سوال
1:۔ ایصال ثواب میں حضور علیہ السلام کا نام لے کر کیوں دعا کی جاتی ہے،جبکہ بندہ گناہ گار ہے اور وہ ڈائریکٹ اللہ تعالٰی سے اس مرنے والے کے حوالے سےدعا کیوں نہیں کرتے ۔
2:۔ بندہ کے لیے اللہ ہی کافی ہے مگر دعا حضور علیہ السلام کا نام کیوں لیتے ہیں،ان کا وسیلہ کیوں دیتے ہیں ۔
3:۔ قرآن پاک کتابی صورت میں ہے ،لہذا قرآن صرف پڑھنے کی حد تک ہے اسکی تعظیم و ادب کیوں کرتے ہو؟مکہ مدینے والے تو نہیں کرتے۔ سائل: مولانا اجمل رضا: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:۔ دعا خواہ اپنے لیے ہو یا کسی اور کے لیے بلاواسطہ اللہ کریم کی بارگاہ سے مانگنا ہی افضل و اولٰی ہے، البتہ اگر کوئی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا نام لے کر آپ ﷺ کے وسیلے سے میت کے لیے دعا کرے تو یہ بھی ایک جائز اور مستحسن امر ہے ،قرآن و حدیث اس امر کے جواز سے بھرے ہوئے ہیں، قرآن مجید میں مومنین کو حکم دیا کہ اگر وہ اپنی ذات پر ظلم کر بیٹھیں تو وہ خود بھی اللہ سے مغفرت طلب کریں اور پھر رسول ﷺ کی بارگاہ میں آئیں اور رسول سے عرض کریں کہ رسول ان کے لئے مغفرت طلب کریں تو اللہ کریم انکی مغفرت فرمادے گا،جیسا کہ ارشاد ہے:وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًاترجمہ کنز الایمان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں ا ور رسول ان کی شِفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔(النساء: 64)
اس آیت کے تحت امام ابن کثیر ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں جس سے یہ بات بالکل واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ آپ ﷺ کے وسیلے سے مانگی جانے والی دعا نہ صرف قبول بلکہ بہت جلد قبول ہوتی ہے،اور آپ کے وسیلے سے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ، چناچہ آپ فرماتے ہیں:وقد ذکر جماعة منهم الشيخ ابو منصور الصباغ فی کتابه الشامل الحکاية المشهورة عن العتبی : قال کنت جالسا علی قبر النبی صلی الله عليه وآله وسلم فجاء اعرابی، فقال : السلام عليک يارسول الله سمعت الله يقول وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًاo (النسآء ، 4 : 64) وقد جئتک مستغفرا لذنبی مستشفعابک الی ربي.ترجمہ: فرماتے ہیں ابومنصور صباغ اپنی کتاب الشامل میں حکایت مشہورہ ذکر کرتے ہیں کہ عتبی بیان کرتے ہیں کہ میں قبر انور کے قریب بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا کہ السلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے سنا کہ کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسول ﷺبھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo) میں آپ کی خدمت میں اپنے گناہوں پر استغفار کرتا ہوں اور آپ کو اپنے رب کے سامنے اپنا سفارشی بناتا ہوا حاضر ہوا ہوں۔ عتبی کا بیان ہے کہ پھر وہ اعرابی چلا گیا اور مجھے نیند آ گئی میں نے خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی۔ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے فرمایا عتبی جاؤ اس اعرابی دیہاتی کو خوشخبری سنا دو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ معاف فرما دیے ہیں۔(تفسیر ابن کثير، ج : 1، ص : 520)
