طلاق لے لے پر تحقیقی فتوی
    تاریخ: 12 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 389

    سوال

    میاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہوا تو بیوی نے کہا کہ طلاق دے دے،تو جوابا شوہر نے کہا کہ لے لے۔تو کیا اس صورت میں طلاق ہو گی کہ نہیں ؟

    نوٹ:شوہر کا کہنا اس جملہ سے میری نیت نہ طلاق دینا تھا نہ بیوی کو طلاق کا مالک بنانا تھا۔

    سائل:محمد عبد اللہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مستفسرہ میں درج بالا جملے کی بابت حکم قائم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ باب ِطلاق میں اس مسئلہ کی فقہی تکییف کیا ہے؟اس کو سمجھا جائے!سو اس بابت بعض مفتیان کرام کی رائے یہ ہے کہ اس جملے سے تفویضِ طلاق سمجھ آتی ہے،جبکہ بعض کی رائے یہ ہے کہ یہ انشائے طلاق ہے جوکہ عربی جملہ‘‘ خذی طلاق’’ کے حکم میں ہے۔جبکہ ہمارے نزدیک یہ جملہ صریح کے معنی میں تو ہے لیکن اردو میں طلاق دینے کے لیے کثیر لاستعمال نہیں،نیز معنیً اس میں چند احتمالات ہیں،جس وجہ سے کوئی معنی شوہر کی نیت کا اعتبار کیے بغیر متعین کرنا درست نہیں ۔اور شوہر کا یہ کہنا ہے کہ میری اس جملہ سے تفویض ِ طلاق کی نیت تھی نہ اس سے انشائے طلاق مقصود تھا ۔اور جب ظاہری عبارت بھی شوہر کی نیت کی تاکید کرتی ہو تو اس کا لحاظ ضروری ہوتا ہے ،سو ہمارے نزدیک مذکورہ بالا جملہ تفویض طلاق ہے نہ انشائے طلاق ،لہذا اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

    تفصیل مسئلہ :

    یہاں پر ہم تفویض طلاق اور خذی طلاق کی بابت فقہائے کرام کی عبارات کی روشنی میں مانحن فیہ مسئلہ کا جائزہ لیں گے ۔

    1) تفویضِ طلاق

    2) مانحن فیہ مسئلہ تفویض طلاق کے تناظر میں

    3) خذی طلاق کا معنی وحکم

    4) مانحن فیہ مسئلہ میں خذی طلاق کا لحاظ

    5) عربی جملوں کا اردو جملوں میں کہاں تک اعتبار

    تفویضِ طلاق

    شوہر کا بیوی یا کسی اور کو طلاق کا اختیار دینا یعنی طلاق کا مالک بنا دینا ،تفویضِ طلاق کہلاتا ہے۔اس کا ثبوت خلاف قیاس قرآن و سنت اور اجماع سے ہے۔(انظر الی بدائع الصنائع )

    تفویض الفاظِ صریح و کنایہ دونوں سے ہو سکتی ہے۔صریح کی مثال( طلقی نفسک) ہے۔کنایہ کی مثالیں (اختاری نفسک ، امرک بیدک )ہیں ۔تفویض کے لیے ایسے الفاظ کا ہونا ضروری ہے جن سے تملیک سمجھی جاتی ہو ۔عربی میں یہ الفاظ تین طرح (استقرائی طور پر ،کما فی رد المحتار) کے ہیں ۔

    1) امر بالید(معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے )

    2) تخییرِ (یعنی میں نے تمہیں اختیار دیا)

    3) مشیئت(تو جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے)۔

    نوٹ : مشیئت الگ سے تفویض کی قسم نہیں ،بلکہ یہ امر بالید یا تخییر کے تابع ہو کر استعمال ہوتی ہے۔

    رد المحتار میں ہے:تَفْوِيضُهُ لِلزَّوْجَةِ أَوْ غَيْرِهَا صَرِيحًا كَانَ التَّفْوِيضُ أَوْ كِنَايَةً، ترجمہ :شوہر کا بیوی یا کسی اور کو طلاق سپرد کرنا،( تفویض طلاق ہے) خواہ یہ تفویض صریح الفاظ کے ساتھ ہو یا کنایہ کے ساتھ ۔( رد المحتار علی الدر المختار جلد 3صفحہ 314 دار الفکر بیروت)

