رشتے داروں سے حسن سلوک
    تاریخ: 22 نومبر، 2025
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 209

    سوال

    محمدسلیم قریشی کے 2 بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے،اس کی دو شادیاں تھی اس کی ایک بیوی اور ایک بچی کا انتقال ہوگیا ہے ایک بیٹا ہے پہلی بیوی سےاور دوسری بیوی 2 بیٹے ہیں اسکی ایک بیوہ میرے گھر میں ہے۔

    میرا ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں اسے گھر سے نکالنا چاہتے ہیں اور میری پینشن بھی ان بچوں پر خرچ نہیں کرنےدیتے، میں اپنے بیٹے کی بیوی اور اس کے بچوں کو اپنے گھر میں رکھنا چاہتا ہوں اور میں اپنی خوشی سے اپنی پنشن کے پیسے ان پر خرچ کرتا ہوں۔آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی پینشن کے پیسے ان پر خرچ کرسکتاں ہوں یا نھیں ؟اپنے بیٹے کی بیوہ اور ان کے بچوں اپنے گھر رکھ سکتا ہوں یا نہیں؟یتیم کی پرورش کی اہمیت قرآن و حدیث بیان فرمادیں۔ سائل:بمعرفت مفتی صفدر صاحب:کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پنشن خالصتا اس سرکاری ملازمکی ملکیت ہوتی ہے جو اپنی نوکری سے ریٹائرڈ ہوجائے ۔لہذا اسکا اختیار ہے کہ جیسے چاہے استعمال کرے ، جس کو چاہے دے اور جسکو چاہے منع کرے۔کسی فرد کو اس معاملے میں روک ٹوک کی کوئی اجازت نہیں ہے۔

    یونہی اگر گھر ذاتی ملکیت ہے تو اس گھر میں رکھنے میں بھی کوئی مضائقہ اور حرج نہیں ہے۔کسی بھی شخص کو اس معاملے میں اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔بلکہ دیگر لوگوں کو بھی چاہیے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک سے پیش آئیں اور انکا سہارا بنیں۔

    بلاشبہ پنشن کی رقم اپنی بہو اورپوتے، پوتیوں پر خرچ کرنااور انہیں گھر میں رہائش دینا رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور صلہ رحمی ہے،جو کہ شریعت مطہرہ میں مطلوب و مقصود ہے جسکی شرع میں انتہائی فضیلت وارد ہوئی ہے۔

    اس سلسلے میں متفق علیہ حدیث پاک ملاحظہ فرمایئے حضرت ابوہریرہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:خلق الله الخلق. فلما فرغ منه، قامت الرحم، فاخذت، بحقوالرحمن، فقال له: مه قالت: هذا مقام العائذ بک من القطيعۃ۔ قال: الا ترضين ان اصل من وصلک، واقطع من قطعک؟ قالت: بلی يارب! قال: فذاک’’ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی، جب وہ اس کی پیدائش سے فارغ ہوا تو ’’رحم‘‘ نے کھڑے ہوکر رحمن (رحم کرنے والے) کے دامن میں پناہ لی۔ اللہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ رحم نے عرض کیا: میں قطع رحمی (رشتہ داری ختم کرنے) سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا کہ تجھے یہ پسند نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں بھی اسے توڑ دوں۔ رحم نے عرض کیا: ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر ایسا ہی ہوگا‘‘۔(صحيح البخاری، کتاب التفسير، حديث نمبر:4830، صحيح المسلم، کتاب البر والصلۃ والادب، حديث نمبر:2554)

    ایک اور متفق علیہ حدیث رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھئے: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:لايدخل الجنة قاطع .ترجمہ: قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔( صحيح البخاری، کتاب الادب، حديث نمبر5984، صحيح مسلم، کتاب البروالصلة والادب، حديث نمبر2556)

    یونہی حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنےفرمایا: ومن كان يؤمن بًالله واليوم الآخر فليصل رحمهترجمہ: جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہئے ۔ (صحيح البخاري حدیث نمبر6138)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني

    تاريخ اجراء:05 ذوالقعدہ 1442 ھ/16 جون 2021 ء