بیرون ملک کا بینک اکاؤنٹ بنوا کر اس سے فائدہ لینا

    berun-e-mulk ka bank account banwa kar us se faida lena

    تاریخ: 2 جولائی، 2026
    مشاہدات: 25
    حوالہ: 1546

    سوال

    ایک شخص بیرون ملک اپنے پاس ایک اکاؤنٹ کھلوا کر رکھوالیتا ہے جس میں بیرون ملک جانےوالے لوگ جو قانونی و غیر قانونی ہوتے ہیں ٹیکس سے بچنے کے لئے یا بینک جانے کی دشواری سے بچنے کے لئے اپنی رقم اس شخص کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروکر بعد میں اس سے لے لیتے ہیں ، جس وقت لیتے ہیں تو اس وقت یہ شخص اس میں سے 7 یا 10 فیصد کاٹ کر باقی رقم انکو دے دیتا ہے کیا اسکا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    سائل:توصیف رضا : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مستفسرہ کا حکم یہ ہے کہ محض اس مقصد کے لئے اکاؤنٹ کھلوانا اور مذکورہ سہولت لینا اور دینا ہر دو ناجائز ہے، کیونکہ اس میں سود کا معنٰی موجود ہےاور بحکمِ قرآن سود ناجائز و حرام ہے۔

    تفصیل:

    بے شک لوگ اس کے اکاؤنٹ میں جو رقم رکھوائیں گے وہ ضرور واپسی کے تقاضے کے ساتھ ہی رکھوائیں گے تو بے شک یہ قرض ہوئی کہ اسی لیے دی گئی تاکہ بعد ازاں اسکا تقاضا کیا جائے پھر اس پر اس شخص کا 7 یا 10 فیصد رقم کاٹ لینا نفع ہے سو یہ قرض پر نفع کی صورت ہوئی اور بے شک قرض پر نفع صریح سود ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے پھر جس طرح سود لینا ناجائز و حرام ہے یونہی سود دینا اور اسکا عقد کرنا بھی ناجائز و حرام ہی ہے۔ جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے: "كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً، فَهُوَ رِبًا"ترجمہ:ہر وہ قرضہ جو نفع دے وہ سود ہے ۔( مصنف ابن ابی شیبہ ،باب من کرہ کل قرض جر منفعۃ، رقم :20690)

    خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہاکاؤنٹ کھلوانا اور مذکورہ سہولت لینا اور دینا ہر دو ناجائز وحرام ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11 جمادی الثانی 1446ھ/ 14 دسمبر 2024 ء