    پہلی دونو ں قسمیں کنایات میں سے ہیں ،لہذا نیت و عدم نیت میں تینوں حالتوں (رضا ،غضب ،اور مذاکرہ طلاق )کا اعتبار کیا جائے گا ،جیسے کہ علامہ حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وَأَلْفَاظُ التَّفْوِيضِ ثَلَاثَةٌ: تَخْيِيرٌ وَأَمْرٌ بِيَدٍ، وَمَشِيئَةٌ.(قَالَ لَهَا اخْتَارِي أَوْ أَمْرُكِ بِيَدِك يَنْوِي) تَفْوِيضَ (الطَّلَاقِ) لِأَنَّهَا كِنَايَةٌ فَلَا يَعْمَلَانِ بِلَا نِيَّةٍ (أَوْ طَلِّقِي نَفْسَك فَلَهَا أَنْ تُطَلِّقَ فِي مَجْلِسِ عِلْمِهَا بِهِ)۔ترجمہ :الفاظ تفویض تین طرح کے ہیں ۔تخییر طلاق (اختیار دینا)امر بالید(فیصلہ کا اختیار دینا)اور مشیئت(چاہتا،ارادہ)۔شوہر نے بیوی کو کہا تجھے اختیار ہے۔یا فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے تفویضِ طلاق کی نیت کرتے ہوئے ۔کیوں کہ یہ دونوں جملے کنایہ کے ہیں ،تو بغیر نیت کے عمل نہیں کریں گے۔یا یہ کہا کہ اپنے آپ کو طلاق دےدے تو اس کو اختیار ہے کہ وہ مجلس میں جہاں اس کو علم ہوا طلاق دےدے بالمشافہ یا خبر دیتے ہوئے۔( رد المحتار علی الدر المختار جلد 3صفحہ 315دار الفکر بیروت)

    علامہ کاسانی الرحمہ نیت و عدم نیت کو ملحوظ رکھنے کے حوالے سے لکھتے ہیں :لان ھذا التصرف یحتمل الطلاق و یحتمل غیرہ الا اذا کان الحال حال الغضب والخصومۃ او حال مذاکرۃ الطلاق فلا یصدق القضا ءترجمہ :(طلاق کی نیت ضروری ہے )کیوں کہ یہ تصرف طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال رکھتا ہے ،البتہ جب حالت غصے ،یا لڑائی کی ہو یا مذاکرہ طلاق ہو تواس میں شوہر کی قضاء تصدیق نہیں کی جائے گی۔(بدائع الصنائع جلد 03 صفحہ 180،مکتبہ رشیدیہ)

    نیز امر بالید اور تفویض تمام احکام میں ایک جیسے ہیں ،اس لیے دونوں سے مقصود عورت کو طلاق کا مالک بنانا اور اختیار دینا ہے ۔ البتہ دونوں میں فرق صرف طلاق کی تعداد کا ہے جیسا کہ علامہ کاسانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :ان الزوج اذا نوی الثلاث فی قولہ امرک بیدک یصح وفی قولہ اختاری لایصح نیۃ الثلاث۔شوہر جب اپنے قول (امرک بیدک)میں تین طلاقوں کی نیت کرے تو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی ،جبکہ اس کے قول (اختاری )میں تین کی نیت درست نہیں۔(بدائع الصنائع جلد 03 صفحہ 180،مکتبہ رشیدیہ)

    مفتی امجد علی اعظمی ہندیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں :تفویضِ طلاق میں یہ ضرورہے کہ زن و شو (میاں بیوی) دونوں میں سے ایک کے کلام میں لفظِ نفس یا طلاق کا ذکر ہواگر شوہر نے کہا تجھے اختیار ہے عورت نے کہا میں نے اختیار کیا طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر جواب میں کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا یا شوہر نے کہا تھا تو اپنے نفس کو اختیار کر عورت نے کہا میں نے اختیار کیا یا کہا میں نے کیا تو اگر نیت طلاق تھی تو ہوگئی اور یہ بھی ضرورہے کہ لفظ نفس کو متصلاً ذکر کرے اور اگر اِس لفظ کو کچھ دیر بعد کہا اور مجلس بدلی نہ ہو تو متصل ہی کے حکم میں ہے یعنی طلاق واقع ہوگی اور مجلس بدلنے کے بعد کہا تو بیکار ہے۔(بہار شریعت،حصہ 08،صفحہ 137 مکتبۃ المدینہ)

