تکافل کا شرعی مسئلہ و حکم
    تاریخ: 19 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 52
    حوالہ: 424

    سوال

    میں گزشتہ کچھ مہینوں سے ادارۂ اخوت (اسلامک مائیکرو فائنانس) میں بحیثیت لون آفسر کی ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہوں۔مجھے ایک مسئلہ میں رہنمائی درکار ہے کہ ادارۂ اخوت لون دینے سے قبل ایک میٹنگ رکھتا ہے جس میٹنگ میں ہم لوگوں سے ایک باہمی امدادی فنڈ لیتے ہیں جو 30 ہزار کے لون پر 300، 50 ہزار کے لون پر 500 اور 1 لاکھ کے لون پر 1000 روپے ہے ۔اِس وقف فنڈ کا مقصد یہ ہے کہ اگر دورانِ قرض مقروض کا انتقال ہو جاتا ہے تو ادارۂ اخوت اِس فنڈ کے ذریعے سے مقروض کا بقایا قرض ادا کر دیتا ہے اور اُس کا قرض معاف کر دیا جاتا ہے۔اس کی فیملی کو کفن دفن کے لئے 5 ہزار روپے بھی دیتا ہے۔ اور اگر قرض کے دوران اُس شخص کا انتقال نہیں ہوتا تو ہم اُس شخص کی اجازت سے باقی ماندہ رقم کسی اور انتقال کر جانے والے کے لئے محفوظ کر لیتے ہیں یا پھر اخوت قرضِ حسن، تعلیم یا انتظامی اخراجات کے لئے استعمال کر لیتے ہیں۔یہ باہمی وقف فنڈ قرض کے ساتھ مشروط نہیں ہے اگر کوئی شخص یہ باہمی امدادی فنڈ نہیں دینا چاہتا تو ہم اُسے ایک ضامن لانے کو کہتے ہیں جو اُس کی وفات کے بعد باقی ماندہ رقم ادا کرے گا۔میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیس جو ہم وقف فنڈ کی مد میں لے رہے ہیں کیا یہ جائز ہے؟

    سائل: مولانا طاہر المتخصص فی الفقہ ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر واقعی وقف فنڈ کی فیس مشروط نہیں تو مذکورہ فیس لینا جائز ہے۔

    مذکورہ طریقہ تکافل کی صورت ہے جو باہمی تعاون، تناصر اور نیکی ہے جس کی قرآن مجید اور احادیث مقدسہ میں بڑی ترغیب وارد ہوئی ہے۔البتہ یہاں چند احتیاطیں لازم ہیں کہ اس معاہدہ میں ایسے الفاظ سے گریز کیا جائے جن سے عقدِ معاوضہ ،کارو بار یا سودی معاملے کا تاثر ملتاہو۔جیسے: بزنس ،کانٹریکٹ ، لون وغیرہ کے الفاظ ،کیونکہ تکافل کا مقصد تعاون علی البرّ ہے ،کوئی کاروبار یا سودی انتظام نہیں۔

    مذکورہ فیس نہ تو رشوت ہے نہ ہی قرض پر نفع ،تفصیل ملاحظہ کریں:

    رشوت یہ ہے کہ مقصود اپنا کام نکالنا ہو یعنی مجھے اس فیس کے بدلے قرض مل جائے،جبکہ صورت مسؤولہ میں قرض حاصل کرنے کیلئے وقف فنڈ کی فیس مشروط نہیں کہ اسے رشوت کہا جائے بلکہ اگر کوئی فیس نہیں دیتا تو اسے اپنا ضامن دینا ہوگا جو بقیہ قرض کی ادائیگی کرے ۔

    اسی طرح یہاں قرض پر نفع بھی نہیں ،کیونکہ جو وقف فنڈ میں رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے ذکر کردہ مخصوص فلاحی کاموں کیلئے چندہ ہوگی ، قرض ہر گز نہیں ہوگی۔ادارے کا مقروض کو فائدہ پہنچانا اسی طرح تبرع واحسان ہوگا جس طرح اس نے ادارہ کو رقم دے کراحسان کیا تھا۔یہ ایسا ہی ہے کہ آج تم کسی کے کام آؤ کل کوئی تمہارے کام آئے گا،کیونکہ قرض خود ایک عقدِ تبرع (نیکی کا معاملہ )ہے ، یعنی کسی ادارے یا شخص پر دوسرے فرد کو قرض دینا لازم و ضروری نہیں، اگر دیتا ہے تو نیکی پاتا ہے اور کسی کی نیکی پر بدلے میں اسکے ساتھ نیکی کرنا سنتِّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محمودِ شرع ہے۔لہذا بلا مشروط وقف فنڈ میں رقم جمع کروانا جس کا مقصود دیگر مسلمان بھائیوں کو فائدہ پہنچانا ہو جائز ہے۔

    قرآن مجید میں باہمی امداد کی ترغیب وارد ہوئی ہے، ارشاد باری تعالی ہے:وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَان.ترجمہ:اور نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔(المائدۃ:2)

    نیکی کا بدلہ دینا سنتِ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام ہے،چنانچہ سنن ابو داود کی روایت ہے :"عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا»".ترجمہ:اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔(سنن ابي داود،کتاب الاجارۃ،باب فی قبول الہدایا،3/290،رقم الحدیث: 3536، المكتبة العصريۃ)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:7ذو القعدہ 1445 ھ/16 مئی 2024ء