں جو صراحتاً یا کنایۃً معنٰی طلاق پر دلالت کریں چناچہ بدائع میں ہے: فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية۔ترجمہ:پس طلاق کا رکن وہ لٖط ہےجو لغتاًمعنٰی طلاق پر دلالت کرے اور وہ صریح طلاق میں تخلیہ ، ارسال، اور نکاح کی قید اٹھانا اور کنایہ میں تعلق ختم کرنا وغیرہ ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 3 ص 98)

    خلاصہ یہ ہے کہ جب مذکورہ الفاظ معنی طلاق پر دلالت ہی نہیں کرتے تو دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی مثل رہ سکتے ہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: شعبان المعظم 1446ھ/ 22 فروری 2024 ء