    امر بالید کے حوالے سے لکھتے ہیں :مرد نے عورت سے کہا تیرا امر (معاملہ) تیرے ہاتھ ہے تو اس میں بھی وہی شرائط و احکام ہیں جو اختیار کے ہیں کہ نیت طلاق سے کہا ہو اور نفس کاذکر ہو اور جس مجلس میں کہا یا جس مجلس میں علم ہوا اُسی میں عورت نے طلاق دی ہو تو واقع ہو جائے گی اور شوہر رجوع نہیں کرسکتاصرف ایک بات میں فرق ہے وہاں تین کی نیت صحیح نہیں اور اِس میں اگر تین طلاق کی نیت کی تو تین واقع ہونگی ۔(بہار شریعت،حصہ 08،صفحہ 139 مکتبۃ المدینہ)

    مانحن فیہ مسئلہ تفویض ِ طلاق کے تناظر میں

    عربی زبان میں تفویضِ طلاق کے لیے دو الفاظ تخییر اور امر بالید (مخصوص )ہیں،جن کا ماحصل تملیک ہے۔ اسی طرح اردو میں ممکنہ الفاظ جو تفویض طلاق کے لیے بولے جاتے ہیں درج ذیل ہیں :

    1)میں نے تمہیں طلاق کا اختیار دیا ۔

    2)میں نے تجھے طلاق کا مالک کیا ۔

    3)میں نے تمہیں طلاق کا حق دیا۔

    4)تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، جو چاہے کر ۔

    درج بالا تفویضِ طلاق کے جملے بھی خواص سمجھتے ہوں، عوام میں بہت کم لوگ تفویض طلاق سے واقف ہیں ۔جبکہ مانحن فیہ مسئلہ میں طلاق دےد ے کے جواب میں شوہر کا کہنا لے لے کو (السوال معاد فی الجواب کے تحت ) یوں بھی لکھیں طلاق لے لے تب بھی اس میں کئی معانی کے احتما لات ہیں ۔مثلاً طلاق کورٹ سے لےلے یا مجھ سے لے لے،یا خود سے لے لے ،یا پھر زجر کرتے ہوئے کہا کہ لے لے یعنی نہیں دیتا لے کر دیکھا۔ جب تملیک کے علاوہ کئی طرح کے احتمالات ہیں تو شوہر کی نیت کا اعتبار کیے بغیر اسے محض تفویض قرار دینا درست نہیں ہو گا۔

    فتاوی قاضی خان میں ہے:وقد ذکرنا اذا اراد الرجل ان یطلق امراتۃ فقالت المراۃ ھب لی طلاقی فقال وھبت یریدبہ ترک الطلاق والاعراض عنہ فھی امراتہ۔ترجمہ :جب مرد اپنی عورت کو طلاق دینے کا راداہ کرے اور عورت نے کہا:مجھے میری طلاق ہبہ کر دےپس شوہر نے ترک طلاق اور طلاق سے اعراض کی نیت کرتے ہوئے کہا :میں نے ہبہ کی تو یہ عورت اس کی بیوی ہی رہے گی ۔یعنی طلاق نہیں ہو گی۔( فتاوی قاضی خان جلد 01صفحہ407، قدیمی)

    خذی طلاقک کا معنی وحکم

    خذی طلاقک جیسے جملے صریح کے معنی میں ،اور وہ جملے جو صریح تو نہ ہوں بلکہ صریح کے معنی میں ہوں اور عوام الناس کے عرف میں ان کا غالب استعمال طلاق کے لیے ہو تو ان سے بھی بغیر نیت طلاق واقع ہو جا تی ہے ۔مذکورہ جملے کی بابت صاحب ِفتح القدیر محقق علی الاطلاق علامہ کمال ابن ہمام علیہ الرحمہ کا موقف یہ ہے کہ اس میں نیت ِ طلاق سے طلاق واقع ہو گی ۔چناچہ آپ لکھتے ہیں:في خذي طلاقك ،،،،،،،،،،،يقع بالنية رجعيا ۔ترجمہ:خذی طلاقک میں نیت سے طلاق رجعی واقع ہو گی ۔(فتح القدير،جلد 8 ،صفحہ 153)۔

