آن لائن ٹرانسلیشن سروسزکا حکم

    online translation services ka hukm

    تاریخ: 2 جولائی، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 1548

    سوال

    آن لائن ٹرانسلیشن سروسز کامعاوضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

    سائل:عبدالرحیم :کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آن لائن ٹرانسلیشن Translation) )سروسز ایک مفید اور شرعاً جائز عمل ہے، جس کے ذریعے کسی زبان کی بات کو دوسری زبان میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ کام علمی مہارت، ذہنی مشقت اور وقت طلب ہونے کی وجہ سے خدمتService) )کے زمرے میں آتا ہے۔ اور ہر وہ جائز خدمت جس میں کسی کا نفع ہو، اس پر اجرت لینا جائز ہے۔ مترجم، اپنی صلاحیت اور وقت صرف کر کے دوسروں کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے، لہٰذا وہ معاوضے کا شرعی طور پر مستحق ہے، شامی میں ہے: لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة۔ترجمہ:کیونکہ یہ ایسا عمل ہے عقد اجارہ کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوجائے گا۔(شامی، جلد 4 ص 281)

    البتہ اگر اس ٹرانسلیشن میں کوئی ایسا پہلو شامل ہو جو شرعاً ممنوع و ناجائز ہو، مثلاً ترجمہ کیا جانے والا مواد فحاشی، الحاد، گستاخی، یا کسی حرام کام کا پرچار وغیرہ ، تو اس صورت میں اگر مقصود یہ ہے کہ اس باطل فرقے یا شخص کے باطل عقائدو نظریات لوگوں کے سامنے ظاہرہوں تاکہ لوگ اس کے باطل عقائد سے باخبر اور ہوشیار رہیں تو اس صورت میں حرج نہیں۔

    لیکن اگر مترجم کا مقصود ایسے مواد میں مدد دینا ہے جس سے معصیت پھیلتی ہو تو اس صورت میں اجرت لینا بھی ناجائز ہوگا، کیونکہ یہ تعاون علی الاثم ہے اور تعاون علی الاثم بھی گناہ ہے۔

    سیدی اعلٰی حضرت سے سوال ہوا: کاتب جو اُجرت پر کتابت کرے اور ا س کتابت میں امر مخالف دین ہو اور اُجرت پر چھاپنے شائع کرنے والے اسے شائع کریں یا کوئی شخص بے اُجرت محض مروت سے ایسا کرے تو اس کا کیاحکم ہے؟ یا کوئی شخص صفائی خط کے لئے کوئی قطعہ وغیرہ لکھے اور اس میں ایسے کلمات بھی نقل کرجائے یا ان سب صورتوں میں زبان سے پڑھے تو کیاحکم ہے؟

    آپ جواباً ارشاد فرماتے ہیں: القلم احد اللسانین (قلم بھی ایک زبان ہے) جو زبان سے کہے پراحکام ہیں، وہی قلم پر، اور ایسی اجرت حرام، اس کی اشاعت حرام، اورایسی مروت فی النار، اعتقاداً نہ ہو تو کفر نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب السیر جلد 14 ص 607)

    محیط برہانی میں ہے: "الإعانة على المعاصي والفجور والحث عليها من جملة الكبائر" ترجمہ: گناہوں اور فسق و فجور پر مدد کرنا اور اس پر اُبھارنا بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (المحيط البرهاني، کتاب الشهادات، الفصل الثالث، جلد 08، صفحہ 312، دارالكتب العلمیہ، بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 14 محرم الحرام 1447ھ/ 10 جولائی2025 ء