نہ صرف حضور علیہ السلام بلکہ اگر کوئی اللہ کا مقرب بندہ یا بندی ہو اس کا وسیلہ بناکر یا اللہ کی بارگاہ میں اسکا مقام دیکھ کر دعا کی جائے تو وہ دعا بھی قبول ہوتی ہے، بلکہ قبولیتکے اعلٰی مقام سے مشرف ہوتی ہے ، جیساکہ قرآن مجید میں حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ مبارک موجود ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی بانجھ تھیں ا ور خود بھی وہ بڑھاپے کو پہنچ چکے تھے ،آپ اولاد کی نعمت سے محروم تھے،اورآپ حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت کرتے تھے ،ایک دن آپ حضرت مریم سے ملنے گئے تو دیکھا کہ انکے پاس بے موسمی کا پھل پڑا ہے ، پوچھا (اے مریم )یہ کہاں سے آیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کی طرف سے ،حضرت زکریا علیہ السلام نے سوچاکہ مریم کو اللہ نے بے موسم کا پھل بھیجا ہے،یقینا انکا اللہ کی بارگاہ میں خاص مقام ہے۔لہذا حضرت زکریا علیہ السلام نےا ن کی فضیلت دیکھی تو انہوں نے اسی جگہ اللہ کریم سے اولاد کی دعا کی، اور اللہ تعالیٰ نے انکی دعا فورا قبول فرمائی،جسکو قرآن مجید میں اللہ کریم نے بیان فرمایا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ (38) فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَى۔ترجمہ کنز الایمان:وہیں پکارا ،زکریانے اپنے رب کو بولا اے رب میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بے شک تو ہی ہے دعا سننے والا،تو فرشتوں نے اسے آواز دی اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا بے شک اللہ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحیٰی کا۔(آل عمران: 38،39)
اس آیت کے تحت مفسر شہیر علامہ ابن جریر طبری فرماتے ہیں:قال أبو جعفر: وأما قوله:"هنالك دعا زكريا ربه"، فمعناها: عند ذلك، أي: عند رؤية زكريا ما رأى عند مريم من رزق الله الذي رَزَقها، وفضله الذي آتاها من غير تسبُّب أحد من الآدميين في ذلك لهاترجمہ:آیت میں ھنالک دعا زکریا ربہ (یعنی وہیں پکارا ،زکریانے اپنے رب کو) کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم کے پاس بے موسمی پھل دیکھا اور ان اللہ کی بارگاہ میں حضرت مریم کا وہ مقام دیکھا کہ اللہ نے انکی اس چیز سے فضیلت دی جو کسی اور کو نہ دی، تو پھر حضرت زکریا نے دعا فرمائی۔(جامع البيان في تأويل القرآن۔المعروف بتفسیر طبری، جلد 6 ص 359،مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)
علامہ قاضی بیضاوی رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:هُنالِكَ دَعا زَكَرِيَّا رَبَّهُ في ذلك المكان ، لما رأى كرامة مريم ومنزلتها من الله تعالى. ترجمہ: یعنی حضرت زکریا نے جب حضرت مریم کی یہ کرامت اور اللہ کی بارگاہ میں ان کا مقام دیکھا تو اسی جگہ کھڑے کھڑے دعا فرمائی۔(أنوار التنزيل وأسرار التأويل، المعروف بتفسیر بیضاوی ،جلد 2 ص 15،مطبوعہ بیروت)
2:۔ یقینا اللہ کریم کی ذات عالیہ کل انسانیت کے لیے کافی و وافی ہے ، لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نےخودوسیلہ تلاش کرنے کا حکم فرمایا ہے،اور یہ وسیلہ تلاش کرکے اس کے ذریعے دعا کرنا اس بات کے خلاف نہیں کہ اللہ کی ذات کافی نہیں اسی لیے کسی کا وسیلہ دیا جارہا ہے بلکہ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی سبب اور وسیلے کا محتاج نہیں، مگر اس کی مشیت ہے کہ اس نے دنیا کو عالم اسباب بنایا ہے،جبھی حضرت آدم وعیسیٰ وحوا کےسوا کوئی انسان اپنے ماں باپ کے بغیر پیدا نہیں ہوتا،اسی طرح اللہ تعالیٰ بغیر وسیلے اور واسطے کے دعا سنتا اور قبول کرتا ہے مگر وسیلے کے ساتھ دعا کی قبولیت کے امکان بڑھ جاتے ہیں،اور یہ کوئی شرک نہیں قرآن مجید میں خود اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا ہے۔قال اللہ تعالیٰ :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔(المائدہ: آیت نمبر :35)