    یہی موقف صاحب بحر کا بھی ہے،آپ نے ان کنایات کا ذکرتے ہوئے جن میں لفظ طلاق مذکور ہو ، میں خذی طلاقک کو بھی شمار کیا ہے۔چناچہ لکھتے ہیں:كُلُّ كِنَايَةٍ كَانَ فِيهَا ذِكْرُ الطَّلَاقِ كَانَتْ دَاخِلَةً فِي كَلَامِهِ وَيَقَعُ بِهَا الرَّجْعِيُّ بِالْأَوْلَى كَقَوْلِهِ أَنَا بَرِيءٌ مِنْ طَلَاقِك ،،،،،،،،،،،،خُذِي طَلَاقَك۔ترجمہ ہر وہ کنایہ جس میں طلاق کا ذکر ہو دریں حال کہ وہ کنایہ اس کے کلام میں داخل ہوا تو اس سے بالاولی رجعی طلاق پڑے گی ۔جیسے اس کا کہنا میں تیری طلاق سے بری ہوں ،یا اپنی طلاق لو۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق جلد 03 صفحہ 323 دار الكتاب الإسلامي)

    یقیناً ان دونوں ہستیوں (علامہ ابن ہمام و ابن نجیم علیھما الرحمہ) کے زمانہ میں یہ جملہ کا طلاق کے لیے کثیر الاستعمال نہیں ہو گا،اس لیے انھوں نے نیت کو ضروری قرار دیا ہے ۔ جبکہ علامہ شامی علیہ الرحمہ اس میں نیت کا اعتبار نہیں کرتےبلکہ بغیر نیت کے قوعِ طلاق کا حکم لگاتے ہیں ،چناچہ لکھتے ہیں :لَكِنْ قَدَّمْنَا هُنَاكَ تَصْحِيحَ عَدَمِ اشْتِرَاطِ النِّيَّةِ فِي خُذِي طَلَاقَك فَهُوَ مِنْ الصَّرِيحِ۔ترجمہ لیکن ہم نے وہاں (صریح کی بحث میں ) خذی طلاقک میں عدم ِنیت کی تصحیح کو مقدم کیا ہے،کیوں کہ یہ صریح میں سے ہے۔(رد المحتارعلی الدر المختار جلد 03،صفحہ 303 دار الفکر بیروت)

    اسی طرح فتاوی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے عدم نیت کا ہی اعتبار کیا گیا ہے :وَلَوْ قَالَ لَهَا خُذِي طَلَاقَك يَقَعُ مِنْ غَيْرِ نِيَّةٍ كَذَا هَهُنَا كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔ترجمہ اور شوہر نے بیوی کو کہا کہ خذی طلاقک تو بغیر نیت کے طلاق واقع ہو گی ،جیسا کہ محیط میں ہے۔(الفتاوى الهندية،جلد01صفحہ ،383 کتاب الطلاق )

    اسی طرح اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہ شریف میں نیت کا اعتبار نہیں کیا، چناچہ آپ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :اور صحیح یہ ہے کہ طلاق لے طلاق صریح ہے، محیط پھر ہندیہ میں ہے:لوقال لھا داد طلاق یقع من غیرنیۃ وھو الاشبہ لان قولہ داد فی العادۃ، وقولہ خذسواء ولو قال لھا خذی طلاقک یقع من غیرنیۃ کذاھٰھنا کذافی المحیط، ملخصاً۔اگر خاوند نے کہا''طلاق دے'' تو بغیر نیت طلاق ہوجائے گی، اور یہی اشبہ بالحق ہے، کیونکہ''داد'' کہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی نے ''خذ'' (لے پکڑ) کہا تو عادت میں ''داد''(فارسی) اور خذ(عربی) دونوں مساوی ہیں، اور اگر خاوند کہے''لے طلاق پکڑ'' تو بغیر نیت طلاق ہوجاتی ہے، تو یہاں بھی ایسے ہی ہوگا جیسا کہ محیط میں ہے۔ملخصاً (فتاوی رضویہ جلد 12صفحہ561رضا فاوندیشن لاہور )

