online payment ki sahulat dena
سوال
میں ایک سافٹ ویئر کمپنی میں کا م کرتا ہوں جو کہ مرچنٹس کو آن لائن پیمنٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے، یہ کام کمپنی یا تو خود کرتی ہے یا پھر کسی اور مرچنٹس سے یہ کام کرواتی ہےاور اسے سروس چارجز دیتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی مرچنٹ کوئی ایسا کام کررہا ہو جو شرعاً جائز نہ ہو مثلا سودی لین یا حرام اشیاء کی خرید و فروخت ، تو کیا ہماری کمپنی کااسکو یہ سہولت دینا شرعاً جائز ہوگا؟اگر ہمیں علم نہ ہو کہ مرچنٹ کا کام کس نوعیت کا ہے حلال ہے یا حرام اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟یونہی اگر مرچنٹ ہماری سروس استعمال کرکے آگے کسی اور کو یہ سہولت دے اور وہ دوسرا غیر شرعی کام کررہا ہوتو کیا اس صورت میں ہماری کمپنی کی طرف سے اسے سروس دینا جائز ہوگا یا نہیں؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: فراز: گلشن حبیب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اس بارے میں شریعت کا اصول ذہن میں رکھئیے کہ ہر وہ کام کرنا جائز ہے کہ معصیت(گناہ) جس کی ذات کے ساتھ قائم نہ ہو ،اور اس کام کو انجام دینے والاشخص اس کام سے تعاون علی الاثم(گناہ پر مدد) کی نیت نہ کرے۔ ورنہ یہ ناجائز ہوگا۔ اور اگر معصیت اسکی ذات کے ساتھ قائم ہو تو یقینا وہ کام کرنا حرام ہے۔
لہذا اب اگر مرچنٹ کے بارے میں علم نہ ہو کہ اسکا کام کس نوعیت کا ہے سودی یا غیر سودی، حرام یا حلال یا اسکا کام مخلوط ہو کہ ہر طرح کا جائز ناجائز کام ہوتا ہو تو ان صورتوں میں چونکہ معصیت بعینہ قائم نہیں ہے لہذا ایسی مرچنٹ کو اپنی سروسز فراہم کرنا بے شک جائز و حلال ہے۔البتہ اگر کسی مرچنٹ کے بارے میں یقینی طور پر علم ہو کہ اس مرچنٹ کا کام خالصتاً حرام یا سودی ہے اور اسکے علاوہ کوئی کام نہ ہو تو ایسے مرچنٹ کو اپنی سروسزفراہم کرنا بے شک ناجائز و حرام ہوگا کہ اس صورت میں اس کام کے ساتھ معصیت قائم ہوچکی ہے۔ یونہی اگر مرچنٹ آگے کسی اور کو یہ سہولت دے تو اسکا تعلق آپ سے نہیں ہے۔
تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے :لَا تَصِحُّ الْإِجَارَةُ لِأَجْلِ الْمَعَاصِي مِثْلُ الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ وَالْمَلَاهِي۔ترجمہ:گناہ کے کاموں پر اجارہ کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ گانا گانے ،نوحہ کرنے اور لھوو لعب کے کاموں پر اجارہ کرنا ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الاجارۃ ،مطلب الاجارۃ علی المعاصی،ج: 6،ص55، طبع : دارالفکر )