اس آیت کے تحت شیخ ابن تیمیہ اپنے رسالہ ''قاعدۃ جلیلۃ فی التوسل والوسیلۃ'' میں لکھتے ہیں:وهذا التوسل بالإيمان به وطاعته فرض على كل أحد في كل حال، باطناً وظاهراً، في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم وبعد موته، في مشهده ومغيبه، لا يسقط التوسل بالإيمان به وبطاعته عن أحد من الخلق في حال من الأحوال بعد قيام الحجة عليه، ولا بعذر من الأعذار،۔۔۔ومحمد صلى الله عليه وسلم أعظم جاهاً من جميع الأنبياء والمرسلين، لكن شفاعته ودعاؤه إنما ينتفع بهما ، من شفع له الرسول ودعا له، فمن دعا له الرسول وشفع له توسل إلى الله بشفاعته ودعائه، كما كان أصحابه يتوسلون إلى الله بدعائه وشفاعته، صلى الله عليه وعلى آله وسلم تسليمًا.ترجمہ:آپ ﷺکی اطاعت اور آپ پر ایمان رکھنے کی وجہ سے یہ توسل ہر ایک شخص پر ہر حال میں فرض ہے، خواہ باطنی حالت ہو یا ظاہرہ،خواہ آپکی حیات میں ہو یاآپکیوفات کے بعد، آپکی موجودگی میں ہو یا آپکی عدم موجودگی میں ہو،اس (وسیلہ تلاش کرنے )پر حجت (دلیل )قائم ہونے کے بعد اور آپ ﷺکی اطاعت اور آپ پر ایمان کی وجہ سے مخلوق سے یہ توسل کسی بھی حالت میں ،کسی بھی عذر کی وجہ سے ساقط نہیں ہوسکتا اور اور محمد ﷺ تمام انبیاء و مرسلین سے عظیم المرتبت ہیں ،لیکن آپکی دعا اور شفاعت سے صرف اور صرف اسی شخص کو فائدہ ہوگا جس کے لیے آپ ﷺ دعا اور شفاعت فرمائینگے، پھر جس کے لئے آپ دعا اور شفاعت فرمائیں گے ، تو وہ شخص اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں آپکی دعا اور شفاعت کو وسیلہ بنائے گا ، جیساکہ آپ کے صحابہ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں آپکی دعا اور شفاعت کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔( قاعدۃ جلیلۃ فی التوسل والوسیلۃ،لابن تیمیہ ص 84،85 ،الشاملہ)
لہذا حافظ ابن تیمیہ کی اس تصریح سے وسیلہ کا جواز واضح طور پر ثابت ہوا ،اسی طرح احادیث سےبھی یہ بات ثابت ہے کہ آپ علیہ السلام کی ذات مبارکہ کو دعا میں وسیلہ بنانا جائز بلکہ خود آپ ﷺ نے اسکا حکم فرمایا: چناچہ حدیث پاک میں ہے کہ ایک نابیناصحابی رضی اللہ عنہ سرورِ کائناتﷺکی خدمتِ اَقدس میں بینائی کےحصول کےلئےاِستغاثہ کرنےآئےتوآپ ﷺ نے خود اُنہیں دُعاکی تلقین فرمائی،وہ دعا یہ ہے:
أَللّٰهُمَّ انِّيْ أَسْئَلُکَ وَ أَتَوَجَّهُ الَيْکَ بِنَبِيِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَة، يَامُحَمَّدُ! انِّيْ قَدْ تَوَجَّهْتُ بِکَ الَی رَبِّيْ فِيْ حَاجَتِيْ هٰذِهِ فَتَقْضِيْ لِيْ، أَللّٰهُمَّ فَشَفِّعْه فِيَ.ترجمہ:اےمیرےاللہ!میں نبیءرحمت محمدمصطفیٰ ﷺکےواسطےسےتجھ سےسوال کرتاہوں اورتیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ اےمحمدﷺ! میں اپنی اِس حاجت میں آپکےواسطےسےاپنےرب کی طرف متوجہ ہوتاہوں تاکہ یہ حاجت برآئے۔ اے میرے اللہ! میرے معاملےمیں حضور ﷺکی سفارِش وشفاعت کوقبول کرلے۔( جامع الترمذی، اَبواب الدّعوات، 2 : 197،مسند اَحمد بن حنبل، 4 : 138)
3:۔ اس سوال کا جواب ہم قدرے تفصیل سے ذکر کریں گے تاکہ قرآن کو محض ایک کتاب کہنے والے اور دن رات اس کی بے حرمتی کرنے والوں پر حجت تام ہوجائے اور انکی آنکھیں اس دھوکہ اور فریب کے پردے سے باہر آجائیں اور یہ لوگ اللہ کریم کی اس عظیم کتاب کے صحیح مقام و منزلت سے آگاہ ہوجائیں ،اوراپنے اس قول شنیع اور فعل قبیح سے رجوع کرلیں اور قرآن کی عظمت و رفعت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اس عظیم کتاب کو تقدس ،ادب اور احترام خود پر لازم کرلیں۔
