امریکہ میں رہنے والے کا پاکستانی سے حج بدل کروانا

    america mein rehne wale ka pakistani se hajj-e-badal karwana

    تاریخ: 2 جولائی، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 1544

    سوال

    امریکہ میں رہنے والا شخص حج بدل کے لئے پاکستان سے کسی کو بھیج سکتا ہے یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:عبدالرحمان : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    امریکہ میں رہنے والا شخص حجِ بدل کے لئے پاکستان سے کسی کو بھی بھیج سکتا ہے اس میں شرعاً کوئی مانع نہیں ہے، کیونکہ امریکہ میں رہنے والا اور پاکستان میں رہنے والا ہردو آفاقی ہیں اور آفاقی شخص کے لئے حج کا آفاق سے ہونا لازم و ضروری ہے ۔ سو جب محجوج عنہ یعنی آمر آفاقی ہےاور حج بدل کرنے والا مامور بھی آفاقی، تو اسکا یہ حج ،حجِ آفاقی ہو، بس اتنا کافی و وافی ہے یہ کچھ لازم نہیں کہ آفاق میں دونوں کا وطن بھی ایک ہی ہو۔ البتہ مکہ میں رہنے والا، اس آمر کی طرف سے حج بدل نہیں کرسکتا کیونکہ اس صورت میں اسکا حج، حجِ مکی ہوگا نہ کہ آفاقی۔اسی لئے مامور(آفاقی) پر لازم ہے کہ وہ حج افراد یا قران کرے نہ کہ تمتع (کیونکہ اس صورت میں اسکا حج ، حجِ آفاقی نہ ہوگا )۔مگر یہ کہ آمرکی اجازت ہو تو اب تمتع کا بھی جواز ہے۔ لہذابغیر اجازتِ آمر، تمتع کی صورت میں آمرکےحکم کی مخالفت کرنے کی وجہ سے آمر کی طرف سےاس کا حج ادانہ ہوگا۔

    مامور کے لئے میقات سے احرام لازم ہے جیساکہ شامی میں ہے: الثاني عشر أن يحرم من الميقات، فلو اعتمر وقد أمره بالحج ثم حج من مكة لا يجوز ويضمن۔ترجمہ:بارہویں شرط یہ ہے کہ (حج بدل کرنے والا) میقات سے احرام باندھے، پس اگراس نے عمرہ کیا حالانکہ اسے صرف حج کا حکم تھا پھر مکہ سے حج کیا تو جائز نہیں اور ضامن ہوگا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ، جلد 2 ص 600)

    مناسک ملاعلی میں ہے: ان من شرط الحج عن الغیر ان یکون میقاتیاً آفاقیاً ، وتقرر ان بالعمرۃ ینتھی سفرہ الیھا، ویکون حجہ مکیا۔ ترجمہ:غیر کی جانب سے حج کی شرط یہ ہے کہ وہ میقاتی آفاقی ہو، اور گزرا کہ عمرے کے ذریعے اسکا سفر ختم ہوچکا اور اسکا حج مکی کا حج ہوا۔ (نہ کہ آفاقی کا) (مناسک ملا علی القاری، ص ، 460)

    اسی میں ہے :( ولو امرہ بالحج فاعتمر ضمن ) ای لانہ مخالف حیث صرف سفر الحج الی العمرۃ ، سواء نوی العمرۃ للآمر او لغیرہ، ولاتقع الحجۃ عن حجۃ الاسلام ۔ ترجمہ: اور اگر اسکو حج کا حکم دیا اور اس نے عمرہ کرلیا تو ضامن ہوگا۔کیونکہ یہ (آمر)مخالفت کرنے والا ہوگیا۔کیونکہ اس نے حج کے سفر کو عمرہ کے سفر کی طرف پھیر دیا خواہ اب آمر کی جانب سے عمرہ کی نیت کرے یا اسکے علاوہ کسی اور کیجانب سے کرے۔ اور اسکا حج(بدل) ادا نہ ہوگا۔(ایضاً ص 445)