ہدایہ شرح بدایہ میں ہے: لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد۔ ترجمہ:کیونکہ یہ معصیت(گناہ) پر اجارہ ہے اور عقدِ معصیت کے سبب اجارہ کا استحقاق ثابت نہیں ہوتا۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، باب الاجار ۃ الفاسدۃ ، جلد 3 ص 238۔ بیروت)
یوں ہی البحر الرائق میں ہے:لِأَنَّ الْمَعْصِيَةَ لَا يُتَصَوَّرُ اسْتِحْقَاقُهَا بِالْعَقْدِ فَلَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْأُجْرَةُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْتَحَقَّ عَلَيْهِ۔ترجمہ: کیونکہ معصیت کا استحقاق عقدِ اجارہ کے سبب متصور نہیں ہوتا، توبغیر استحقاق کے اسکی اجرت بھی لازم نہ ہوگی۔(البحر الرائق شرح کنزالدقائق،باب اخذ اجرۃ الحمام، جلد8 ص 23)
الدر المختار میں ہے :وَقَدَّمْنَا ثَمَّۃَ مَعْزِیًّا لِلنَّہْرِ أَنَّ مَا قَامَتْ الْمَعْصِیَۃُ بِعَیْنِہِ یُکْرَہُ بَیْعُہُ تَحْرِیمًا وَإِلَّا فَتَنْزِیہًا. فَلْیُحْفَظْ.ترجمہ: اور ہم نے پیچھے نہرالفائق کی نسبت سے بیان کیا کہ جس چیز کے ساتھ معصیت بعینہ قائم ہو اسکی بیع( خرید و فروخت ) مکروہ تحریمی (یعنی حرام )ہے ورنہ ( یعنی اگراس چیز کے ساتھ معصیت بعینہ قائم نہ ہو تو) مکروہ تنزیہی ہے ۔( الدر المختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع جلد 9ص561)
کس عین کے ساتھ معصیت قائم ہوتی ہے کس کے ساتھ نہیں ہوتی ؟یہ ایک مشکل امر ہے جیسا کہ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ نے فرمایا: "نَعَمْ عَلَى هَذَا التَّعْلِيلِ الَّذِي ذَكَرَهُ الزَّيْلَعِيُّ يُشْكِلُ الْفَرْقُ بَيْنَ مَا تَقُومُ الْمَعْصِيَةُ بِعَيْنِهِ وَبَيْنَ مَا لَا تَقُومُ بِعَيْنِهِ، فَإِنَّ الْمَعْصِيَةَ فِي السِّلَاحِ وَالْمُكَعَّبِ الْمُفَضَّضِ وَنَحْوِهِ إنَّمَا هِيَ بِفِعْلِ الشَّارِي فَلْيُتَأَمَّلْ فِي وَجْهِ الْفَرْقِ فَإِنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ لِي وَلَمْ أَرَ مَنْ نَبَّهَ عَلَيْهِ".ترجمہ: ہاں اس تعلیل کی بنا پر جسے امام زیلعی نے ذکر کیا ہے یہ اس فرق میں اشکال پیدا کرتا ہے جو اس کے درمیان میں ہے جس کے عین کے ساتھ معصیت قائم ہوتی ہے اور جس کے عین کے ساتھ معصیت قائم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اسلحہ اور چاندی کے کام والے جوتے وغیرہ کی بیع میں معصیت یہ خریدنے والے کے فعل سے ہوتی ہے۔پس فرق کی وجہ میں غور کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ معاملہ میرے لیے ظاہر نہیں ہوا اور نہ ہی میں نے کسی کو دیکھا جو اس پر متنبہ ہوا۔(رد المحتار، 6/392،دار الفكر)
