تکفین و تدفین کے احکام
    تاریخ: 7 مارچ، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 982

    سوال

    (۱) کیا مسلمان مرد میت کو دفناتے ہوئے ( عمامہ / پگڑی ) پہنا سکتے ہیں؟

    (۲) جس قبرستان میں مزید تدفین کی گنجائش نہ ہو تو پھر بھی میت کے وارثوں کے اصرار اور خواہش پر کسی دوسری میت کو نکال کر دفنانا،کیا شرعی حکم رکھتا ہے؟ جبکہ دیگر قبرستانوں میں دفنانے کی جگہ بھی ہولیکن وارثوں کا اپنی سہولت اور خواہش کو ترجیح دینا کیسا ہے؟

    (۳) پیشگی کفن اور تدفین کےلیے قبر کی جگہ مختص کرنا کیسا ہے ؟

    سائل: محمد احمد حسان ، گلشن اقبال کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱) علماء و مشائخ کے سر پر ان کی عزت و تکریم لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے کیلئے انتقال کے بعد عمامہ باندھنے کو علماءِ متاخرین نے مستحسن قرار دیا ہے، لیکن عوام الناس کے سر پر عمامہ باندھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔ کفن کے معاملے میں بھی سنتِ نبوی کی اتباع کا حکم ہے، لہٰذا مسنون کفن پر ہی اکتفا کرنا چاہیے۔ اس کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کفن کے کپڑوں کی تعداد سنت کے مطابق طاق رہے، کیونکہ عمامہ ملانے سے یہ تعداد جفت ہو جاتی ہے۔

    (۲) کسی اور مردہ کی قبر کو ختم کر کے اس میں کسی دوسرے کو دفن کرنا ناجائز، سخت گناہ اور اللہ کے حق کی وجہ سے حرام ہے۔ اس میں صاحبِ قبر کی سخت بے حرمتی اور اس کو تکلیف دینا ہے، کیونکہ جس عمل سے زندوں کو ایذا ہوتی ہے اس سے مردہ بھی ایذا پاتے ہیں۔ جب قبر پر چلنا، پاؤں رکھنا، اس پر بیٹھنا یا اس پر راستہ بنانا جائز نہیں، تو اس کو ختم کر کے اس میں کسی اور کی تدفین کیونکر جائز ہو سکتی ہے؟ قبر چاہے بچے کی ہو یا بڑے کی، مرد کی ہو یا عورت کی، اسے کھول کر دوسرا مردہ دفن کرنا حرام ہے۔ اگرچہ میت مٹی ہی کیوں نہ ہو گئی ہو، بلا ضرورتِ شدیدہ اس کی قبر کھود کر دوسرے کا دفن کرنا ہر گز جائز نہیں، کیونکہ میت کی عزت و تکریم اب بھی باقی ہے۔ وارثوں کا محض اپنی سہولت یا آباؤ اجداد کے پاس دفنانے کی خواہش کی خاطر کسی قبر کو اکھاڑنا محض ناجائز و حرام ہے، خصوصاً جب دوسرے قبرستانوں میں جگہ موجود ہو۔ البتہ زمین کی انتہائی تنگی یا کثرتِ اموات جیسی شدید حاجت کے وقت ایک ہی قبر میں ایک سے زائد میتوں کو دفن کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

    (۳) زندگی میں اپنے لیے کفن تیار کروا لینے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اگر کوئی متبرک کپڑا (مثلاً آبِ زمزم سے دھلا ہوا یا کعبہ شریف سے مس شدہ) اس مقصد کیلئے رکھتا ہے تو یہ مستحسن ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بھی اپنی زندگی میں کفن تیار رکھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ البتہ بعض اوقات کفن کیلئے رکھے ہوئے متبرک کپڑے کو برسوں گھر میں رکھا جاتا ہے، جس کے سبب وہ کپڑا بوسیدہ ہو جاتا اور اُس کی رنگت میں پیلاہٹ پیدا ہو جاتی ہے، حالانکہ میت کا کفن صاف ستھرا اور اُجلا ہونا شریعت کو مطلوب اور مسلمان میت کی کرامت وعزت کے زیادہ لائق ہے، یعنی میت کو کفن ایسا اُجلا اور صاف دیا جائے کہ جیسا کپڑا وہ عید کی نماز کیلئے زیبِ تَن کرتا تھا۔ لہٰذا اس کیفیت سے بچنے کیلئے اسے دھو لینا چاہیے۔

