عورتوں کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنا کیسا؟
    تاریخ: 22 نومبر، 2025
    مشاہدات: 62
    حوالہ: 208

    سوال

    عصرِ حاضر میں عورت کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مثلاً ٹک ٹاک پر آکر تبلیغ و دینی تعلیم دینا، نعت شریف پڑھنا، اپنی ویڈیوز (خواہ پردے کے ساتھ ہوں یا بلاپردہ) بنا کر شیئر کرنا یا اپنی تصاویر اپلوڈ کرنا شریعت کی رُو سے کیسا ہے؟ اورعورت کے لئے پردے کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح مرد و زن کا غیر محرم ہونے کے باوجود محفلِ میلاد یا کسی اور نشست میں بیٹھ کر دینی یا دنیاوی موضوعات پر گفتگو کرنا ، آپس میں گپ شپ کرنا یا فون پر بات چیت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ مزید یہ کہ عورت کا مردوں کی مجلس میں بیٹھ کرنعت یا تقریر سنانا کس حد تک درست ہے اور عورت کی آواز کا کیا حکم ہے؟

    سائل:عبداللہ:کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    : عورتوں کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال کا حکم:

    شریعتِ مطہرہ نے عفت و حیا، ستر و عصمت اور حجاب و وقار کو عورت کے لیے بنیادی وصف قرار دیا ہے، کیونکہ عورت نمائش نہیں بلکہ پردے کی چیز ہے، اور یہی اس کا اعزاز و شرف ہے اسی بنا پر ایک طرف مردوں کو غضِّ بصر کا حکم دیا گیا ہے تو دوسری طرف عورتوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود کو نامحرم مردوں کی نگاہوں سے بچائیں، حتی الامکان گھر کی چار دیواری میں رہیں، اور اگر ضرورت کے باعث باہر نکلیں تو پورے پردے کے ساتھ نکلیں، نیز ایسے طریقے اختیار نہ کریں جو توجہ کا باعث بنیں، جیسے خوشبو لگانا، جھنکار والے زیورات پہننا یا راستے کے درمیان سے چلنا، بلکہ کنارے سے گزریں۔لہٰذا ہر وہ صورت جس میں زینت کا اظہار، فتنہ کا اندیشہ یا غیرمَحرَم سے تعلق کا دروازہ کھلے وہ شریعت اسلامیہ میں ممنوع اور ناجائز ہے۔ پھرچونکہ عصرِ حاضر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمزمثلاً ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام وغیرہا پنی ساخت کے اعتبار سے نمائش، ظاہریت اور اختلاط کا ماحول رکھتے ہیں۔ وہاں ہر قسم کے نیک و بد، صالح و فاسق اور اوباش لوگ موجود ہوتے ہیں جن کی موجودگی سے فتنہ کا شدید خطرہ لاحق رہتا ہے، اس لیے عورت کا سوشل میڈیا کا آزادانہ استعمال، نامحرم مردوں سے بے تکلفانہ رابطہ رکھنا، اور بلا ضرورت اپنی تصاویریا ویڈیوز خواہ پردے کے ساتھ ہوں یا بغیر پردے کےاپلوڈ کرنا شریعت کے مزاج و فلسفۂ حیا و حجاب کے منافی ہونے کے سبب ناجائز ہے، لہٰذا اس سے بچنا ضروری ہے۔خواہ وہ تصاویر یا ویڈیوز نعت خوانی ، تقاریر یا تبلیغ کے مقاصد کے لئے ہی کیوں نہ ہو، انہیں عام لوگوں، بالخصوص غیرمَحارم مردوں کے سامنے نشر کرنا شرعاً جائز نہیں کہ ان سب سورتوں میں بے حیائی اور فتنے کا قوی اندیشہ موجود ہے۔

    اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى ۔ترجمہ:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔(الاحزاب: 23)

    اسی مقام پر مزید ارشاد ہے: وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ ۔ترجمہ: اور اپنی زینت عیاں نہ کریں۔ (پ18، سورۃالنور،آیت31)

    اسکے تحت تفسیر طبری میں ہے:ای ولا يُظهرن للناس الذين ليسوا لهن بمحرم زينتهنّ۔ترجمہ:یعنی عورتیں ان کے لئے اپنی زینت ظاہر نہ کریں جو انکے محرم نہیں ہیں۔(جامع البیان، جلد 11 ص 255)