دنیا کی ہر منظم جماعت کی ایک خاص پہچان ہوا کرتی ہے۔ جو ان کے کپڑوں، بالوں کی تراش خراش، رہن سہن، کھانے پینے کی عادات، عبادات و رسومات، تعلق و سلوک، رکھ رکھاؤ اور اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کسی بھی آدمی کی جانب دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ یہ فلاں قوم، مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ بدھوں کے بھکشو ہوں یا ہندوؤں کے پنڈت، یہودیوں کے ربانیین ہوں یا عیسائیوں کے پادری، سب کی پہچان ان کے طور طریقوں سے فوراً ہو جاتی ہے۔ اسی طرح عسکری اداروں سے تعلق رکھنے والے ملازمین ہوں یا تعلیمی اداروں کے طلبہ، ان کی وردیوں سے ان کے شعبے کا پتا چل جاتا ہے۔بعینہ اسلام بھی دنیا کا ایک عظیم،مہذب اور منظم ترین مذہب ہے۔ اسلام بھی اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ اس کے ماننے والے خاص طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور خاص قسم کا اسلوبِ زندگی رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی اصطلاح میں ان خاص امور کو شعائرِ اسلام کہا جاتا ہے، یعنی ''اسلام کی علامات''۔اور قرآن بھی شعائر اسلام اور علامات اسلام میں سے ہے بلکہ ان شعائر اسلام میں سے ہے جن پر اسلام کا دار و مدار ہے ، جن کے بغیر اسلام مکمل نہیں ہوسکتا، حجۃ الوداع کے موقع پر جبکہ یہ مژدہ جانفرا سنایا گیا کہ آج کے دن تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا گیا ہے،ایسے موقع پر خور رسول خدا ﷺارشاد فرماتے ہیں : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللَّهِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي "ترجمہ: اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم ان دو چیزوں کو مضبوطی سے تھام لو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے، (وہ دو چیزیں )اللہ کی کتاب(قرآن مجید )اور میرے گھر والوں کی محبت ہے۔(ترمذی، باب مناقب اہل البیت،حدیث نمبر 3746)
اللہ ! اللہ ! اندازہ کیجیے :ایک طرف تو یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ دین مکمل ہوگیا اور دوسری طرف قرآن کو مضبوطی سے تھامے رکھنے اور کبھی اس سے جدا نہ ہونے کا حکم دیا جارہا ہے،اور اسکا نتیجہ ہمیشہ کی ہدایت کی صورت میں عطا کیا جارہاہے، جسسے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید، فرقان حمید اللہ رب العزت کی با برکت کتاب ہے۔قرآن مجید ہماری زندگی کا سرمایہ اور ضابطہ ہے۔ یہ جس راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرے ہمیں اُسی راہ پر چلتے رہنا چاہیے۔ قرآن مجید ہماری دونوں زندگیوں کی بہترین عکاس کتاب ہے۔ قرآن مجید سر چشمہ ہدایت ہے، یہ مکمل ضابطہ حیات ہے، آپ ﷺ کے بعد تمام معاملات میں رہنمائی فراہم کرنے والا اسلام کا ایک عظیم شعیرہ(جمع ،شعائر )ہے۔ اور شعائر اللہ کے بارے میں اللہ کریم خود اپنی اسی لاریب و بے عیب کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِترجمہ: اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔(الحج:34)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ شعائر اللہ کی تعظیم دل کے تقویٰ کی علامت ہے اور شعائر اللہ کی تعظیم وہی کرتا ہے جس کے دل میں تقویٰ اور خوفِ خدا ہو۔اور جن بد نصیبوں کے دل تقویٰ اور خوفِ خدا جیسی نعمت عظمٰی سے عاری و خالی ہوں یقینا ان کے لیے شعائر اللہ کی کوئی اہمیت نہیں ، وہ قرآن جیسے عظیم شعیرہ کو یہ کہہ کہ ٹال دیتے ہیں کہ یہ تو دوسری کتابوں کی طرح کی ایک کتاب ہے، لہذا اسکو کتاب کی حد تک رکھو اسکی تعظیم نہ کرو یقینا یہ لوگ بد بخت ، بے ادب اور دین کی روح سے ناآشنا ہیں ۔(اللہ کریم انہیں ہدایت دے۔)
اب دیکھئے خود آیات قرآنیہ میں اللہ کریم اس کتاب لاریب کی تعظیم کا حکم کیسے ارشاد فرماتا ہے:إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ، فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ، لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ،تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ. ترجمہ کنزالایمان: بےشک یہ عزت والا قرآن ہے ،محفوظ نَوِشْتَہ میں ،اسے نہ چھوئیں مگر باوضو ،اتارا ہوا ہے سارے جہان کے رب کا۔(واقعہ:77 تا 80)