    جہاں تک زندگی میں ہی اپنے لیے قبر تیار رکھنے کا تعلق ہے، تو اسے فقہاء کرام نے بے معنی اور مکروہ قرار دیا ہے، کیونکہ انسان کو معلوم نہیں کہ اسے موت کس زمین پر آئے گی؛ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ"۔ تاہم اگر کوئی پہلے سے قبر کھود کر رکھتا ہے تو یہ قطعاً ناجائز بھی نہیں کیونکہ اکابرین سے یہ بھی ثابت ہے۔ البتہ وقفی قبرستان میں اگر کسی نے قبر تیار کرائی ہو تو کسی دوسرے کی تدفین وہاں اس صورت میں جائز ہوگی جب جگہ کی تنگی ہو، ورنہ بلا اجازت ایسا کرنا مکروہ ہے، اور اگر کر دی جائے تو قبر تیار کرنے والے کو اس کا خرچہ ادا کرنا ہوگا۔

    دلائل و جزئیات:

    فقہائے ہند نے ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں کفن میں عمامہ کے متعلق ظاہر روایت اور متاخرین کا قول نقل فرمایا: "وليس في الكفن عمامة في ظاهر الرواية وفي الفتاوى استحسنها المتأخرون لمن كان عالما ويجعل ذنبها على وجهه بخلاف حال الحياة، كذا في الجوهرة النيرة".ترجمہ: ظاہر روایت کے مطابق کفن میں عمامہ نہیں، اور فتاویٰ میں ہے کہ متاخرین نے عالم کیلئے عمامہ کو مستحسن کہا ہے اور برخلاف حالتِ حیات کے اس کا شملہ (دفن کے وقت) چہرے پر رکھا جائے گا، جیسا کہ جوہرہ نیرہ میں ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، 1/160، دار الفکر)

    کفن میں عمامہ کی کراہت کی وجہ بیان کرتے ہوئے سید احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوی الحنفی (المتوفی:1231ھ) نے فرمایا: "تکرہ العمامة لأنها لم تکن في کفن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم... وخصه في الظہیریة بالعلماء والأشراف دون الأوساط".ترجمہ: عمامہ ہونا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کفن مبارک میں نہ تھا... اور ظہیریہ میں اس کے مستحسن ہونے کو علماء و اشراف کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، نہ کہ عوام کے لیے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص: 577)

    کفنِ سنت کی تعداد کے متعلق علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے مزید فرمایا: "فالسنة هي الثلاث ومخالفتها تکرہ تنزیہا".ترجمہ: پس سنت تین کپڑے ہیں اور اس کی مخالفت (تعداد میں) مکروہِ تنزیہی ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، 1/ 369)

    علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے میت کیلئے عمامہ کی کراہت سے متعلق بدائع الصنائع کا ایک اور سبب نقل فرمایا: "لأنها لو فعلت لصار الکفن شفعا والسنۃ أن یکون وترا".ترجمہ: (کفن میں عمامہ کی کراہت کی ایک وجہ یہ بھی ہے) کہ اگر عمامہ شامل کیا جائے تو کفن کے کپڑے جفت ہو جائیں گے، جبکہ سنت یہ ہے کہ کفن طاق ہونا چاہیے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 577)

    کفن میں عمامہ کے متعلق صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے فرمایا:”کفنی (کفن) میں عمامہ ہونا علماء و مشائخ کیلئے جائز، عوام کیلئے مکروہ ہے“۔ (فتاویٰ امجدیہ، 1/327، مطبوعہ دھلی)

    فقہائے ہند نے ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ایک ہی قبر میں ایک سے زائد اموات کو دفن کرنے کے متعلق فرمایا: "ولا يدفن اثنان أو ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة".ترجمہ: دو یا تین مردوں کو ایک ہی قبر میں دفن نہیں کیا جائے گا مگر ضرورت کے وقت (یعنی جب زمین کی تنگی یا کثرتِ اموات جیسی شدید حاجت ہو)۔ (الفتاوى الہندیۃ، كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، 1/166، دار الفکر، بیروت)

    قبر سے نکالنے کی ممانعت میں علامہ حسن بن عمار الشرنبلالی الحنفی(المتوفی:1069ھ) فرماتے ہیں: "(ولا يخرج) الميت (منه) ای القبر يعنی بعدما اهيل عليه التراب للنهی الوارد عن نبشه كما فی التبيين وقال فی البحر صرحوا بحرمته".ترجمہ: قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد میت کو قبر سے نکالنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ قبر کو کھودنے کی ممانعت وارد ہے اور بحر الرائق میں فرمایا کہ ایسا کرنا حرام ہے۔ (حاشیہ شرنبلالی مع درر الحکام ،باب الجنائز،1 / 167، دار إحياء الكتب العربية)

    علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں: "النبش حرام حق اللہ تعالیٰ".ترجمہ: قبر کھودنا (میت نکالنے کے لیے) اللہ پاک کے حق کی وجہ سے حرام ہے۔ (بدائع الصنائع، 2/55، مطبوعہ کوئٹہ)

    قبر پر چلنے سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "لأن أمشي على جمرة، أو سيف، أو أخصف نعلي برجلي، أحب إلي من أن أمشي على قبر مسلم، وما أبالي أوسط القبور قضيت حاجتي، أو وسط السوق".ترجمہ: میرا انگارے یا تلوار پر چلنا، یا اپنے جوتے کو اپنے پاؤں سے سی لینا (یعنی سوئی کا پاؤں میں چبھ جانا) مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔ اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں قبروں کے درمیان قضائے حاجت (پاخانہ پیشاب) کروں یا بازار کے بیچوں بیچ (یعنی دونوں کام یکساں طور پر انتہائی ناپسندیدہ اور قبیح ہیں)۔ (سنن ابن ماجہ ، باب ما جاء فی النہی عن المشی علی القبور، 1/499، رقم الحدیث: 1567، دار إحياء الكتب العربية)

    قبر کی حرمت کے متعلق جلیل القدر صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشارہ ہے: "لأن أطأ على جمرة أحب إلي من أن أطأ على قبر مسلم".ترجمہ: بے شک مجھے آگ کے انگارے پر پاؤں رکھنا زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھوں۔ (الترغیب والترہیب، 4/372، بحوالہ طبرانی کبیر)

    ایک قبر میں دوسری میت کو دفن کرنے کے متعلق علامہ عالم بن علاء الدین الاندریتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وإذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره لأن الحرمة باقية".ترجمہ: جب میت قبر میں مٹی ہو جائے، تب بھی کسی دوسرے کو اس قبر میں دفن کرنا مکروہ ہے، کیونکہ میت کی عزت و تکریم اب بھی باقی ہے۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، 3/75، مطبوعہ ھند)

    بلا ضرورت قبر کھودنے کی ممانعت کے بارے میں امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے فرمایا:”میت اگرچہ خاک ہوگیا ہو، بلا ضرورتِ شدیدہ اس کی قبر کھود کر دوسرے کا دفن کرنا، جائز نہیں “۔ (فتاویٰ رضویہ، 9/390، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    ہڈیاں نکلنے کے باوجود پرانے گورستان میں دفن کرنے کے سوال پر سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:”صورتِ مذکورہ محض ناجائز و حرام ہے“۔ (فتاویٰ رضویہ، 9/386، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    قبروں کی بے حرمتی اور ان پر مکان بنانے کی ممانعت کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:’’جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے اور اس سے تکیہ لگانے اور مقابر میں جوتا پہن کر چلنے والوں کو منع فرمایا اور علماء نے اس خیال سے کہ قبور پر پاؤں نہ پڑے، گورستان میں جو راستہ جدید نکالا گیا ہو، اس میں چلنے کو حرام بتایا اور حکم دیا کہ قبر پر پاؤں نہ رکھیں، بلکہ اس کے پاس نہ سوئیں، سنت یہ ہے کہ زیارت میں بھی وہاں نہ بیٹھیں، بلکہ بہتر یہ ہے کہ بلحاظِ ادب پاس بھی نہ جائیں، دور ہی سے زیارت کر آئیں۔ اور تصریح فرمائی کہ مسلمان زندہ و مردہ کی عزت برابر ہے اور جس بات سے زندوں کو ایذا پہنچتی ہے مُردے بھی اس سے تکلیف پاتے ہیں اور انہیں تکلیف دینا حرام، تو خود ظاہر ہوا کہ یہ فعل مذکور فی السوال کس قدر بے ادبی و گستاخی و باعثِ گناہ اور استحقاقِ عذاب ہے۔ جب مکان سکونت بنایا گیا تو چلنا پھرنا، بیٹھنا لیٹنا، قبور کو پاؤں سے روندنا، ان پر پاخانہ، پیشاب، جماع سب ہی کچھ ہوگا اور کوئی دقیقہ بے حیائی اور امواتِ مسلمین کی ایذا رسانی کا باقی نہ رہے گا‘‘۔ (فتاوٰی رضویہ، 9/453، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    قبروں کو مسمار کر کے مسجد بنانے کی ممانعت کے متعلق اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے فرمایا:”یہ حرکتِ شنیعہ ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناجائز و حرام ہے۔ توہینِ قبورِ مسلمین ایک اور قبور پر نماز کا حرام ہونا دو۔ کہاں قبر کی بلندی کہ حدِ شرعی سے زائد ہو اس کے دور کرنے کا حکم اور کہاں یہ کہ قبورِ مسلمین مسمار کر کے ان پر چلیں، اموات کو ایذا دیں“۔ (فتاویٰ رضویہ، 9/428، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    زندگی میں کفن کی تیاری سے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ’’صحیح‘‘ پر باب قائم فرمایا: باب من استعد الكفن في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فلم ينكر عليه (جس نے کفن تیار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر انکار نہ فرمایا)، اور روایت لائے:" عن سهل رضي الله عنه... إني والله، ما سألته لألبسه، إنما سألته لتكون كفني، قال سهل: فكانت كفنه". ترجمہ: حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (کہ جب لوگوں نے ایک صحابی کو ٹوکا کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چادر کیوں مانگی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ): اللہ کی قسم! میں نے یہ چادر پہننے کیلئے نہیں مانگی، بلکہ میں نے تو یہ اس لیے مانگی ہے تاکہ یہ میرا کفن بنے۔حضرت سہل فرماتے ہیں: چنانچہ (بعد میں) وہی چادر ان کا کفن بنی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1277، دار طوق النجاۃ)