یعنی آپ علیہ الرحمہ نے فرمایاکہ اسلحہ اور چاندی کے کام والے جوتے کی بیع مکروہ تحریمی ہے حالانکہ یہاں بھی معصیت عین میں نہیں پائی گئی بلکہ خریدار کے فعل میں پائی گئی ، لہذا ان دو جزئیات کا بقیہ مسائل سے حکم شرع میں فرق کس وجہ سے ہے ؟اس پر غور ہونا چاہئے۔بحمد اللہ تعالی امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن نے ہمارے لئے یہ مسئلہ بھی حل فرمادیا، آپ علیہ الرحمہ جدّ الممتار میں فرماتے ہیں: الذي يظهر لي أنّ الشيء إذا صلح في حدّ ذاته لأن يستعمل في معصية وفي غيرها ولم يتعيّن للمعصية فلم يكن بيعه إعانةً عليها؛ لاحتمال أن يستعمل في غير المعصية، وإنما يتعين ذلك بقصد القاصدين والشك لا يؤثر، وغلبة الظن في أمثال المقام ملتحق باليقين، والتغيير لكونه فعل فاعل مختار يقطع النسبة. إذا تمهد هذا، فاعلم أن معنى ما تقوم المعصية بعينه أن يكون في أصل وضعه موضوعة للمعصية أو تكون هي المقصودة العظمى منه، فإنه إذا كان كك يغلب على الظن أن المشتري إنما يشتريه لاتيان المعصية؛ لأن الأشياء إنما تقصد الاستمتاع بها، فما كان مقصوده الأعظم تحصيل معصية - معاذ الله تعالى - كان شراؤه دليلاً واضحاً على ذلك القصد فيكون بيعه إعانة على المعصية لما علمت من التعين بقصد القاصد وكذلك ما لم يكن موضوعاً لذلك بعينه ولا ما هو المقصود الأعظم منه لكن قامت قرينة ناصّة على أنّ مقصود هذا المشتري إنما يستعمله معصية..( مثلا لو باع عصير عنب ممن يعلم).. أنه يتخذه خمرًا؛ لأنه ليس موضوعاً للمعصية وقصد المشتري كان معيناً للعصيان، لكن الاحتياج إلى التغيير...(هنا بياض)... وكذا بيع الجارية المعنية، فإن الجارية للاستخدام والافتراش والغناء فلم تكن المعصية هي المقصودة، وكذا الكبش يكون للنسل وللأكل، وكذا الحمامة للاستئناس والأكل وكذا الخشب للإيقاد واصطناع السرير والمعازف بخلاف بيع المكعب المفضّض فإن.. (هنا بياض).. وضعه إنما هو للبس لا غير وهو المقصود الأعظم منه وفيه المعصية فيكره بيعه... وبخلاف بيع السلاح من أهل الفتنة - يعني في أيام الفتنة كما قيد به في "الهداية - فإنّه وإن لم يكن موضوعاً للمعصية لكن المشتري من أهل الفتنة دليل واضح على أنه إنما يشتري ليقاتل بها أهل العدل مع عدم الحاجة في إتيان المعصية أيَّ تغيير يقطع النسبة فيكره بيعه أيضاً.بقي النظر في بيع الأمرد ممن يلوط به ومثله الجارية ممن يأتيها دبرها فمن أدى نظره إلى أنّ اعتياد المشتري باللواطة والإتيان في الأدبار قرينة واضحة على قصد المعصية حتى يغلب على الظنّ أنّه لا يشتري إلا لذلك، حُكم بالكراهية قياساً على مسألة السلاح وهم أكثر أصحاب من الفتاوى أدى نظره إلى..... (هنا بياض).... كالسلاح في تهيؤة للمعصية من دون حاجة إلى التغير وفي كون المشتري ممن يقصدون المعاصي ويأتون تلك الأبواب؛ لأنه فارق الأسلحة بقيام قرينة أخرى تَمَرُّاً وجبت باجتماعها مع ما مرّ غلبة الظنّ بقصد العصيان أعني: كون الأيام أيام الطغيان وليس هاهنا ما يقوم مقامه فلا تحصل غلبة الظنّ، ألا ترى! أنه لو باع السلاح من أهل الفتنة في غير أيامها أو في أيامها من غير أهلها جاز فكذا هذا، والله تعالى أعلم، وعليك بالتدبّر".