    تفسیر بغوی میں ہے:و إِظْهَارُ زِينَتِهِنَّ، وَالتَّبَرُّجُ هُوَ أَنْ تُظْهِرَ الْمَرْأَةُ مِنْ مَحَاسِنِهَا مَا يَنْبَغِي لها أن تستره۔ ترجمہ: زینت کا اظہار یہ ہے کہ عورت اپنے ان محاسن کو ظاہر کرے جنکو چھپانا واجب ہے۔(معالم التنزیل، جلد 3 ص 429)

    نیز اگر اس میں میوزک بھی شامل ہو تو یہ ایک مزید قباحت ہے، اور اس کی ناجائز ہونے کی ایک الگ مستقل وجہ ہے۔

    2:عورت کے پردے کا حکم:

    غیر محارم کےحق میں ان پانچ اعضاءچہرہ،دونوں ہاتھ پہنچوں سمیت ،اور دوونوں پاؤوں کا ظاہری حصہ کےعلاوہ عورت کا تمام بدن ستر (پردہ )ہے ۔ جیسا کہ علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وللحرة جمیعُ بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین علی المعتمد ترجمہ: معتمد قول کے مطابق آزاد عورت کےلیے سارے بدن کا چھپانا فرض ہے ،سوائےچہرے ،ہتھیلیوں اور دونوں پاؤں کے۔(الدر المختار جلد1 صفحہ 405 مطبوعہ : دار الفكر-بيروت)

    جبکہ محارم کے حق میں عورت کا تمام بدن کاستر نہیں ،بلکہ محارم کے لئے عورت کے ستر میں ناف سے لے کر گھنٹے تک ،پیٹ اور پیٹھ شامل ہے۔ یعنی محارم کے سامنے ان پانچ اعضاء کے علاوہ بال، دونوں کان،گردن،گلا، سینہ کا بالائی حصہ ، دونوں ہاتھوں بازووں سمیت اور پنڈلی کھل جائے تو گناہ نہیں ہے۔ کیونکہ محرم کے حق میں ان اعضاء کا پردہ نہیں ہے۔جبکہ محرم ، محرمِ امین ہو یعنی ایسا بے غیرت نہ ہو جسے اپنی محرمات پر شہوت آجائے وگرنہ یہ( کہ جو محرمِ امین نہیں )بھی اجنبی کے حکم میں ہے اور اس سے بھی اتنا ہی پردہ لازم ہے جتناکہ اجنبی سے لازم ہے۔چناچہ الدرالمختار میں ہے:(ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته)۔ ترجمہ:اور محرم یعنی جس سے عورت کو نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہے خواہ نسب کی وجہ سے ہو یا کسی اور سبب سے جیسے زنا ، عورت کے سر، چہرے، سینے کے بالائی حصے، پنڈلی اور بازو کی جانب نظر کرسکتا ہے جبکہ شہوت کا خوف نہ ہو۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار و حاشیہ ابن عابدین شامی، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 6 ص 367)

    اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر محرم کے حق میں بھی ستر وہی ہو جو اجنبی کے حق میں ہے تو اس صورت میں شدید حرج لازم آئے گا

    کیونکہ محرم ہمہ وقت یا اکثر وقت گھر میں موجود رہتے ہیں اور عورتیں انکی موجودگی میں گھر کے کام کاج، صفائی ستھرائی، کھانا پکانا جیسےامورِ خانہ داری انجام دیتی ہیں ، ایسے میں مکمل پردہ کرنے میں جو حرج لازم آئے گا اور پھر کام کرنے میں جو دشواریاں پیش آئیں گی وہ کسی صاحبِ عقل پر مخفی نہیں ہے، یہ بات عقل کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت محمدی کے مزاج کے بھی خلاف ہے جیساکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور اس نے تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ ( الحج: 78)

    رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:الْحَرَجَ مَدْفُوعٌ بِالنَّصِّ،ترجمہ: نص قرآن کی وجہ سے حرج کو دور کیا گیا ہے۔( رد المحتار علی الدرالمختار، باب التیمم جلد 1 ص234)

    پھر فقہ کا قاعدہ ہے:أَنَّ الْأَمْرَ إذَا ضَاقَ اتَّسِعَ۔ ترجمہ: جب کسی معاملے میں تنگی پیدا ہوجائے تو اس میں وسعت کر دی جاتی ہے۔( الاشباہ والنظائز لابن نجیم ص 72)

