ایس ای او سروس کے ذریعے پيسا كمانا

    seo service ke zariye paisa kamana

    تاریخ: 2 جولائی، 2026
    مشاہدات: 45
    حوالہ: 1550

    سوال

    ایس ای او سروس کے ذریعے کمانا کیسا ہے؟ شرعی رہنمائی کریں۔

    سائل:ابوبکر: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    SEO یعنی Search Engine Optimization جسے عربی میں “تحسين محرك البحث” کہتے ہیں۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا ایک اہم شعبہ ہے جس کا مقصد ویب سائٹس کو سرچ انجن میں بہتر رینک دلوانا ہے۔آج کے دور میں کسی بھی آن لائن کاروبار یا پروڈکٹ کی کامیابی کے لیے سرچ انجن میں نمایاں ہونا ضروری ہے، ورنہ خریدار ویب سائٹ تک نہیں پہنچ پاتے۔مثال کے طور پر اگر کوئی موبائل آن لائن خریدنا چاہے تو وہ گوگل پر سرچ کرے گا اور صرف وہی ویب سائٹس دیکھے گا جو ٹاپ لسٹ میں آئیں۔اسی لیے کاروباری حضرات SEO ماہرین کو اجرت دیتے ہیں تاکہ وہ ویب سائٹ کو گوگل کے الگوردمز کے مطابق بہتر بنا کر اوپر رینک کریں۔ SEO ماہر کا بنیادی کام ویب سائٹ کو تکنیکی اور مواد کی ترتیب سے سرچ انجن کے معیار پر لانا ہوتا ہے۔کلائنٹس مختلف ممالک سے ہوتے ہیں اور ان کی ویب سائٹس بھی مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں، جیسے ای کامرس، فٹنس یا بلاگنگ وغیرہ۔

    اس کےحکمِ شرعی کی تفصیل درج ذیل ہے: چونکہ یہ کام مہارت، ذہنی مشقت اور وقت طلب ہوتا ہےاور اس کام میں محنتِ شاقہ ہوتی ہے اور اسی کا محنتانہ وصول کیا جاتا ہے لہذا کسی بھی ویب سائٹ کے لئے SEO سروس دینا شرعاً جائز ہے کہ ہر وہ جائز خدمت جس میں کسی کا نفع ہو، اس پر اجرت لینا جائز ہے۔اور اس کام میں بھی انسان ، اپنی صلاحیت اور وقت صرف کر کے دوسروں کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے، لہٰذا وہ معاوضے کا شرعی طور پر مستحق ہے، شامی میں ہے: لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة۔ترجمہ:کیونکہ یہ ایسا عمل ہے عقد اجارہ کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوجائے گا۔(شامی، جلد 4 ص 281)

    بشرطیکہ اس میں دھوکہ دہی اور فریب شامل نہ ہو ، نیز SEO سروس کسی ناجائز کام کے لئے بھی نہ ہو ہو مثلاً کسی شراب یا جوئے یا کسی اور ناجائز و حرام کام کرنے والی کمپنی کی ویب سائٹ کے لئے SEO سروس دینا۔

    الاختیارلتعلیل المختارمیں ہے: وأما بيان شرائطها فنقول يجب ‌أن ‌تكون ‌الأجرة ‌معلومة، والعمل إن وردت الإجارة على العمل...وهذا لأن الأجرة معقود به والعمل أو المنفعة معقود عليه، وإعلام المعقود به وإعلام المعقود عليه شرط تحرزا عن المنازعة كما في باب البيع۔ترجمہ:بہرحال اجارہ کی شرائط کا بیان تو ہم کہتے ہیں کہ اجرت معلوم ہونی چاہیے، اور اگر اجارہ کام پر ہوا ہے تو کام بھی معلوم ہونا چاہیے… اس کی وجہ یہ ہے کہ اجرت وہ چیز ہے جس پر معاہدہ کیا جا رہا ہے، اور کام یا منفعت وہ چیز ہے جس پر اجرت دی جا رہی ہے۔ پس جس چیز پر معاہدہ کیا جا رہا ہے اور جس کے بدلے پر معاہدہ ہو رہا ہے، دونوں کو واضح کرنا شرط ہے تاکہ جھگڑے سے بچا جا سکے، جیسا کہ بیع کے باب میں ہے۔(كتاب الإجاراۃ في بدايته، ج:7، ص:395، ط:دار الكتب العلمية)

    محیط برہانی میں ہے: "الإعانة على المعاصي والفجور والحث عليها من جملة الكبائر" ترجمہ: گناہوں اور فسق و فجور پر مدد کرنا اور اس پر اُبھارنا بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (المحيط البرهاني، کتاب الشهادات، الفصل الثالث، جلد 08، صفحہ 312، دارالكتب العلمیہ، بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 22 ربیع الاول 1447ھ/ 16 ستمبر2025 ء