ترجمہ: میرے لیے جو ظاہر ہوا وہ یہ کہ جب کوئی چیز اپنی ذات کے اعتبار سے معصیت اور غیر معصیت دونوں میں مستعمل ہوسکے اور معصیت کے لیے متعین نہ ہو تو اس کی خرید و فروخت گناہ پر اعانت نہیں کیونکہ احتمال موجود ہے کہ وہ غیر معصیت میں استعمال ہو اور اس کا معصیت کیلئے متعین ہونا قاصد کے قصد سے ہوگا اور اس میں شک مؤثر نہیں ہوگا اور ایسے مسائل میں غلبہ ظن یقین سے ملحق ہوتا ہے۔تغییر کیونکہ فاعل مختار کا فعل ہے اس لئے یہ بھی بائع سے معصیت کی نسبت کو منقطع کر دے گا۔جب یہ تمہید سمجھ آگئی توجان لو کہ جس کسی چیز کے ساتھ معصیت بعینہ قائم ہو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ چیز اصل وضع میں ہی معصیت کے لئے موضوع ہو یا پھر اس چیز سے بڑا مقصد ہی یہ معصیت ہو کیونکہ اگر معاملہ ایسا ہو تو غلبہ ظن یہ ہوگا کہ خریدار نے یہ چیز گناہ کرنے کے لیے ہی خریدی ہے کیونکہ اشیاء کا مقصد ان سے فائدہ ہی اٹھانا ہوتا ہے تو جس شخص کا مقصود اعظم ہی گناہ کا ارتکاب ہو معاذ اللہ تو اس کی خرید اس گناہ کے قصد پر واضح دلیل ہوگی لہذا ایسے شخص کو یہ چیز بیچنا گناہ پر اعانت ہوگی اس تعین کی وجہ سے جو تجھے قصد قاصد سے معلوم ہوئی۔اسی طرح جو چیز بعینہ گناہ کے لیے موضوع نہ ہو نہ ہی اس کا مقصود اعظم گناہ ہو لیکن کوئی ایسا واضح قرینہ پایا جائے کہ اس خریدار کا مقصد یہ ہے کہ یہ اسے گناہ کے لیے استعمال کرے گا مثلاً انگور کا شیرہ اس شخص کو بیچنا جو اس سے شراب بنائے گا، کہ یہ شیرہ معصیت کے لئے موضوع نہیں لیکن مشتری کا قصد اس گناہ کو معین کر دے گا البتہ معصیت کے حصول کیلئے تغییر کی طرف احتیاج ہوگی۔اسی طرح مغنیہ باندی کی بیع کہ باندی خدمت حاصل کرنے، فراش بنانے اور گانا گانے کے لئے موضوع ہے لہذا اس سے صرف گناہ ہی مقصود نہیں،تو ایسی لونڈی خریدنے سے مقصود معصیت نہیں ہو گی۔اسی طرح مینڈھا نسل حاصل کرنے اور گوشت کھانے کے لئے ہوتاہے، کبوتر انسیت حاصل کرنے اور کھانے کے لئے ہوتا ہےاورلکڑی جلانے ،چار پائی بنانے اور آلاتِ لہو ولعب بنانے کے لئے ہوتی ہے۔(لہذا ان سب کی بیع جائز ہے)برخلاف چاندی کے کام والے جوتے کی بیع کے کہ اس کی وضع ہی پہننےکے لئے ہوتی ہے، نہ کہ کسی اور کام کے لیے اور اس سے مقصودِ اعظم بھی پہننا ہی ہوتا ہے،درآں حال یہ کہ اسے پہننے میں معصیت ہے،لہذا اس کی بیع مکروہ ہے۔برخلاف فتنہ و فساد پھیلانے والے لوگوں کو اسلحہ کی بیع یعنی ايام فتنہ میں جیسا کہ اسے ’’الہدایہ ‘‘میں مقید کیا گیا کہ اگرچہ اسلحہ معصیت کے لئے وضع نہیں کیا گیا لیکن خریدار کا اہل فتنہ میں سے ہونا اس بات پر واضح دلیل ہے کہ وہ اسے خریدے گا تاکہ اس کے ذریعے اہل عدل سے قتال کرے مزید یہ کہ معصیت کے ارتکاب میں کسی ایسی تبدیلی کی حاجت بھی نہیں جو بائع سے نسبت ِعمل منقطع کردے لہذا اس کی بھی بیع مکروہ ہے۔