سوال
عقود فاسدہ سے حاصل شدہ نفع کا حکم ہے ؟تفصیلی جواب عنایت فرمائیں !
سائل:مفتی قاسم نکیالوی صاحب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
فقہائے کرام خصوصاً امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان محدثِ بریلی علیہ الرحمہ کی عبارات عقدِ فاسد سے حاصل شدہ منافع کے حوالے سے مختلف المفہوم ہیں،کچھ عبارات ایسی ہیں جن میں عاقد کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عقد فاسد سے حاصل شدہ منافع ورثا کو دے یا تصدق کر دے اس کی مرضی ہے ۔
کچھ عبارات میں ہے کہ جس سے عقدِ فاسد کیا ،منافع اسی کو لوٹائے ،اگر عاقد زندہ نہیں رہا ہو تو اس کے ورثا کودے،اور اگر ورثا میں سے کوئی بھی زندہ نہیں یا پھر زندہ ہے لیکن تلاش کرنے کے باوجود نہیں مل رہا تو اب منافع کسی شرعی فقیر کو صدقہ کر دے ۔
اللہ جل وعلا کی بارگاہ میں دعا ہے! ربِ کریم امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے وسیلے سے اس مسئلہ کی تفہم و تفہیم ہم پر آسان فرمائے ۔آمین ثم آمین
پہلی تفہیم :بابت عقودِ فاسدہ
عقود عقد کی جمع ہے اور عقدِ فاسد سے مراد وہ عقد ہے جو صلبِ عقد یا ا صلِ عقد کے اعتبار سے تو صحیح ہو لیکن وصفِ عقد میں خرابی ہو ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14ذی قعدہ 1443 ھ/14جون 2022