ملاحظہ کیجیے ، کیسی صریح عظمت اور واضح تعظیم کا بیان ہے۔ کہ یہ عزت والی کتاب ہے ، جو شخص ناپاک ہو وہ اسکو چھو بھی نہیں سکتا۔ کیا دنیا کی کوئی اور ایسی کتاب ہے جس کو بغیر وضو چھونا جائز نہ ہو۔نہیں؟ اور یقینا نہیں تو یہ قرآن کی تعظیم و ادب نہیں تو اور کیا ہے؟؟
اب سورہ عبس میں ارشاد دیکھیے:فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ ،مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ ، بِأَيْدِي سَفَرَةٍ یہ قرآن قابلِ احترام صحیفوں میں ہے,جو (مقام میں) بلند اور پاکیزہ ہیں,جو نیکوکار کے ہاتھوں میں ہیں۔(العبس: 13تا 15)
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ ترجمہ:یہ جو کتاب ہم نے نازل کی ہے نہایت بابرکت ہے۔(الأنعام: 92)
فقہاء کرام نے اپنی کتب میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ بے وضو شخص کو قرآن چھونا جائز نہیں ہے ،چناچہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے: ويحرم على المحدث ثلاثة أشياءومس المصحف" القرآن ولو آية للنهي عنه في الآية "ترجمہ:اور بے وضو شخص کے لیے تین کام کرنا حرام ہیں ، ان میں سے ایک قرآن کو چھونا ہے خواہ اسکی ایک آیت ہی کیوں نہ ہو ،کیونکہ آیت مبارکہ(لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ) میں اس سے منع کیا گیا ہے۔( مراقی الفلاح شرح نورالایضاح،باب الحیض والنفاس ،جلد 1 ص 148)
یونہی جس شخص پر غسل لازم ہو اس کے لیے قرآن کو چھونا اور پڑھنا دونوں ہی منع ہیں ۔ امام کاسانی رحمہ اللہ تعالٰی لکھتے ہیں:المنع من القراءة لتعظيم القرآن، ومحافظة على حرمته،ترجمہ:(جنبی شخص )کو قرآن چھونے سے منع کرنا قرآن کی تعظیم و ادب اور اسکی حرمت قائم رکھنے کے لئے ہے۔(بدائع الصنائع، فصل فی الغسل ،جلد 1ص 38،بیروت)
اسی طرح حاشیہ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح میں ہے:ومس مصحف وطواف "لا يحل" الإقدام عليه "إلا به" أي الوضوء ترجمہ: قرآن کو چھونااور طواف کرنا بغیر وضؤ کے حلال نہیں ہے۔( حاشیہ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح، فصل فی احکام الوضوء،جلد 1 ص 61)
ایک طرف تو اللہ کریم خود قرآن کی عظمت بیان فرمائے اور حکم فرمائے کہ اسکو بغیر وضو نہیں چھو سکتے اور ناپاک شخص اسکو پاکی حاصل کیے بغیر زبانی بھی پڑھ سکتا ، اور علمائے امت جو احکام شرع کی وضاحت فرمانے والے ہیں، جابجا یہ بات لکھیں کہ قرآن کی تعظیم کے پیش نظر اسکو بلاوضو چھونا اور جنبی کے لیے زبانی پڑھنا جائز نہیں ہے،جبکہ دوسری طرف یہ بات کی جائے کہ اسکی تعظیم کیوں کرتے ہو بس یہ پڑھنے کی حد تک ہے، وغیر ذلک من الخرافات بلکہ معاذاللہ ثم معاذاللہ !یہ لوگ قرآن مجید کو کبھی سرہانہ بنالیتے ہیں اور کبھی اپنی زانوں پر رکھ کر لیٹ جاتے ہیں ، اور کبھی بغل میں دبائے نکل پڑتے ہیں، اور کبھی زمین پر ہی رکھ دیتے ہیں(العیاذ باللہ)۔یہ سب صاف بے ادبی، واضح جہالت،بدبختی کی علامت،تقوی کی کمی،شعائر اللہ کی تحقیر ، اللہ کی کتاب ہدایت کی صریح ناشکری و مذاق ہے۔ایسے لوگ خود تو بے ادب و گستاخ تو ہوتے ہی ہیں ، بھولے بھالے عوام کو بھی بے ادب و گستاخ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کا مکہ مدینے میں ہونا کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ جو کچھ کریں بس وہی دین ہے بلکہ دین وہ ہے جو کچھ نبی کریم ﷺ لائے اور جو کچھ قرآن و حدیث میں ہے۔ اللہ کریم ان شریروں کے شر سے عام مسلمانوں کو دور رکھے اور سب کو نیک ہدایت عطا فرمائے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء: 05 جمادی الثانی 1440 ھ/11 فروری 2019 ء