مالِ زکوٰة پر سال مکمل ہونے کے بعد طلاق کی صورت میں بیوی کو آدھی رقم واپس کرنے کے برطانوی حکومتی قانون کا شرعی حکم
    تاریخ: 11 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 385

    سوال

    ایک خاتون جو کہ یوکے میں قیام پذیر ہیں۔اُن کی اور خاوند کی آپس میں طلاق ہو چُکی ایک سال سے۔ وہاں کے قانون کے مطابق علیحدگی کے بعد مال و زر نصف کیا جاتا ہے دونوں فریقوں کے درمیان، اب کچھ نقد رقم جو کے اندازً 40 ہزار پاؤنڈ بنتی ہے میری خالہ زاد کے پاس موجود ہے جو کہ اُن کی ذاتی کمائی ہے۔

    اب چونکہ عدالت نے مال نصف کرنے کا حکم دے دیا جو کے مبلغ 20 ہزار پاؤنڈ بنتا ہے۔کیس بس آخری مراحل میں پہنچ چُکا ہے ۔ایک ماہ کے اندر اندر آدھا مال (20 ہزار پاؤنڈ ) سابق خاوند کو ادا ہو جائے گا،اس سے قبل میری خالہ زاد اپنے پورے مال کی زکوۃ دیتی آرہی ہیں، اب مال پر سال مکمل ہو چُکا ہے ۔

    اب زکوۃ دینے کے حوالے سے رہنمائی فرما دیں آیا کےمیری خالہ زاد پوری رقم کی زکات نکالیں گی جو کے 40 ہزار پاؤنڈ ہے، یا کے 20 ہزار پاؤنڈ کی جو باقی اُن کی ملکیت رہ جائے گی ادائیگی کے بعد۔

    نوٹ: 20 ہزار تو عدالت نے سابق شوہر کے حصے میں کر دئیے بس ادا ہونا باقی ہیں۔

    سائل : محمد عدیل عطاری/اسلام آباد

    بمعرفت جناب راجہ شاہد المدنی عطاری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر یہ 40 ہزار پاؤنڈ خالص خاتون کے ہوں اس طرح کہ شوہر کا ان میں کوئی حصہ نہیں ہو تو ان پیسوں کی مالکہ تنہا خاتون ٹھہرے گی ۔ کوئی شخص ہو یا حکومت وہ کسی دوسرے عاقل بالغ آزاد کے مال میں بلا اجازت تصرف نہیں کر سکتا ۔سو برطانوی حکومت کے فیصلہ دینے کے باوجود شوہر کے لیے یہ رقم لینا ناجائز و حرام ہے ۔ان بیس ہزار کی مالکہ بیوی ہی رہے گی ،شوہر کے پاس اس رقم کی حیثیت غصب کی ہو گی ۔ غاصب کے پاس مغصوب چیز امانت ہوتی ہے جسے مالک کو لوٹانا واجب ہوتا ہے۔

    وجوبِ زکوۃ کی شرائط میں سے یہ ہے کہ صاحبِ نصاب کو اپنے مال پر ملکیت ِتام حاصل ہو یعنی مال پر ملکیت کے ساتھ ساتھ بالقوہ (اگراس میں تصرف کرنا چاہے تو )تصرف بھی کر سکتا ہو۔مسئلہ ھذا میں بھی جب تک خاتون نے بیس ہزار پاؤنڈ ادا نہیں کیے اس وقت تک کل مال (چالیس ہزار پاؤنڈ)پر اس کو ملکیتِ تام حاصل رہی ۔ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے یہ جبری آرڈر زکوۃ کا سال مکمل ہونے پہلے آیا ہے ،لیکن آرڈر پر عمل در آمد سال مکمل ہونے کے بعد ہوا ۔

    جواب ملاحظہ ہو:

    اگر 20 ہزار پاؤنڈ زکوٰۃ کا نصاب مکمل ہونے کے بعد ادا کیے (جو کہ ایسا ہی ہے )تو اب بالاتفاق چالیس ہزار پاؤنڈ کے حساب سے زکوۃ ادا کرنی ہو گی،اس لیے کہ نصاب کا سال چالیس ہزار پاؤنڈ پر گزرا ہے،سو جتنے پر گزرا اتنے پر ہی زکوۃ ہو گی ۔

