سونے چاندی کے برتن کا استعمال
    تاریخ: 12 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 390

    سوال

    ہمارے ہاں بعض گھروں میں سونے کے برتن کھانے پینے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔جو کہ تین قسم کے ہیں (1)خالص سونے کے۔(2)سونے کا پانی چڑھے ہوئے برتن۔(3)اصل برتن کسی اور دھات کا ہوتا ہے ،محض اس پر سونے کی نقش ونگاری ہوتی ہے۔

    سائل:سید ناصر حسین شاہ بخاری/جہلم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    خالص سونے چاندی کے برتنوں کو کھانے کے لیے استعمال کرنا ناجائز و حرام ہے۔البتہ گھر میں سونے چاندی کے برتن،کرسی ،چمچ ،قلم ،دوات وغیرہ رکھنا جن سے مقصود محض زیب و زینت ہوتا ہے،اہل خانہ انہیں استعمال نہیں کرتے،یہ جائز ہے،اس میں حرج نہیں ۔

    علامہ حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :كُرِهَ (الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ وَالِادِّهَانُ وَالتَّطَيُّبُ مِنْ إنَاءِ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ) لِإِطْلَاقِ الْحَدِيثِ ترجمہ:مرد و عورت کے لیے سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور( ان سے) تیل لگانا یا ان (کے عطر دان) سے عطر لگانا مکروہ تحریمی ہے،کیوں کہ حدیث مطلق ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 6صفحہ 341،دار الفکر بیروت)

    حدیث یہ ہے: أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ، فَاسْتَسْقَى فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ، فَلَمَّا وَضَعَ القَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: لَوْلاَ أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ، كَأَنَّهُ يَقُولُ: لَمْ أَفْعَلْ هَذَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ تَلْبَسُوا الحَرِيرَ وَلاَ الدِّيبَاجَ، وَلاَ تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، وَلاَ تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ۔ترجمہ:مجاہد نے کہا کہ مجھے عبد الرحمن ابن ابی لیلی نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پاس تھے ،آپ کو پیاس لگی تو مجوسی نے آپ کے پاس پانی لایا،جب اس نے پیالہ آپ کے ہاتھ میں دیا تو آپ نے اس ے پھینک تے ہوئے فرمایا: میں نے تمہیں ایک نہیں دو مرتبہ اس سے منع کیا ہے،گویا آپ نے کہا کہ:میں ایسے(برتن میں پانی )نہیں پیتا ۔کیوں کہ میں نے نبی علیہ الصلاۃ ولاسلام کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : تم لوگ باریک اور موٹے ریشمی کپڑے نہ پہنو اور سونے چاندی کے برتنوں میں کچھ نہ پیو اور سونے چاندی کی تھالیوں میں کچھ نہ کھاؤ۔ کیونکہ دنیا میں یہ برتن کافروں کیلئے ہیں اور آخرت میں تم مسلمانوں کیلئے ہیں۔(البخاری،رقم الحدیث:5426)

    علامہ حصکفی علیہ الرحمہ زیب و زینت کے لیے رکھے گئے سونے چاندی کے ظروف کے متعلق لکھتے ہیں :وَأَمَّا لِغَيْرِهِ تَجَمُّلًا بِأَوَانٍ مُتَّخَذَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ وَسَرِيرٌ كَذَلِكَ وَفُرُشٌ عَلَيْهِ مِنْ دِيبَاجٍ وَنَحْوِهِ فَلَا بَأْسَ بِهِ ترجمہ:بہر حال سونے چاندے سے بنائے گئے برتن زیب وزینت کے لیے ہوں،استعمال کے نہ ہوں ،اسی طرح چارپائی ،اور ایسا فرش جس پر ریشم وغیرہ (بچھا) ہو تواس میں کوئی حرج نہیں ۔(رد المحتار علی الدر المختار کتاب الحظر والاباحۃ جلد 6صفحہ 342،دار الفکر بیروت)