    اسی طرح جب بیوی خذی طلاق کے جواب میں اخذت کہے تو بغیر نیت طلاق واقع ہو گی ۔جیسا کہ ہندیہ ،بحر،رد المحتار وغیرہ میں اسےہی اصح قرار دیا گیا ہے ۔واللفظ للہندیہ : رجُلٌ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: خُذِي طَلَاقَكِ فَقَالَتْ أَخَذْتُ يَقَعُ الطَّلَاقُ وَفِي الْعُيُونِ شَرَطَ النِّيَّةَ وَالْأَصَحُّ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِشَرْطٍ :ترجمہ :مرد نے اپنی بیوی کو کہا کہ خذی طلاقک تو بیوی نے کہا میں نے لی تو طلاق واقع ہو جائے گی ،اور عیون(کتاب)میں ہے کہ نیت شرط ہے ،جبکہ اصح یہ ہے کہ نیت شرط نہیں(الفتاوى الهندية، جلد 01،صفحہ 359،)

    مانحن فیہ مسئلہ میں خذی طلاقک کا لحاظ

    عالمگیری ،رد المحتار ،اور بالخصوص فتاوی رضویہ شریف کی عبارات سےیہ بات واضح ہوتی ہے کہ : طلاق لے یا طلاق لو یہ جملہ صریح ہے،اگرچہ کہ اس کےبر خلاف بھی صحیح قول موجود ہے۔لیکن مانحن فیہ مسئلہ بہ وجوہ چند اس سے جدا گانہ ہے :

    شوہر نے یہاں پر لے لے (طلاق لے لے)کہا ،جس سے ہمارے ہاں ایقاع مقصود نہیں ہوتا،بلکہ بے پرواہی کا احساس دلانے کے لیے کہا جاتا ہے: بھئی لے لے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔جبکہ مقصد اس جملے سے طلاق واقع کرنا نہیں ہوتا ۔

    یہ جملہ خاص کسی ایک معنی کے لیے متعین نہیں بلکہ اس میں کئی معانی کا احتمال موجود ہے،جیسا کہ ہم نے ممکنہ احتمالات تفویض کی بحث میں ذکر کیے۔سو اس طرح کے جملے سے جب ایقاع مقصود نہیں ہوتا ،مزید یہ کہ اس میں کئی احتمالات موجود ہیں تو اس کے باوجود اس کو صریح قرار دینا ،اور بغیر نیت کے وقوع ِطلاق کا قول کرنا بعید از فہم ہو گا ۔

    یہاں پر بطور حجت امام اہلسنت کا ایک اقتباس اپنے موقف پر استشہاد کے طور پر پیش کرتے ہیں ملاحظہ ہو،آپ لکھتے ہیں : ایک ہی بات حرف بحرف ایک ہی جملہ اور اُس سے کبھی اقرار مفہوم ہوتا ہے کبھی انکار۔ زید نے عمرو سے کہا تُو نے اپنی عورت کو طلاق دی اُس نے نرم آواز ودبے لہجے سے کہامیں نے طلاق دی۔ یہ اقرار ہے طلاق ہوگئی اور اگر اُس نے ترش وگرم ہوکر سخت آواز سے تعجب یا زجر وتوبیخ کے لہجے میں کہامیں نے طلاق دی۔ یہ انکار ہے طلاق نہ ہوئی۔ الفاظ بعینہا وہی ہیں اور حکم اثبات سے نفی تک بدل گیا۔ یوں ہی اگر عورت نے کہا مجھے طلاق دے اس نے نہ مانا عورت نے پوچھا دی،اس نے جھڑکنے کے لہجے میں سختی سے کہا دی، طلاق نہ ہوئی ورنہ ہوگئی۔فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے: امرأۃ قالت لزوجھا طلقنی فابی فقالت دادی قال دادم ان کان فی قولہ دادم ادنی تثقیل لایقع الطلاق ۔ترجمہ :کسی عورت نے اپنے شوہر سے کہا ''مجھے طلاق دے دے'' اس نے انکار کیا۔ پھر عورت نے کہا ''تم نے دی'' اُس نے کہا ''میں نے دی''۔ اگر شوہر کے قول میں کُچھ گرا نباری ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ جلد04 صفحہ119، کتاب الطہارۃ ،رضا فاونڈیشن لاہور)

