america se aaye hue sawal ka jawab
سوال
میرا تعلق امریکہ سے ہے ، اور یہاں ایک اسلامی ادارہ ہے جسکے تحت بہت ساری مساجد ہیں جن میں ہزاروں مرد و خواتین نماز کے لئے آتے ہیں تواس تنظیم سے متعلق میرے چند سوالات ہیں:
1: وہاں نماز کے بعد مرد و خواتین باہمی طور پر ساتھ بیٹھتے کھاتے پیتے ہیں نیز اس مسجد کا امام خواتین کےسامنے بیٹھا ہوتا ہے۔
2: اسی طرح مسجد میں ایک خاص جگہ ہے جہاں بڑے لڑکے لڑکیاں آپس میں گیم وغیرہ کھیلتے ہیں وہاں اگرچہ نماز نہیں ہوتی لیکن وہ مسجد کی جگہ ہے کیا مسجد میں انکا یہ فعل جائز ہے۔ اور ایسی تنظیم کو اسلامک تنظیم کہا جاسکتا ہے۔
3: اور وہ امام صاحب مشینی ذبیحہ کو حلال کہتے ہیں جس میں ایک ٹیپ ریکارڈ پر بسم اللہ چلتی ہے اور مرغیاں ذبح ہوتی رہتی ہیں۔کیا یہ ذبیحہ حلال ہے یا حرام ؟
سائل:عبدالحمید : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: نامحرم مرد و خواتین کا اختلاط یعنی بلاضرورت ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا اور باتیں کرناتو عمومی حالات میں بھی ناجائز ہے ، چہ جائیکہ مسجد میں بیٹھ کر بالمشافہ بات کی جائے۔کہ اس طرح باہمی طورپر کھانا پینا گفتگو کرنا بے تکلفی کا سبب بنے گا جوکہ کئی شرعی خرابیوں پر مشتمل ہے لہذا اس سے احتراز کرنا ضروری ہےبالخصوص مسجد میں کامل درجے کی احتیاط مطلوب ہے،کہ مسجد میں بلاغرض دنیاوی بات سے اعراض لازم ہے ۔تو نامحارم کا باہمی طور پر مکالمہ کیونکر درست ہوسکتا ہے؟
2: مسجد یا اس سے ملحقہ کسی جگہ میں گیم کھیلنا ناجائز و حرام ہے کہ مسجد کی تعمیر کا مقصد اللہ کاذکراور ادائیگی صلوۃ ہے،اور گیم کھیلنا لہو و لعب کے زمرہ میں ہے اور بحکمِ حدیث ہر لہو و لعب باطل ہے ماسوائے تین طرح (تیز اندازی، گھڑ سواری اور میاں بیوی کی ملاعبت ) کے۔ پھر مسجد میں گیم کھیلنا اس حکم میں مزید سختی پیدا کردے گا۔ اور اگر یہ سب اس تنظیم کے تحت ہورہا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ تمام امور غیر شرعی ہیں تو غیر شرعی امور انجام دینے والی تنظیم کو کیونکر اسلامک تنظیم کہا جاسکتا ہے۔؟
3: مذکورہ امام کا مشینی ذبیحہ کو حلال کہنا غلط اور باطل ہے کیونکہ مشین کے ذریعے جو جانور ذبح ہوتے ہیں وہ باتفاقِ مذاہبِ اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) حرام ہیں۔انکا حکم شرعاً وہی ہے جو مُردار کا حکم ہے کیونکہ جانور کے حلال ہونے کے لئے بالاتفاق یہ شرط ہے کہ ذابح صاحب عقل و شعور ہو ، نیز ذابح مسلم یا کتابی ہوحالنکہ مشینی نظام ذبح میں ذابح کوئی صاحب عقل و شعور ، مسلم یا کتابی نہیں ہوتا بلکہ ذابح محض بجلی ہوتی ہے جو یقیناً ان تمام اوصاف سے خالی و عاری ہے۔
انسان کا کام یہاں صرف یہ ہے کہ مشین سے بجلی کا رشتہ کٹا ہوا تھا اس نے بٹن دبا کر اسی رشتہ کو جوڑ دیا وبس۔ اسکے بعد بجلی اپنی قوت ِ تحریک سے مشین کو حرکت میں لاتی ہے، اور مشین میں چُھرا فِٹ ہوتا ہے جو جانور اسکی زَد میں آجاتا ہے وہ خود بخود کٹ جاتا ہے ۔
یاد رہے بجلی بے جان چیزوں کی طرح ساکن و بے حرکت نہیں ہے بلکہ وہ اپنی ابتدائے آفرینش سے مسلسل تگ و دو میں ہے اور حرکت اسکا لازمہ ہے تحریک اسکی فطرت ہے وہ ایک عجیب و غریب توانائی ہے جو خود چلتی ہے اور مشین کو چلاتی ہے اس لئے قرآن حکیم میں اس کے فعل کی نسبت اسکی طرف کی گئی ہے جیساکہ ارشاد باری تعالٰی ہے: یکا د البرق یخطف ابصارھم، یکاد سنابرقہ یذھب بالابصار۔ تو مشین چلانا بجلی کاکام ہےاس لئے ذابح بھی وہی ہوئی ۔ لٰہذا اسکا ذبیحہ حرام و مُردار ہے جیساکہ لیٹے ہوئے جانور پر چُھرا گر جائے اور اسکا گلا کاٹ دے جس سے اسکی موت واقع ہوجائے تو بلاشبہ یہ جانور حرام ہے یونہی مشینی ذبیحہ بھی حرام ہے۔(ماخوذ از مشینی ذبیحہ کا حکم از مفتی نظام الدین مصباحی ص 31، 32 ) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 ر جب المرجب 1443 ھ/15 فروری 2022 ء