آن لائن جھوٹی خبرین پھیلانا کیسا؟

    online jhooti khabrein phelana kaisa hai

    تاریخ: 2 جولائی، 2026
    مشاہدات: 42
    حوالہ: 1549

    سوال

    آن لائن جھوٹی خبرین اور افواہیں پھیلانا کیسا؟ گناہ ہے یانہیں؟

    سائل: :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جھوٹی خبر یا افواہ ہر صورت میں ناجائز و گناہ ہے خواہ یہ خبریں فیزیکل طریقے سے پھیلائی جائیں یا آن لائن پھیلائی جائیں،آج کل عوام الناس میں سے بعض کا یہی مشغلہ ہوتا ہے کہ وہ صبح سے شام تک کوئی نہ کوئی افواہ پھیلاتے رہتے ہیں ،اس دور میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جدید میڈیا و ذرائع ابلاغ و خبر رساں ادارے بھی اس کے محرک و علمبردار ہیں جس کے سبب سماجی زندگیاں درہم برہم ہیں ، بنا کسی تحقیق و تصدیق کے کوئی نہ کوئی خبر مشہور کردی جاتی ہے کسی کے ساتھ بھی ناجائز رشتوں کو جوڑ دیا جاتا ہے ، کسی بھی خاندان کو بد نام کردیاجاتا ہے ، کسی کے بھی انتقال کی خبر عام کردی جاتی ہے ، کہیں بھی فسادات کی خبریں مشہور کردی جاتی ہیں، کسی کا الزام کسی کے سرڈال دیا جاتا ہے ، ایسی خبروں سے انسانیت مجروح ہوجاتی ہے اور سماج میں کشمکش شروع ہوجاتی ہے ، خاندان ٹوٹ جاتے ہیں ، فرقہ وارانہ منافرت پھیل جاتی ہے ، دنگا و فساد مچ جاتا ہے۔ اسلام نے افواہ کو پھیلانے والے کو سخت نتائج سے آگاہ کیا ہے، کیونکہ یہ عمل افراد، خاندانوں، اداروں اور پوری امت میں فساد، اضطراب، شکوک اور افتراق کا سبب بنتا ہے۔شرعی رہنمائی کے مطابق کسی بھی خبر کی اولا تحقیق کرنی چاہیے کہ آیا یہ مبنی بر حق ہے بھی یا نہیں ؟ چناچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ۔ ترجمہ: اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو، پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔( سورۃ الحجرات:6)

    افواہیں اکثر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں، اور جھوٹ کو قرآن و سنت نے کبیرہ گناہ قرار دیا ہےچناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:أَنَّ الكَذِبَ یَهْدِیْ إِلَی الفُجُوْرِ، وَإِنَّ الفُجُوْرَ یَهْدِیْ إِلَی النَّار۔ ترجمہ: یقیناً جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے۔( صحیح بخاری:حدیث نمبر: 6094)

    جھوٹی خبروں کو عام کرنے والوں اور افواہوں کو پھیلانے والوں کو اس حدیث سے سبق لینا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ’’ دو فرشتے آپ کو لے کر ایک ایسے شخص کی جانب چلے جو اپنی گدّی کے بل چت لیٹا ہوا تھا ،اور اس کے پاس ایک اور شخص( فرشتہ) لوہے کا ترشول لئے کھڑا تھا ، پھر وہ اس کے منہ کے ایک طرف جاکر اس کا جبڑاگدّی تک پھاڑ ڈالتا۔ نتھنے اور آنکھ کو بھی اسی طرح گدی تک چیز دیتا پھر دوسری جانب پلٹ کر ایسا ہی کرتا ، جیسا کہ پہلی جانب کیا تھا ،اور ایک طرف چیرکر فارغ نہیں ہوتا کہ دوسری طرف کا حصہ بالکل درست ہوکر اپنی اصلی حالت پر آجاتا ،پھر وہ اس کی طرف پلٹ کر ایسا ہی چیر پھاڑ کرتا جیسا کہ پہلی بار چیرا پھاڑا تھا ، نبی کریم ﷺ کہتے ہیں تو میں نے اپنے ساتھ والے دونوں فرشتوں سے پوچھا : سبحان اللہ ، یہ دونوں کون ہیں ؟ تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ: وہ شخص جس کے پاس آپ آئے اور جس کا جبڑا اور نتھنے کو گدّی تک چیرا جا رہا تھا وہ ایسا شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹ بولتا جو دور دور تک پھیل جاتا(افواہ بن جاتی) ۔( صحیح بخاری:7047 )

    اسی طرح جھوٹی خبر اور افواہ پھیلانے والے ہر مسلمان کو رسول اللہ ﷺکے اس ارشاد پر غور و فکر کرناچاہئے : إِنَّ العَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَایَتَبَیَّنُ فِیْهَا یَزِلُّ بِهَا فِیْ النَّارِ أَبْعَدَ مِمَّا بَیْنَ المَشْرِقِ وَالْـمَغْرِب۔ترجمہ: آدمی اپنی زبان سے ایک بات بولتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں (کہ وہ بات کتنی پھیلے گی کتنا کفر وفساد اور بے حیائی کی طرف لے جائیگی ،قوم و ملت پر اس کا کیا اثر پڑے گا )جس کی وجہ سے وہ جہنم کے گڑھے میں اتنی دور تک گرتا ہے جتنا مشرق سے مغرب کا فاصلہ ہے۔ (صحیح مسلم:8892 )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1447ھ/ 28 جون 2025 ء