عدت مغلظہ کی عدت میں نکاح کرنا
    تاریخ: 12 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 20
    حوالہ: 388

    سوال

    زید نے اپنی بیوی کو ایک سال قبل ایک طلاق دی۔پھر اگست 2021 میں دوسری اور تیسری طلاق دی۔ یہاں تک کہ ابھی وہ عورت اپنی عدت میں تھی ،یعنی تیسری ماہواری چل رہی تھی تو اس خاتون کا نکاح کسی دوسرے مرد سے کر دیا گیا یہاں تک کہ عدت کے اندر اس مرد نے ہمبستری بھی کر لی ۔

    تو پوچھنا یہ ہے کہ اگر یہ نکاح فاسد ہوا تو نہ نکاح ہوا نہ حلالہ ۔نیز کیا عورت ماہواری ختم ہونے کے بعد غسل کرنے کے بعد دوبارہ اسی شخص سے حلالہ کر لے۔اور اس کی عدت کا کیا معاملہ ہے؟نیز یہ وطی، وطی بالشبہ کہلائے گی ؟

    سائل:حکیم محمد فیصل

    بمعرفت مفتی ریحان قادری صاحب


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اس مسئلہ کا حکم دو صورتوں پر مشتمل ہے :۔

    1:۔اگر زید کو معلوم تھا کہ یہ عورت پہلے شوہر کی عدت میں ہے ،یہ جانتے ہوئے نکاح کیا تو یہ نکاح اصلاً نہیں ہوا ،بلکہ نکاح باطل ہے اور اس کے ضمن میں ہونے والی وطی زناہے۔اور اس صورت میں عدت کی بھی کوئی حاجت نہیں،نہ زید کی جانب سے طلاق کی۔بلکہ پہلے شوہر کی عدت مکمل کرنے کے بعد یہ عورت جس سے چاہے نکاح کر سکتی ہے ،یہاں تک کہ زید سے بھی۔

    2:۔اور اگر زید کو معلوم نہ تھا کہ یہ کسی اور مرد کی عدت میں ہے ،یا اسے یہ گمان ہوا کہ عدت گزر گئی حالاں کہ عدت باقی تھی(جیسا کہ اس مسئلہ میں یہی صورت بظاہر محسوس ہوتی ہے) تو اس صورت میں زید متارکہ کرے گا یعنی زید اس عورت کو کہے کہ میں نے تمہیں چھوڑ دیا ۔تو اب زید کی عدت )تین حیض)گزارنے کے بعد کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے۔اور اگر اسی زید سے نکاح کرنا چاہے تو اس کے لیے فقط پہلے شوہر کی عدت گزارنا کافی ہے۔یعنی زید سے زید کی عدت میں بھی نکاح اور ازدواجی تعلق قائم ہو سکتا ہے ۔

    یہاں پر دونوں صورتوں (نکاح باطل و فاسد)میں حلالہ شرعی نہیں ہوا،اس لیے کہ حلالہ شرعی کے لیے نکاح صحیح کے ساتھ وطی کا ہونا ضروری ہے ۔اور یہ وطی وطی بالشبہ تھی،نکاح فاسد میں تو اس کا وطی باشبہ ہونا واضح ہے ۔نکاح باطل میں حد نہ لگنے کے حق میں یہ وطی بالشبہ ہے (کما صرح الامام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فی جد الممتار) لہذا زید سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو سابق شوہر کی عدت مکمل کرنے کے بعد کر سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ دونوں صورتوں (نکاح فاسد و باطل )کے احکام الگ الگ ہیں :

    1:۔نکاح باطل کی صورت میں نسب کا ثبوت نہیں ہوتا جبکہ فاسد میں ہو تا ہے۔

    2:۔نکاح باطل میں مہر مکمل ملے گا ،جبکہ نکاح فاسد میں مہر مثل اور مسمی میں سے جو کم ہو وہ ملے گا ۔

    3:۔فاسد میں متارکہ ضروری ہوتا ہے جبکہ باطل میں متارکہ کی حاجت نہیں ہوتی۔

    4:۔ باطل میں عدت نہیں جبکہ فاسد میں عدت ہوتی ہے جب کہ دخول ہوا ہو،اگر دخول نہیں ہوا تو پھر عدت نہیں۔(ماخوذ از جد الممتار علی رد المحتار،جلد 04 صفحہ 442)

    علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا ۔ترجمہ:غیر کی منکوحہ یا غیر کی معتدہ سے نکاح کرنا ،پھر دخول کرنا،اس سے عدت لازم نہیں ہوگی جب کہ اسے معلوم ہو کہ عورت غیر کی ہے کیونکہ اس نکاح کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہے لہذا یہ نکاح ہی اصلاً منعقد نہ ہوا۔ (ردالمحتار , مطلب فی النکاح الفاسد،جلد 03 صفحہ132دار الفکر بیروت)

    اعلی حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:اگربکر نے یہ جان بوجھ کر کہ ابھی عورت عدت میں ہے اس سے نکاح کرلیا تھا جب تو وہ نکاح نکاح ہی نہ ہوا زنا ہوا، تو اس کے لئے اصلاً عدت نہیں اگرچہ بکر نے صدہا بار عورت سے جماع کیا ہوکہ زنا کاپانی شرع میں کچھ عزت ووقعت نہیں رکھتا عورت کو اختیار ہے جب چاہے نکاح کرلے۔

    مزید لکھتے ہیں :اور اگر بکر نے انجانی میں نکاح کیا تو یہ دیکھیں گے کہ اس چار برس میں ا س نے عورت سے کبھی جماع کیا ہے یانہیں، اگر کبھی نہ کیا تو بھی عدت نہیں، بکر کے چھوڑتے ہی فوراً جس سے چاہے نکاح کرلے، ففی البحر فی امثلۃ النکاح فسد ولم یبطل نکاح المعتدۃ الخ وقیدہ الشامی بما اذالم یعلم بانھا معتدۃ لما مرعن البحر،بحر میں ایسے نکاح جو فاسد ہو ں مگر باطل نہ ہو ں کی مثالوں میں غیر کی معتدہ کا نکاح ذکر کیا ہے ۔اھ اور علامہ شامی نے اس کو غیر کی معتدہ کا علم نہ ہونے کے ساتھ مقید کیا ہے جیساکہ بحر کے حوالے سے گزرا ،

    اس میں رقم طراز ہیں :اور جو ایک بار بھی جماع کرچکا ہے تو جس دن بکر نے چھوڑ ا اس دن سے عورت پر عدت واجب ہوئی جب تک اس کی عدت سے نہ نکلے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی۔(فتاوی رضویہ جلد13،صفحہ302،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ عالمگیری کے حوالے سے لکھتے ہیں:پہلے شوہر کے ليے حلال ہونے میں نکاح ِصحیح نافذ کی شرط ہے اگر نکاح فاسد ہوا یا موقوف اور وطی بھی ہوگئی تو حلالہ نہ ہوا۔(بہار شریعت ،حصہ 08، حلالہ کے مسائل،مکتبۃ المدینہ)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:11ربیع الثانی 1443 ھ/17 نومبر 2021ء