سوال
میں نے اپنی بیوی کی ایک حفاظت کی تھی ،لیکن بیوی نے واپسی جواب مجھے غصہ میں دیا اور کہا کہ گھر آو پھر میں آپ کو بتاتی ہوں۔اور میں اس بات کو برداشت نہ کرسکا ۔گھر آ کر بیوی کو کہا کہ :اب بتاو کیا کرو گی۔اس وقت بیوی کا مزاج اچھا تھا ۔لیکن میں غصے میں تھا ۔اور غصہ کی حالت میں تین بارطلاق طلاق طلاق کا لفظ استعمال کیا ،جس کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔بعد میں بہت رویا کہ یہ کیا کر دیا ۔اب آپ میریرہنمائی فرمائیں !
نوٹ:سائل سے جب بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان لفظوں سے میری مراد طلاق دینا تھا۔
سائل :عالم زیب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ۔اب آپ کے حق میں وہ اجنبی ہیں ،آپ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ میاں بیوی والا تعلق ناجائز و حرام ہو گا ۔بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنی عدت مکمل کرے ۔
عدت گزرنے کے بعد اگر آپ دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا۔جس کی تفصیل آخر میں موجود ہے۔
طلاق دینے میں ایقاع یعنی طلاق کا واقع کرنا ضروری ہے اور ایقاع بغیر وقوع کے ممکن نہیں اور وقوع طلاق کے لیے طلاق کی نسبت عورت کی طرف کرنا ضروری ہوتا ہے ۔خواہ یہ نسبت لفظوں میں یا نیت میں مذکور ہو سیاقِ کلام سے سمجھی جاتی ۔مانحن فیہ مسئلہ میں اضافت اگرچہ لفظوں میں موجود نہیں لیکن سیاق ِ کلام سے قرینہ کے طور پر ضروری سمجھی جا رہی ہے،جو کہ وقوعِ طلاق میں معتبر ہے ۔نیز اس جیسی صورت میں ہمارے ہاں یہ جملہ (طلاق طلاق طلاق )وقوعِ طلاق کے لیے ہی متعارف ہے ۔ان دونوں صورتوں کے علاوہ وقوع طلاق پر سب سے بڑی حجت شوہر کا طلاق کا اقرار کرنا ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وذٰلک لان الطلاق لاوقوع لہ الابالا یقاع ولا ایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولایتاتی ذلک الابالاضافۃ ولو فی النیۃ، فاذا خلیا عنہ لم یکن احداث تعلق اذلاتعلق الا بمتعلق فلم یکن ایقاعا فلم یورث وقوعا وھذاضروری لایرتاب فیہ،مجرد تلفظ بلفظ طلاق ہی بے اضافت بزن نہ درلفظ ونہ درقصد اگر موجب تطلیق شود ہر کسے کہ لفظ طلقت یا طلاق دادم یامی دہم برزبان آرد زن او مطلقہ شود اگر چہ ہمیں قصد حکایت دارد۔ترجمہ: کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع) کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو، تو طلاق جب اضافت لفظی یا قلبی سے خالی ہو تو طلاق کا تعلق پیدا نہ ہوگا کیونکہ تعلق بغیر متعلق نہیں ہوسکتا، اس لئے ایقاع نہ ہوگا، تو وقوع بھی نہ ہوگا، اتنی بات واضح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ اگر زبان پر لفظ طلاق نسبتِ لفظی یا ارادی کے بغیر ہی طلاق دینے کا موجب قرار پائے تولازم آئے گا کہ جو شخص بھی کسی صورت میں اپنی زبان سے لفظ طلاق استعمال کرے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے خواہ حکایت کرتے ہوئے ہی استعمال کرے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 338)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :پھر یہ تحقیق کی کہ اگرلفظ ہر طرح اضافت سے خالی ہوں تو وہاں دیکھا جائے گا کہ یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود ہے جس سے اضافت کا ارادہ راجح طور پر معلوم ہوتا ہو تو قضاءً ظاہر قرینہ کی بناء پر طلاق کا حکم کردیا جائے گا۔( فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 338)
بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:لو قال طالق فقیل من عنیبت فقال امرأتی طلقت امرأتہ۔ترجمہ: کسی نے کہا طالق، تو پوچھا گیا کہ تو نے کس مقصد سے کہا، اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو (طلاق دینے )کے مقصد سے کہا ہے، تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی۔( بحر الرائق شرح کنز الدقائق باب الفاظ الطلاق جلد 3 ص273)
حلالہ شرعی :
حلال شرعی کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ''فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ''ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ، پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''۔( البقرہ 230)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :'' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے ےا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے،وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اورحمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ ( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص 84)۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:جمادی الاخری 231443 ھ/27جنوری 2021ء