    فتاوی ہندیہ میں ہے:وَمِنْهَا الْمِلْكُ التَّامُّ وَهُوَ مَا اجْتَمَعَ فِيهِ الْمِلْكُ وَالْيَدُ وَأَمَّا إذَا وُجِدَ الْمِلْكُ دُونَ الْيَدِ كَالصَّدَاقِ قَبْلَ الْقَبْضِ أَوْ وُجِدَ الْيَدُ دُونَ الْمِلْكِ كَمِلْكِ الْمُكَاتَبِ وَالْمَدْيُونِ لَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ۔ترجمہ:شرائط وجوبِ زکوۃ میں سے ایک ملکیت تام کا حصول ہےاور اس سے مراد وہ مال جس میں ملکیت اور تصرف دونوں جمع ہوں ۔لہذا جہاں ملکیت پائی گئی تصرف نہ پایا جیسے قبضہ سے پہلے مہر ۔یا پھر تصرف تو پایا گیا لیکن ملکیت نہیں پائی گئی جیسے مکاتب و مدیون کی ملکیت تو اس زکوۃ واجب نہیں ہو گی جیسا کہ سراج وہاج (کتاب) میں ہے۔ (الفتاوى الهندية،تفسیر الزکوۃ وصفتھاجلد 01،صفحہ 182، دار الفكر)

    بیس ہزار کی حیثیت مصادرہ کی ہےیہ بیس ہزار جو برطانوی حکومت کے حکم پر بیوی شوہر کو دے گی ،فقہی لحاظ سےاس کی نظیر "مصادرہ "ہے ۔مصادرہ سے مراد وہ مال ہے جو حکومت جبری طور پر رعایہ سے لے جیسے اثاثےمنجمد کرنااور ٹیکس وغیرہا مصادرہ کا حکم یہ ہے کہ یہ مال جب تک مالک کے پاس ہے اور اسے اس پر تصرف حاصل ہے تو اس وقت تک اس کی زکوۃ مالک پر لازم ہو گی ۔اور جب حکومت لے لے تو اس کے بعد اس رقم پر زکوۃ نہیں ہوگی ۔اس لیے کہ مالک کی اس پر ملکیت تو ہے لیکن تصرف حاصل نہیں اور ملک تام دو چیزوں ملکیت و تصرف کے مجموعہ کا نام ہے۔

    ہدایہ میں ہے:وَاَلَّذِي أَخَذَهُ السُّلْطَانُ مُصَادَرَةً۔ترجمہ :اور وہ مال جسے سلطان مصادرۃ یعنی ظلماً لے(اس پر زکوۃ نہیں )(الهداية جلد01صفحہ 96)

    علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :(وما اخذ مصادرة) أي ظلما وهو ما لا يمكن الانتفاع به مع بقاء الملك ۔ملخصا۔ترجمہ:وہ مال جو ظلماً لے لیا گیا ہو اس پر زکوۃ نہیں ۔( مصادرہ اور ضمار سے مراد )وہ مال ہے ملکیت کے باوجود جس سے نفع نہ اٹھایا جا سکے۔( الدر المختار جلد02 صفحہ266دار الفکر بیروت)

    رد المحتار میں ہے : المصادرة أن يأمره بأن يأتي بالمال والغصب أخذ المال مباشرة على وجه القهر۔ترجمہ:مصادرہ سے مراد وہ مال جس کے لانے کا (حاکم/حکومت)حکم دے ۔اور غصب یہ ہے کہ غلبہ کے طور پر(کسی کا) مال لے لینا (رد المحتار علی الدر المختار جلد02 صفحہ266دار الفکر بیروت)

    یہ بیس ہزار دین نہیں ان بیس ہزار کو دین سمجھنا درست نہیں ہو گا اس لیے کہ دین کی تعریف ہے: الدين ما وجب في الذمة بعقد أو استهلاك، وما صار في ذمته دينا باستقراضه۔ترجمہ:دین وہ ہے جو ذمہ میں عقد کے ذریعے یا استھلاک کے ذریعے واجب ہو یا پھر قرض لینے کی وجہ سے وہ چیز ذمہ پر واجب ہوئی ہو ۔(رد المحتار علی الدر المختار جلد02 صفحہ266دار الفکر بیروت)

    مسئلہ مبحوثہ میں تینوں امور نہیں۔ 20 ہزار نہ کسی عقد کے تحت لازم آئے ۔نہ استھلاک کی صورت ہے اور نا ہی یہاں پر قرض کا کوئی معاملہ ہے ۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد يونس انس القادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:14رمضان المبارک 1444 ھ/05اپریل 2023 ء