عدم علم کی وجہ سے رضاعی بہن سے نکاح ہوا،بچے بھی ہو گئے
    تاریخ: 12 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 22
    حوالہ: 387

    سوال

    آج سے چالیس سال پہلے میرا نکاح ہوا ، جس عور ت سے ہوا وہ میریرضاعی بہن تھی جس سے مجھے لاعلم رکھا گیا ،اب میری بیوی ایک اجتماع میں گئی تو وہاں معلمہ نے رضاعت کے احکام بیان کیے تواس کے دل میں اس مسئلہ کی حساسیت پیدا ہوئی تو بیوی نے سارا معاملہ میرے سامنے رکھا ،اب ہم لوگ بہت پریشان ہیں ، جب کہ ہماری اولاد بھی ہے جو کہ جوان ہے۔برائے کرم اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں !

    سائل:عبد الغنی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اولاً اگر اس کا ثبوت دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے ہوا اگرچہ ان میں ایک عورت خود دودھ پلانے والی ہو،اور اگر خبر دینے والی اکیلی وہی عورت ہے جس نے دودھ پلایا اور دونوں کو اس کی خبر پر اطمینان حاصل ہے تو بھی حرمت ثابت ہو گئی،اگرچہ اس صورت میں شرعی گواہ نہ ہوں ،اور اگر خبر دینے والی جھوٹی ہو جب بھی بہتر یہی ہے کہ علیحدگی اختیار کر لی جائے۔

    جوہرہ میں ہے:وَإِنَّمَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ) إذَا كَانُوا عُدُولًا فَإِذَا شَهِدُوا بِذَلِكَ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ترجمہ: تحقیق رضاعت دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتیں کی گواہی سے ثابت ہوتی ہے جبکہ وہ گواہ عادل ہوں ،پس اگر وہ اس کی گواہی دے دیں توا ن کے مابین جدائی کر دی جائے گی۔(الجوہرۃ النیرۃ کتاب الرضاع جلد 2 صفحہ 30)

    مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :رضاع کے ثبوت کے ليے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عادل گواہ ہوں اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو، فقط عورتوں کی شہادت سے ثبوت نہ ہوگا مگر بہتر یہ ہے کہ عورتوں کے کہنے سے بھی جدائی کرلے۔(بہار شریعت حصہ 7صفحہ 40 المکتبۃ المدینہ)

    مزید عالمگیری کے حوالے سے فرماتے ہیں: کسی عورت سے نکاح کیا اور ایک عورت نے آکر کہا، میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یا دونوں اس کے کہنے کو سچ سمجھتے ہوں تو نکاح فاسد ہے اور وطی نہ کی ہو تو مہر کچھ نہیں اور اگر دونوں اس کی بات جھوٹی سمجھتے ہوں تو بہتر جدائی ہے اگر وہ عورت عادلہ ہے، پھر اگر وطی نہ ہوئی ہو تو مرد کو افضل یہ ہے کہ نصف مہر دے اور عورت کو افضل یہ ہے کہ نہ لے اور وطی ہوئی ہو تو افضل یہ ہے کہ پورا مہر دے اور نان نفقہ بھی اور عورت کو افضل یہ ہے کہ مہر مثل اور مہر مقرر شدہ میں جو کم ہے وہ لے اور اگر عورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں۔ يوہيں تصدیق کی اور شوہر نے تکذیب تو نکاح فاسد نہیں مگرزوجہ شوہر سے حلف لے سکتی ہے اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو تفریق کر دی جائے۔۔(بہار شریعت حصہ 7صفحہ 41 المکتبۃ المدینہ)

    ثانیا جب حرمت رضاعت ثابت ہو گی تو اب واجب ہے کہ ایک دوسرے سے جدائی اختیار کریں ، آپ دونوں کارشتہ ازدواج کے ساتھ رہنا ناجائز و حرام ہو گا ۔اللہ جل وعلا کا فرمان ہے: و أخوٰتکم من الرضاعة ترجمہ:اور( حرام کر دی گئی تم پر) تمہاری دودھ شریک بہنیں۔( النساء،الآیة: 23)

    یاد رہے کہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے وہ رضاعت سے بھی حرام ٹھہرتے ہیں ،چناچہ علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احال مایحرم من الرضاع علی مایحرم من النسب ومایحرم من النسب مایتعلق خطاب تحریمہ بہ و قدتعلق بما قد عبرعنہ بلفظ الامھات والبنات واخواتکم وعماتکم وخالاتکم وبنات الاخ وبنات الاخت فما کان من مسمی ھذہ الالفاظ متحققا من الرضاع حرم فیہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دودھ کی حرمتوں کو نسب کی حرمتوں پر حوالہ فرمایا کہ جو نسب سے حرام ہے دودھ سے بھی حرام ہے، اور نسب سے وہ حرام ہیں جن سے خطابِِ الہٰی تحریم کے ساتھ متعلق ہوا، اور وہ ان سے متعلق ہوا ہے، جن پر ماں ، بیٹی ، بہن ، پھوپھی ، خالہ اور بھائی کی بیٹی یا بہن کی بیٹی کا لفظ صادق آئے تو دودھ کے رشتوں میں جن جن پر یہ لفظ صادق آئیں وہ بھی حرام ہیں۔(البحرالرائق کتاب الرضاع جلد 3 صفحہ 242 دار الکتب الاسلامی)۔

    سرکار مدینہ علیہ الصلاۃ والسلام کااس بابت براہ راست ارشاد موجود ہے : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِنْتِ حَمْزَةَ: «لاَ تَحِلُّ لِي، يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ، هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ:ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی االلہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کی صاحبزادی کی بابت فرمایا کہ:وہ میرے لیے حلال نہیں(یعنی میں اس سے شادی نہیں کر سکتا )کیوں کہ جو رشتے نسب کی وجہ سے محرم بنتے ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی محرم بن جاتے ہیں،اور یہ میری رضاعی بہن ہے ۔(صحیح البخاری :رقم الحدیث2645)

    ثالثا وہ لوگ جنھوں نے یہ خبر معلوم ہونے کے باوجود ،حقیقت کو چھپائے رکھا وہ اس جرم کے سزاوار ہیں ،اور ایسوں کو اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں چھڑا سکتا ہے ۔

    نوٹ:اس نکاح فاسد کے ضمن میں پیدا ہونے والی اولاد ثابت النسب کہلائے گی ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح: ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 16 جمادی الاول1442ھ/01جنوری2021