    غور کیجیے !لہجے کے بدلنے سے حکم بدل رہا ہے،اقرار انکارمیں تبدیل ہو گیا ،تو لفظ کے بڑھنے اور کم ہونے سے معنی کا تبدیل ہونا ، مراد کا بدل جانا ،یا پھر کئی معانی کے حتمالات کااس میں پیدا ہو جانا بدرجہ اولی ممکن ہے ۔

    عربی جملوں کا اردو جملوں میں کہاں تک اعتبارہر ایسے اردو جملے کو عربی جملے پر قیاس کرنا درست نہیں جس کا استعمال اردو میں عربی سے مختلف ہو ،جیسا کہ یہ دو جملے( خذی طلاقک اور طلاق لے لے) ۔اس لیے کہ خذی طلاقک صریح کے معنی میں ہے،جو کہ عربی میں طلاق کے لیے کثیر الاستعمال ہے ،جس میں نیت کا اعتبار نہیں۔جبکہ طلاق لے لے کا معاملہ اس کے برعکس ہے ۔یعنی ہمارے ہاں اس کو صریح کے معنی میں مان لینے کے بعد بھی ،طلاق کے لیے یہ کثیر الاستعمال نہیں بلکہ شاذ و نادر ہے۔

    لہذا خذی طلاقک کا حکم بعینہ طلاق لے لے میں ثابت نہیں ہو گا ۔ بلکہ اس کا حکم ان الفاظ کا سا ہے جن میں معنی تو بعینہ طلاق والے ہوتے ہیں لیکن وہ کثیرالاستعمال نہ ہونے کی وجہ سے صریح نہیں بلکہ احتیاجِ نیت میں کنایہ کا حکم رکھتے ہیں جیسے أَنْتِ مُطْلَقَة بالتخفیف اور أَنْتِ ط ل ق وغیرہ علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:" إِنَّ هَذِهِ الْحُرُوفَ يُفْهَمُ مِنْهَا مَا هُوَ الْمَفْهُومُ مِنْ صَرِيحِ الْكَلَامِ، إلَّا أَنَّهَا لَاْ تُسْتَعْمَلُ كَذَلِكَ فَصَارَتْ كَالْكِنَايَةِ فِي الِافْتِقَارِ إلَى النِّيَّةِ". ترجمہ :ان حروف سے وہی مفہوم سمجھاجاتا ہے جو صریح کلام سے سمجھا جاتا ہے، مگر یہ صریح کی طرح مستعمل نہیں ہیں، تو نیت کی محتاجی میں کنایہ کی طرح ہوگئے۔ (ردالمحتار، کتاب الطلاق ، باب الکنایات ، جلد4، صفحہ 535 دار الفکر بیروت)

    خلاصہ حکم :

    پوچھی گئی صور ت میں ہمارے نزدیک یہ جملہ طلاق کے لیے کثیر الاستعمال نہیں ۔نیز اس جملےمیں کئی معانی کے احتمالات کی وجہ سے شوہر کی نیت کا اعتبار ہو گا۔اگر اس کی نیت اس جملے سے تفویض ِطلاق کی تھی تو تفویض کا حکم ہوگا یعنی بیوی نے بغیر کسی اجنبی کلمہ کے اسی مجلس میں اسے اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو طلاق دی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔اور اگر شوہر کی نیت انشا ئےطلاق کی تھی تو اس صورت میں یہ الفاظ کہتے ہی طلاق واقع ہوجائے گی۔جبکہ شوہر کا کہنا ہے کہ یہ دونوں نیتیں نہ تھیں،لہذا شوہر کے اس جملہ (طلاق لے لے)سے کسی بھی طوروقوع ِ طلاق کا حکم نہیں۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:جمادی الاخری 29 1443 ھ/01فروری2022ء