    علامہ ملا علی قاری مناسک میں رقمطراز ہیں: العَاشر: أن یحرمَ مِن المیقَاتِ فلَو اعتمرَ وقَد أمرَہ بالحجّ ثمّ حجَ مِن عامِہ مِن مکّۃ لَا یجوزُ ویضمّن أی قَولھم جَمیعاً، ولَا یجوزُ ذلِک عَن حجّۃِ الإسلامِ، لأنّہ مأمورٌ بحجّۃ میقاتیۃٍ، کَذا فِی ’’الکَبیرِ‘‘۔ترجمہ:دسویں شرط یہ ہےکہ حجِ بدل کرنےوالامیقات سےاحرام باندھےپس اگراُس نےعمرہ کیاجبکہ اُسےحج کاحکم دیاگیاہےاورپھر اُسی مکہ سےحج کیاتوحجِ بدل ادانہیں ہوگااوروہ تمام فقہائےکرام کےنزدیک ضامن ہوگااورنہ ہی اس سےفرض حج اداہوگا کیونکہ اُسےمیقاتی حج کرنےکاحکم دیاگیاتھا،اسی طرح’’منسک کبیر‘‘میں ہے۔ (إرشاد الساری علی المنسک المتقسط،باب الحج عن الغیر، فصل فی شرائط جواز الإحجاج والنیابۃ عن حجۃ الإسلام،ص623)

    سیدی اعلٰی حضرت جد الممتار علی ردالمحتار میں لکھتے ہیں: أنّ اللّازمَ جعلَہ حجّتہ آفاقِیۃ، ففِی الصّورۃ المذکورۃِ لَا یجوزُ لکونِ حجّتِہ مکّیۃ، أمّا إذا قصدَ مکانًا داخلِ المِیقَات فدخلَ’’مکّۃ‘‘ بلَا إحرامٍ لصیرورتِہ مِیقاتیاً، وأقامَ واعتمرَ، أو لَم یَعتمرْ حتّی إذَا جَاء الحَجّ خرجَ إلَی المیقَاتِ فأحرمَ مِنہ جازَ لکونِ الحجّ آفاقیًا وإن لَم یقعْ السّفر الأوّل للحَجّ خالِصاً۔ترجمہ:لازم یہ ہےاُس کی طرف سےحج آفاقی کیاجائےلہٰذاصورتِ مذکورہ میں حجِ بدل ادانہیں ہوگاکیونکہ اُس کاحج مکی ہوگابہرحال جب وہ میقات کےاندرداخل ہونےکاقصدکرےپھروہ مکہ میں خودکےمیقاتی ہونےکی وجہ سے بلااحرام داخل ہواوروہاں ٹھہرےاورخواہ عمرہ کرےیانہ کرےیہاں تک کہ جب حج کاوقت آئےتومیقات سےباہرنکل کراحرامِ حج باندھےتویہ جائزہےکیونکہ اُس کاحج آفاقی ہوگیااوراگرچہ پہلاسفرخالص حج کےواسطےنہ ہو۔(جد الممتار علی ردالمحتار، ج 4 ص 207،ناشر دار اہل السنہ)

    اسی طرح فتاوٰی رضویہ میں لکھتےہیں:محجوج عنہ جب اہلِ آفاق سے ہو تو لازم ہے کہ اس کی طرف سے حج آفاقی کیا جائے اگر اس نے حج کو بھیجا اس نے عمرہ کا احرام باندھا بعد عمرہ، موسم میں مکہ معظّمہ سے احرامِ حج باندھا اس کی طرف سے حج نہ ہوگا کہ یہ حج مکی ہوانہ آفاقی ، ہاں اگر قریب حج میقات کی طرف نکل کر احرامِ حج میقات سے باندھے تو جائز ہے کہ حج آفاقی ہوا نہ مکّی۔(فتاویٰ رضویہ،کتاب الحج ،ج 10 ص 660 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    نوٹ: مسئلہ مانحن فیہ میں سوال زندہ شخص سے متعلق ہے البتہ اگر کوئی ایسا شخص ہو جس پرحج فرض ہوااوروہ کسی وجہ سےحج ادانہ کرسکااور مرنے سے قبل اُس نےحجِ بدل کی وصیت کردی تواُس کی طرف سےکسی شخص کو مرنےوالےکےترکہ سےخرچہ دےکرحجِ بدل کے طور پر بھیجاجائےتو اسکی بعض صورتوں میں آمر اور مامور کے لئے میقاتِ آفاقی کا ایک ہونا شرط ہے ، جسکی تفصیل کے لئے کتب عامہ(لباب المناسک، ارشاد الساری، فتاوٰی ہندیہ، البحر العمیق، ردالمحتار، بدائع وغیرہ ) کی طرف مراجعت کی جاسکتی ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: رمضان المبارک 1445ھ/ 21 مارچ 2024 ء