    3:نا محارم کا باہمی طور پر گفتگو کرنا:

    نامحرم مرد و خواتین کا اختلاط یعنی بلاضرورت ایک ساتھ بیٹھنا، کھانا پینا اور گفتگو کرنابھی ناجائز ہے ، خواہ رُو برُو بالمشافہ بات کی جائےیا کال کے ذریعے ۔کہ اس طرح باہمی طورپر گفتگو کرنا بے تکلفی کا سبب بنے گا جوکہ کئی شرعی خرابیوں پر مشتمل ہے لہذا اسسے احتراز کرنا ضروری ہے۔

    4: عورتوں کا مردوں کی مجلس میں بیٹھ کر نعت یا تقریر سننے کا حکم:

    ا گر اختلاط ہو تو وہی حکم ہے جو بہلے گزرا البتہ اگر عورتوں کے بیٹھنے کی نشست ،مقام اور راستے مردوں کے راستے سے جدا ہوں تو کچھ حرج نہیں بلکہ مستحب اور کارِ ثواب ہے۔

    سیدی اعلیٰ حضرت سے کسی نے عورتوں کی میلاد کی محفل کی شرکت کے بارے میں سوال کیا آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں : واعظ یا میلاد خواں اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اسکا وعظ و بیان صحیح و مطابق شرع ہو ، اور جانے میں پوری احتیاط و مکمل پردہ ہو اور کو ئی احتمال فتنہ نہ ہو اور مجلس رجال سے دور انکی نشست ہو تو کوئی حرج نہیں۔''(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 22 ص239)

    دور حاضر کے عطیم محقق علامہ غلام رسول سعیدی نعمۃ الباری شرح صحیح البخاری پر رقمطراز ہیں :''اب عورتوں نے برقع پہننا چھوڑ دیا ہے ، سر کو دوپٹے سے نہیں ڈھانپتیں،تنگ و چست کپڑے پہنتی ہیں،بیوٹی پارلروں میں جا کر جدید طریقوں سے میک اپ کرواتی ہیں ، مردوں کے ساتھ مخلوط اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں، میرتھن ریس میں حصی لیتی ہیں،بسنت میں پتنگ اڑاتی ہیں ، ویلنٹائن ڈے مناتی ہیں ۔ اس قسم کی آزاد منش عورتوں کے مسجد میں جانے کا تو خیر کوئی امکان ہی نہیں ،البتہ اللہ سے ڈرنے والی خواتین ضرور مسجد میں جمعے کی نماز پڑھنے یا رمضان میں تراویح پڑھنے جاتی ہیں ،سو وہ خواتین پردہ کی حدود و قیود کے ساتھ جائیں،تاکہ وہ درس قرآن و حدیث، وعظ و نصیحت سن سکیں ، تو میری رائے میں انکو منع نہیں کرنا چاہیے، جبکہ امام اعظم کے ایک قول میں اسکی گنجائش بھی ہے۔( نعمۃ الباری شرح صحیح البخاری ج2ص 798)

    حکیم الامت،مفسر شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ج2ص283 میں حدیث '' اذا استاذنت احدکم امراتہ الی المسجد فلا یمنعہا''کے تحت لکھتے ہیں:'' ظاہر ہے یہ حکم اس وقت تھا جب عورتوں کو مسجد میں حاضری کی اجازت تھی،عہد فاروقی میں اسکی ممانعت کردی گئی، کیونکہ عورتوں میں فساد بہت آگیا تھالیکن فی زمانہ عورتوں کو مسجد میں باپردہ آنے اور علیحدہ بیٹھنے سے نہ روکا جائے کیونکہ اب تو

    عورتیں سینماؤوں ، بازاروں میں جانے سے تو رکتی نہیں مسجد میں آکر کچھ دین کے احکام سن لیں گی۔

    کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں:اب فقیر کا فتویٰ یہ ہے کہ عورتوں کو باپردہ مسجد میں آنے سے نہ روکو کہ اگر ہم انہیں روکیں تو یہ وہابیوں، مرزائیوں اور قادیانیوں کی مساجد میں پہنچتی ہیں ،جیساکہ تجربہ ہے،ان لوگون نے عورتوں کے لیے بڑے بڑے انتطامات اپنی اپنی مساجد میں کیے ہوئے ہیں،عورتوں کو گمراہ کرکے انکے خاوند اور بچوں کو بہکاتے ہیں۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ج2ص283)

    مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب تفہیم المسائل جلد 4ص 353 پر لکھتے ہیں :'' ہمارے فقہاء کا عمومی موقف تو یہی ہے کہ اخلاقی تنزلی کی وجہ سے عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ ہو ، لیکن اسکا مقصد تو یہ جب ہے کہ مسجد میں نماز کے لیے آنے سے ان خواتین کو روکنا شریعت کا منشاء ہے تو پھر یہ پابندی عام حالات میں بھی اختیار کرنی چاہیے ،لیکن اب چند دین دار عورتوں کے علاوہ عام عورتیں تعلیم، روزگار،بازاروں، سماجی تقریبات میں، اور روز مرہ کے معاملات میں بلا روک ٹوک حجاب شرعی کے بغیر گھومتی پھرتی ہیں ، تو بالخصوص دینی مجالس سے کیوں روکا جائے۔اسلیے میرے نزدیک موجودہ دور میں مساجد میں نماز تراویح،جمعہ اور دروس کی مجلسوں میں شرعی حدود کی مکمل پاسداری کے ساتھ خواتین کی شرکت کا اہتمام اباحت وجواز کی حدود سے نکل کر ضرورت کے درجے میں داخل ہو گیا ہے۔( تفہیم المسائل جلد 4ص 353)

    5:عورت کی آواز کا حکم:

    عورت کی آواز بھی عورت ہے کہ مرد اسکی آواز سن کر اسکی طرف راغب ہوتے ہیں اگر آواز خوبصورت ہو تو اس میں مزید فتنہ ہے ،حتیٰ کہ ہمارے فقہاء امت نے فرمایا کہ عورت دوران حج تلبیہ (یعنی لبیک اللہم لبیک)بھی بلند آواز سے نہ کہے بلکہ آواز پست رکھے کہ خود کو سن سکے بس جیسا کہ شامی میں ہے:وَفِي الْكَافِي: وَلَا تُلَبِّي جَهْرًا لِأَنَّ صَوْتَهَا عَوْرَةٌ، وَمَشَى عَلَيْهِ فِي الْمُحِيطِ فِي بَابِ الْأَذَانِ بَحْرٌ۔ترجمہ: اور کافی میں ہے کہ عورت تلبیہ بھی بلند آواز سے نہ کہے، کیونکہ اسکی آواز بھی عورت ہے، اور اسی بات کوصاحب محیطنے باب الاذان میں ذکر کیا ہے۔(شامی،مطلب فی ستر العورۃ،جلد1 ص 406)

    سیدی اعلیٰ حضرت سے عورت کی آواز کے بارے میں پوچھا گیا :چند عورتیں ایک ساتھ ملک کر گھرمیں میلاد شریف پڑھتی ہیں اور آواز باہرتک سنائی دیتی ہے یونہی محرم کے مہینے میں کتاب شہادت وغیرہ بھی ایک ساتھ آواز ملا کر پڑھتی ہیں۔ یہ جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔

    آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں '' ناجائزہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے اور عورت کی خوش الحانی کہ اجنبی سے محل فتنہ ہے''واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الحظر والاباحۃ جلد 22 ص 240 رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: عورت کا خوش الحانی سے بآواز ایسا پڑھنا کہ نامحرموں کو اس کے نغمہ کی آواز جا ئے ، حرام ہے ۔نوازل امام فقیہ ابو اللیث میں ہے:''نغمۃ المرأۃ عورۃ ''یعنی عورت کا خوش آواز کر کے کچھ پڑھنا عورت یعنی محلِ ستر ہے ۔کافی امام ابو البرکات نسفی میں ہے: ''لا تلبی جھراًلان صوتھا عورۃ ''یعنی عورت بلند آواز سے تلبیہ نہ پڑھے، اس لیے کہ اس کی آواز قابلِ ستر ہے ۔(فتاوی رضویہ، جلد22،ص242، رضا فاؤنڈیشن لاهور)

    البتہ اگر عورت کو عنداالضرورت گفتگو کرنا پڑ جائے تو ضروری ہے وہ آہستہ آواز میں بات کرے، اپنی آواز کو پرکشش نہ بنائے، نرم لہجہ میں بات نہ کرے، بلکہ سخت لہجے میں بات کرے، مختصر بات کرکے بات ختم کردے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 20 جمادی الاول 1447ھ/ 12 نومبر 2025 ء