سوال
میرا ریمبو سینٹر میں خالی DVDڈسک کا کام ہے ، اور میں جن دکانداروں کو DVD دیتا ہوں ، ان میں سے کچھ فلمیں بھرتے ہیں ،کچھ گانے، اور کچھ گندی چیزیں بھرتے ہیں ،کچھ کمپیوٹر کے لیے لیتے ہیں اورکچھ نعتیں وغیرہ بھی اور ظاہر ہے کہ مجھے یہ بات معلوم ہے کیونکہ انکی دوکانیں میری دکانوں کے سامنے ہی ہیں ، اب میرا سوال یہ ہے کہ یہ کام جائز ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو اسکے جائز ہونے کی کیا صورت ہوگی کیونکہ میں اور کوئی کام نہیں کرسکتا اس کام کو کرتے تیس سال ہوگئے ہیں مجھے کسی نے کہا کہ یہ کام جائز نہیں ہے ؟ اب ایک مہینے سے یہ کام بند کیا ہوا ہے مال والے کو بھی منع کردیا کہ مال مت دو ۔شرعی رہنمائی فرمائیں ۔ اللہ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے۔ سائل: محمد فاروق،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اس بارے میں شریعت کا اصول ذہن میں رکھئیے کہ ہر وہ کام کرنا جائز ہے کہ معصیت(گناہ) جس کی ذات کے ساتھ قائم نہ ہو ،اور اس کام کو انجام دینے والاشخص اس کام سے تعاون علی الاثم(گناہ پر مدد) کی نیت نہ کرے۔ ورنہ یہ ناجائز ہوگا۔ اور اگر معصیت اسکی ذات کے ساتھ قائم ہو تو یقینا وہ کام کرنا حرام ہے۔لہذا خالی DVDکا کام بھی ان چیزوں میں سے ہے کہ معصیت جن کی ذات کے ساتھ قائم نہیں ہوتی، کیونکہ خالی DVDصرف معصیت ہی میں نہیں بلکہ اسکے علاوہ دوسرے نیک کام یا محض جائز کاموں میں بھی استعمال ہوتی ہے لہذا اس طرح کی خالی DVD درآمد کرنے اور بیچنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ، مگر جبکہ بیچے ہی اس نیت سے کہ لینے والااس میں گانےوغیرہ بھر کر آگے بیچے تب جائز نہ ہوگا ۔
الدر المختار میں ہے :وَقَدَّمْنَا ثَمَّۃَ مَعْزِیًّا لِلنَّہْرِ أَنَّ مَا قَامَتْ الْمَعْصِیَۃُ بِعَیْنِہِ یُکْرَہُ بَیْعُہُ تَحْرِیمًا وَإِلَّا فَتَنْزِیہًا. فَلْیُحْفَظْ.ترجمہ: اور ہم نے پیچھے نہرالفائق کی نسبت سے بیان کیا کہ جس چیز کے ساتھ معصیت بعینہ قائم ہو اسکی بیع( خرید و فروخت ) مکروہ تحریمی (یعنی حرام )ہے ورنہ ( یعنی اگراس چیز کے ساتھ معصیت بعینہ قائم نہ ہو تو) مکروہ تنزیہی ہے ۔( الدر المختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع جلد 9ص561)
مفتی اعظم پاکستان ،مفتی وقار الدین قادری مرحوم سے اسی طرح کا سوال کیا گیاکہ ''زیدایک تاجر ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ غیر ممالک میں خالی ویڈیو کیسٹ در آمد کرے جبکہ اسکو یہ معلوم ہے کہ ان کیسٹوں کا90 فیصد حصہ غلط کاموں میں استعمال ہوگا، اوراس پر فلمیں اور گانے ریکارڈ کیئے جائیں گے نیز عریاں و فحش فلمیں بھری جائیں گی، تو سوال یہ ہے کہ زید اگر ویڈیو کیسٹ درآمد کرے تو یہ اسکے لیے جائز ہوگا یا نہیں؟ اس سے حاصل شدہ آمدنی جائز ہوگی یا ناجائز؟
آپ جوابا لکھتے ہیں :''کیسٹ صرف معصیت ہی میں نہیں بلکہ نیک کاموں میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ لہذا کیسٹ منگوانے اور بیچنے میں کوئی حرج نہیں ، استعمال کرنے والا جس جگہ استعمال کرے گا وہ اسکا ذمہ دار ہوگا۔(وقار الفتاویٰ جلد اول ص 219،220)
خلاصہ یہ ہوا کہ خالی DVD کا کام کرنا جائز ہے ،جبکہ بیچنے میں تعاون علی الاثم(گناہ پر مدد) کی نیت نہ ہو۔پھر کوئی خرید کراس میں کیا بھرتا ہے اسکے ذمہ دار بیچنے والا نہ ہوگا بلکہ بھرنے والا ہی ہوگا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىترجمہ کنزالایمان:سن رکھو کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔(الطور:آیت 38)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء: 08ربيع الاول1440ھ/17 نومبر2018ء