کسی کے مرنے کی وجہ سے شادی روک دینا کیسا
    تاریخ: 22 نومبر، 2025
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 210

    سوال

    ہمارے خاندان میں یہ رواج تھا کہ کسی کی شادی کی تاریخ وغیرہ فکس کردی جاتی ، پھر شادی ہونے سے پہلے ہی اگر کسی رشتہ دار کا انتقال ہوجائے تو چار ماہ تک شادی ملتوی کردی جاتی تھی ،لیکن اب یہ چار ماہ سے کم ہوکر چالیس دن تک آگیا ہے اب یہ ہوتا ہے کہ اگر شادی سے پہلے کسی کا انتقال ہوجائے تو چالیس دن تک شادی ملتوی کردیتے ہیں ، ابھی میری بہن کا نکاح ہے اس میں بھی ایسا ہی ہو کہ کسی رشتہ دار کا انتقال ہوگیا ، اب اسکا چالیسواں 28 مارچ کو ہے جبکہ میری بہن کا نکاح 24 مارچ کو ہے۔اب ہمیں پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح کا شریعت میں کچھ ہے یا نہیں ؟ برائے کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

    سائل:عبدالرحمان : ٹھٹھہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    میت کا سوگ دو طرح کا ہے ایک میت کے ورثاء کا سوگ کرنا اور دوسری میت کی بیوی کا سوگ کرنا، میت کے ورثاء کو صرف تین دن سوگ کی اجازت ہے، جبکہ میت کی بیوی کے لیے چار ماہ دس دن سوگ ہے جوکہ اسکی عدت بھی ہوگی۔ یہاں سوگ سے مراد یہ ہے کہ عورت شوخ اور پر کشش لباس، زیورات، میک اپ، خوشبو اور دوسری ہر قسم کی زیب و زینت کو چھوڑ دے اور بغیر کسی شدید انسانی ضرورت کے گھر سے نہ نکلے۔لیکن دل کا غمگین ہونا ،مرنے والے کی جدائی میں بغیر آوا ز آنسو جاری ہونا اسکی شریعت میں ممانعت نہیں ہے ،بلکہ خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور وہاں آپکی آنکھ مبارک سے آنسو جاری ہوگئے تھے۔

    لہذا مذکورہ رواج کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے،بلکہ اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر مرنے والے قریبی رشتہ داروں میں سے ہے تو میت کے گھر والوں کو چاہیے کہ شادی وغیرہ کی تقریبات تین دن تک موخر کردیں ، اور اسکے بعد شادی کے معاملے طے کرسکتے ہیں ، اس کے لیے چالیس روز رکنا ضروری نہیں ، بلکہ اسکو ضروری سمجھنا بدعت اور قبیح فعل ہے۔

    حدیث پاک میں ارشاد فرمایا:حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الأَحَادِيثَ الثَّلاَثَةَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ، خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»ترجمہ:زینب رضی اللہ عنہانےبیان کیاکہ میں نبی کریمﷺکی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہاکےپاس اس وقت گئی جب انکےوالد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کاانتقال ہواتھا ۔ام حبیبہ نےخوشبومنگوائی جس میں خلوق خوشبوکی زردی یا کسی اورچیزکی ملاوٹ تھی،پھروہ خوشبوایک لونڈی نےانکولگائی اورام المؤمنین نےخوداپنےرخساروں پراسےلگایا ۔اسکےبعدکہاکہ واللہ!مجھےخوشبوکےاستعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نےرسول اللہ ﷺسےسناہےآنحضرتﷺنےفرمایاکہ کسی عورت کےلیےجواللہ اورآخرت کےدن پرایمان رکھتی ہوجائزنہیں کہ وہ تین دن سےزیادہ کسی کاسوگ منائےسوائےشوہرکے( کہ اس کاسوگ)چارمہینےدس دن کاہے ۔

    عالمگیری میں ہے:ولا باس لاهل المصیبۃ ان یجلسوا فی البیت او فی مسجد ثلاثته ایام والناس یاتونهم ویعزونهم۔ترجمہ: اور اس میں حرج نہیں کہ مصیبت والے لوگ کسی گھر میں یا مسجد میں تین دن بیٹھیں ،اور لوگ انکے پاس تعزیت کرنے آئیں۔(فتاوی ہندیہ، باب التعزیۃ جلد 1 ص167)

    اسی میں ہے:وَوَقْتُهَا مِنْ حِينِ يَمُوتُ إلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَيُكْرَهُ بَعْدَهَا۔ترجمہ: اور سوگ کا وقت مرنے کے وقت سے تین دن گزرنے تک ہے اس کے بعد سوگ مکروہ ہے۔(ایضا)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:07 رجب المرجب 1440 ھ/14 مارچ 2019 ء