باقی رہا معاملہ امرد غلام کی بیع اس شخص کے ہاتھوں جو اس سے لواطت کرے اور اسی کے مثل باندی کی بیع اس شخص کے ہاتھوں جو اس کے دبر میں آئے تو جن اصحاب کی نظر اس طرف گئی کہ مشتری کی لواطت یا دُبر میں آنے کی عادت گناہ کے ارتکاب پر واضح قرینہ ہے حتی کہ ظن غالب ہو جائے کہ وہ صرف اسی کام کے لئے اسے خریدے گا تو ان اصحاب نے اسلحہ والے مسئلے پر قیاس کرتے ہوئے کراہت کا قول کیا ان کی نظر اس طرف گئی ۔۔۔۔جیسے معصیت کی تیاری میں اسلحہ بنانا بغیر کسی تغییر کی حاجت کے اور یوں ہی ان خریدار کے معاملے میں جو کہ گناہ کا قصد کرتے ہیں اور ان کاموں پر آتے ہیں۔کیونکہ یہ( امرد و باندی کی بیع )اسلحہ( والے مسئلہ) سے ایک اور قرینہ کی وجہ سے جدا ہے اور گزشتہ بات کے ساتھ مل کر اس سے یہ غلبہ ظن لازم آتا ہے کہ مشتری کاقصد گناہ کا ہے۔یعنی وہ ایام باغیوں کی سرکشی کے ایام ہوں جبکہ یہاں ( امرد و باندی کی بیع میں) کوئی قرینہ نہیں جو اس(اسلحہ والے مسئلہ) کے قائم مقام ہو لہذا غلبہ ظن حاصل نہیں ہوگا ، کیا غور نہیں کرتے کہ اگر اسلحہ کی فروخت اہل فتنہ کو ان ایام سرکشی کے علاوہ میں ہو یا اہل فتنہ کو نہ ہو تو یہ بیع جائز ہے اسی طرح یہاں(امرد و باندی کی بیع ) ہے ، واللہ تعالی اعلم۔اس مسئلہ میں تجھ پر غور کرنا لازم ہے۔ (جد الممتارعلی رد المحتار،7/75-77،دار الکتب العلمیۃ)
آپ علیہ الرحمہ کی عبارت سے یہ مستفاد ہوا کہ اصل غلبہ ظنّ ہے۔امرد اور باندی کی بیع والے مسئلے میں غلبہ ظن کی صورت یہ ہے کہ مشتری کا ان افعال کا عادی ہونا غلبہ ظنّ ہےاور اسلحہ والے مسئلے میں غلبہ ظنّ کی صورت یہ ہے کہ (۱) ایام فتنہ ہوں(۲)اہل فتنہ ہوں۔ ان دو صورتوں کا ایک ساتھ ہونا غلبہ ظنّ کو لازم کرے گااسی لئے آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اگر اسلحہ کی فروخت اہل فتنہ کو ان ایام سرکشی کے علاوہ میں ہو یا اہل فتنہ کو نہ ہو تو یہ بیع جائز ہے۔ہاں اگر کسی چیز کا استعمال معصیت یا غیر معصیت میں برابر ہو اور معصیت کے لیے متعین نہ ہو تو اس کی بیع گناہ پر اعانت نہیں۔
اعلی حضرت رحمہ اللہ نے معصیت کے تعیین کی متعدد صورتیں بیان فرمائی:
1: چیز اصل وضع ہی میں معصیت کیلئے موضوع ہو۔
2: چیز اصل وضع میں تو معصیت کیلئے موضوع نہ ہو لیکن اس سے مقصود اعظم معصیت ہو۔
3:چیز نہ تو اصل وضع میں معصیت کیلئے موضوع ہو نہ ہی اس سے مقصود اعظم معصیت ہو لیکن کوئی ایسا واضح قرینہ پایا جائے کہ خریدار کا مقصد معصیت ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: رمضان المبارک 1446ھ/ 06 مارچ 2024 ء