اسلامی بینک سےملنے والے نفع کا حکم
    تاریخ: 21 نومبر، 2025
    مشاہدات: 44
    حوالہ: 203

    سوال

    اسلامی بنک میں پیسے رکھوا کر جو نفع لیا جاتا ہے کیا وہ سودہوتا ہے؟ ۔

    سائل: محمد متین

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اسلامی بنک میں جو رقم رکھوا کر نفع حاصل کیا جاتا ہے وہ سود نہیں ۔اسلامی بنک جو نفع دیتا ہے وہ مختلف عقود (contracts) مثلاً مضاربہ ،مشارکہ ،مرابحہ وغیرہ کی صورت میں دیتا ہےجو کہ شرعی لحاظ سے درست ہیں ۔

    سوداس مشروط منفعت کو کہتے ہیں جو کسی عوض سے خالی ہومثلاً مقروض کو قرض دیا اور یہ طے کیا کہ جتنے دیے واپس اس سےاضافی لوں گا ۔امام اہل سنت احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وہ زیادت کہ عوض سے خالی ہو اور معاہدہ میں اس کا استحقاق قرار پایا ہو سود ہے مثلاً سو روپے قرض دئے اور یہ ٹھہرالیا کہ پیسہ اوپر سولے گا تویہ پیسہ عوض شرعی سے خالی ہے لہٰذا سود حرام ہے ۔(فتاوی رضویہ جلد 17صفحہ325 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:08ربیع الاول ا1444 ھ/05اکتوبر2022 ء