    2:۔وہ برتن جن پر سونے چاندی کا پانی چڑھا ہو اس کے استعمال میں مطلقاً حرج نہیں۔

    علامہ زیلعی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وَأَمَّا التَّمْوِيهُ الَّذِي لَا يَخْلُصُ فَلَا بَأْسَ بِهِ بِالْإِجْمَاعِ؛ لِأَنَّهُ مُسْتَهْلَكٌ فَلَا عِبْرَةَ بِبَقَائِهِ لَوْنًا ترجمہ : بہر حال تمویہ جو خالص نہ ہو اس میں بالاجماع کوئی حرج نہیں،کیوں کہ وہ ھلاک شدہ ہے،پس اس کے رنگ کے باقی رہنے کا کوئی اعتبار نہیں ۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق ،کتاب الکراھیۃ ،جلد 6صفحہ 11،کتاب الکراھیۃ)

    3:۔وہ برتن جومکمل سونے کا نہ ہو ،نہ اس کا اکثر حصہ سونے کا ہو بلکہ اس کے کسی حصہ مثلاً کناروں پر یا نیچے یا درمیان میں سونے سے نقش و نگاری کی گئی ہوئی ہو،جیسے کہ امرا کے ہاں اس طرح کے برتن متعارف ہیں۔ ایسے برتن کی بابت حکم یہ ہےکہ :

    1:۔اگر سونا چاندی کی نقش و نگاری ایسی جگہ پر ہے جہاں سے برتن کو استعمال کیاجاتا ہے تو اس برتن کا استعمال جائز نہیں ہو گا مثلاً برتن کے اوپرلے کناروں پر لگا ہے جہاں سے وہ مشروب پیا جائے گا ۔یا برتن کے اندرونی حصے میں لگا ہوا ہے جہاں مشروب ہے ۔

    2:۔اور اگر استعمال والی جگہ پر نہیں بلکہ کسی دوسری جگہ پر ہے مثلاً سونے کا کام برتن کے باہر والے نچلے کنارے پر ،یا باہر کے درمیانی حصہ میں ہے،تو ایسے برتن کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔

    در مختار میں ہے:(وَحَلَّ الشُّرْبُ مِنْ إنَاءٍ مُفَضَّضٍ) أَيْ مُزَوَّقٍ بِالْفِضَّةِ وَلَكِنْ بِشَرْطِ أَنْ (يُتَّقَى) أَيْ يُجْتَنَبَ (مَوْضِعُ الْفِضَّةِ) بِفَمٍ ترجمہ:چاندی سے آراستہ کیے گئے برتن میں پینا جائز ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ(اپنا)منہ(ہونٹ)چاندی کی جگہ سے بچائے۔(رد المحتار علی الدر المختارجلد 6صفحہ 341،دار الفکر بیروت)

    اسی سے آگے لکھتے ہیں:وکذا الاناء المضبب بذھب او فضۃ۔ ترجمہ :یہی حکم سونے چاندی سے آراستہ برتنوں کا ہے۔

    علامہ سید احمد طحطاوی علیہ الرحمہ اس کے تحت لکھتے ہیں :ولا باس بالاکل والشرب من اناء مذھب او مفضض ازا لم یضع فاہ علی الذھب او الفضۃ ترجمہ:سونے و چاندی سے مرصع برتنوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں جبکہ اس کا منہ سونے و چاندی پر نہ لگے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر جلد11 صفحہ61،کتاب الحظر والاباحۃ)

    مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سونے ،چاندی کے برتن کے استعمال کے حوالہ سے ضابطہ لکھتے ہیں :چاندی سونے کا کرسی یا تخت میں کام بنا ہوا ہے یا زین میں کام بنا ہوا ہے توا س پر بیٹھنا جائز ہے، جبکہ سونے چاندی کی جگہ سے بچ کر بیٹھے۔ محصل یہ ہے کہ جو چیز خالص سونے چاندی کی ہے، اُس کا استعمال مطلقاً ناجائز ہے اور اگر اس میں جگہ جگہ سونا چاندی ہے تو اگر موضع استعمال میں ہے تو ناجائز، ورنہ جائز۔ (بہار شریعت ،حصہ مکتبہ المدینہ)

    آخر الذکر صورت میں جواز اس حدیث کی بنیاد پر ہے،ملاحظہ ہو : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَسَرَ، فَاتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعْبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ» قَالَ عَاصِمٌ: رَأَيْتُ القَدَحَ وَشَرِبْتُ فِيهِ ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:آقا کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا (مبارک )پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ٹوٹی ہوئی جگہ کو چاندی کی تاروں سے جوڑ دیا ۔(بخاری ،رقم الحدیث:3109)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:25ربیع الثانی 1443 ھ/01دسمبر2021ء