    شارحِ بخاری علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ نے زندگی میں کفن تیار کرنے کے جواز پر فرمایا: "استفيد من ذلك جواز تحصيل ما لا بد للميت منه من كفن ونحوه في حال حياته".ترجمہ: اس سے میت کیلئے ضروری اشیاء مثلاً کفن وغیرہ کو زندگی میں ہی تیار کرلینے کا جواز ثابت ہو رہا ہے۔ (عمدۃ القاری، 8/61، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

    زندگی میں کفن تیار کرنے کی مصلحت کے بارے میں علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی ﷫ (المتوفی: 1088ھ) نے فرمایا: "والذي ينبغي أنه لا يكره تهيئة نحو الكفن لأن الحاجة إليه تتحقق غالبا".ترجمہ: وہ افعال جنہیں مکروہ نہیں ہونا چاہیے، ان میں سے ایک زندگی میں کفن تیار کر لینا بھی ہے کیونکہ اس کی حاجت پڑ جانا تقریباً یقینی ہوتا ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، 3/183، کوئٹہ)

    زندگی میں کفن اور قبر کی تیاری کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”کفن پہلے سے تیار رکھنے میں حرج نہیں اور قبر پہلے سے بنانا نہ چاہیے کما فی الدر المختار وغیرہ۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ﴾ (اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا) “۔ (فتاویٰ رضویہ، 9/265، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:”اپنے لئے کفن تیار رکھے تو حرج نہیں اور قبر کھودوا رکھنا بے معنی ہے کیا معلوم کہاں مریگا“۔ (بہارِ شریعت، 1/847، مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    کفن کے معیار کے متعلق صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے فرمایا:”کفن اچھا ہونا چاہیے یعنی مرد عیدین و جمعہ کیلئے جیسے کپڑے پہنتا تھا اور عورت جیسے کپڑے پہن کر میکے جاتی تھی اس قیمت کا ہونا چاہیے“۔ (بہارِ شریعت، 1/818، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

    قبر کھود رکھنے کا حکم میں علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی ﷫ (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "ويحفر قبرا لنفسه، وقيل يكره".ترجمہ: اپنے لیے قبر کھودنے میں حرج نہیں اور کہا گیا کہ مکروہ ہے۔ (الدر المختار، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی زیارۃ القبور، 2/244، دار الفکر)

    خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "وفي التتارخانية: لا بأس به، ويؤجر عليه، هكذا عمل عمر بن عبد العزيز والربيع بن خيثم وغيرهما".ترجمہ: تاتارخانیہ میں ہے کہ اس میں حرج نہیں اور اس پر اجر ملے گا، اسی طرح عمر بن عبدالعزیز اور ربیع بن خیثم وغیرہم نے بھی کیا۔ (الدر المختار، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی زیارۃ القبور، 2/244، دار الفکر)

    وقفی قبرستان میں دوسرے کی تیار کردہ قبر کے متعلق صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے فرمایا:”وقفی قبرستان میں کسی نے قبر طیار کرائی اس میں دوسرے لوگ اپنا مردہ دفن کرنا چاہتے ہیں اور قبرستان میں جگہ ہے تو مکروہ ہے اور اگر دفن کردیا تو قبر کھودوانے والا مردہ کو نہیں نکلوا سکتا، جو خرچ ہوا ہے لے لے“۔ (بہارِ شریعت، 1/847، مکتبۃ المدینہ، کراچی)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27 شعبان المعظم 1447ھ/16 فروری 2026ء