سوال
عرض یہ ہے کہ 2000ءمیں شادی ہو ئی تھی ،اور 2013ءمیں ،میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھی،اس کے بعد میں نے اہل حدیث سے فتوی لے کر نکاح کیا تھا ،لیکن میرا دل مطمئن نہیں تھا ،بالآخرچار سال کے بعد میں نے اپنی بیوی کو کاغذی طور طلاق دے دی ، لیکن اب میری بچوں کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے میں سابقہ بیوی کو دوبارہ اپنی زوجیت رکھنا چاہتا ہوں ۔
اس حوالے سے میری رہنمائی فرمائیں اور میری سابقہ بیوی کو حلالہ کی سمجھ نہیں آرہی لہذا حلالہ کی تفصیل بیان فرمادیں ۔
سائل:محمد امین
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جواب سے پہلے چند باتوں کو سمجھنا چاہیئے ۔
(1)مذہب حنفی، شافعی، مالکی اورحنبلی چاروں ائمہ کے نزدیک مدخولہ عورت کو ایک مجلس میں تین طلاق دینے سے تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں، چاہے ایک جملہ میں تین طلاق کا لفظ کہا مثلاً میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں یا الگ الگ جملوں میں کہا مثلاً میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی، یا ایک مجلس یا دن میں تین طلاق دی بہر صورت تمام طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔اور جو لوگ ایک مجلس دی جا نے والی تین طلاقوں کوایک سمجھتے وہ اجماع امت کی مخالفت کی وجہ سے گمراہ ہیں ۔
اور جو لوگ انکے فتوے پر عمل کر کے رجوع یا نکاح کرتے ہیں وہ امت کے جمہور علماءاسلام کے موقف کی مخالفت کر کے چند ہٹ دھرم قسم کے لوگوں کے موقف کو آڑ بناکر صرف خواہشات نفسانی کی پیروی کرتے ہیں اور حرام کاری میں ملوث ہو کر کبیرہ گناہوں کے مرتکب بنتے ہیں (فلعیاذ باللہ )
(2) شرعا ًطلاق دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے:
اگر شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو سب سے پہلے اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی بیوی ایامِ حیض میں تو نہیں؟ اگر بیوی ایامِ حیض میں ہے تو حیض کے ختم ہونے کا انتظار کرے۔ ایامِ حیض کے خاتمے کے بعد
ایامِ طُہر (پاکیزگی کے دنوں)میں جنسی تعلق قائم کیے بغیر ایک دفعہ طلاق دے۔اورایک طلاق دینے سے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہےجس کے بعد ایامِ عدت میں میاں بیوی کے پاس صلح و رجوع کا حق ہوتا ہے۔ اگر رجوع کی کوئی صورت بن جائے تو درست! ورنہ عدت کی مدت پوری ہونے تک مزید کوئی طلاق نہ دی جائے۔ عدت پوری ہونے پر نکاح ختم ہو جائے گا،بیوی نئے نکاح کے لیے آزاد ہوگی، چاہے سابقہ شوہر کے ساتھ نیا نکاح کرلے یا چاہے کسی اور مرد سے دستور کے مطابق شادی کر لے۔ عدت پوری ہونے پر دوسری اور تیسری طلاق دینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اور اگر عدت کے دوران مزید طلاقیں دیتا ہے تو واقع ہو جائینگی اور تین طلاقوں کی صورت میں وہ عورت ہمیشہ کےساتھ حرام ہو جائے گی سوائے حلالہ شرعی کے رجوع کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔
(3)حلالہ کا معنیٰ ہے حلال کرنے والا ؛ جب کسی عورت کو اس کا شوہر تین طلاقیں دے تو وہ عورت اس مرد کے لیئے ہمیشہ کے ساتھ حرام ہو جا تی ہے اس کے بعد یہ عورت پہلے شوہر کے ساتھ رشتہ ازدواجیت قائم کرنا چاہے تو اس کی ایک ہی صورت شریعت اسلامیہ نے رکھی ہے وہ کسی اور مرد سے نکاح کرکے حقوق زوجیت ادا کرے اور وہ دوسرا شوہر اس کواپنی مرضی سے طلاق دیکر زوجیت سے خارج کرے پھر یہ عورت عدت گزارے ،جس کے بعد زوج اول سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے ۔
یاد رہے !حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنے سے شرعا منع کیا گیا ہے کیونکہ حدیث مبارکہ ہے ‘‘أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ المحلِّلَ والمحلَّل له’’(السنن الصغری للبیھقی،باب فی نکاح المحلل،رقم الحدیث:2495)
ترجمہ:بے شک نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے حلالہ کرنے اور کر وانے والے پر لعنت فرمائی۔
لیکن !اگر کوئی شخص بشرط حلالہ تین طلاق والی عورت سے نکاح کر کے طلاق دیتا ہے ،یا اتفاقا اس سے نکاح کرتا ہے اور پھر کسی شرعی وجہ سے طلاق دیتا ہے توپہلی صورت میں وہ حلالہ کرنے اوربلاضروت شرعی طلاق دینے کی وجہ سے گنہگار ہوگااور دوسری صورت میں گنہگا رنہیں ہوگا لیکن دونوں صورتوں وہ عورت اپنے سابقہ شوہر کے لیئے حلال ہو جا ئےگی ۔
اور بعض لوگوں کا مشروط بشرط حلالہ نکاح کو بدکاری کہنا بالکل غلط ہے ،ہاں !اس طرح سےنکاح کرنے اور کروانے والے گنہگار تو ضرور ہونگے لیکن بدکارہر گز نہیں کہلائینگے ۔اور حلالہ کی شرط سے نکاح کرنے والا شرعاً طلاق دینے کا پابندنہیں، وہ عورت شرعاً اس کی بیوی، اس سے قرار پانے والا حمل جائز و حلال، اور اگر ان میں سے کوئی ایک طلاق سے پہلے مر جائے تووراثت بھی جاری ہوگی ۔
امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے حلالہ کے ساتھ مشروط نکاح کے متعلق سوال کے جواب فرماتے ہیں :‘‘شرائط اور چیز ہے اور قصد اور چیز۔ شرط تو یہ کہ عقد نکاح میں یہ شرط لگالے یہ ناجائز وگناہ ہے او رحدیث میں ایسے حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے، اور قصد یہ کہ دل میں اس کا ارادہ ہو مگر شرط نہ کی جائے تو یہ جائز ہے بلکہ اس پر اجر کی امید ہے۔
درمختار میں ہے : (کرہ) التزوج للثانی(تحریما) لحدیث لعن اﷲالمحلل والمحلل لہ(بشرط التحلیل)کتزوجتک علی ان احللک (امااذا اضمرا ذٰلک لا) یکرہ (وکان) الرجل (ماجورا) لقصد الاصلاح ترجمہ:حلالہ کی شرط پر نکاح کہ میں اس شرط پر تجھ سے نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق دے کر حلال کردوں گا دوسرے شخص کا نکاح مکروہِ تحریمہ ہے لیکن دونوں نے اگر دل میں حلالہ کی نیت کی تو مکروہ نہیں، اس صورت میں دوسرا شخص اصلاح کی غرض سے نکاح کرنے پر اجر کر مستحق ہوگا’’ ۔
اس تفصیل کو جاننے کے بعد جواب ملاحظہ فرمائیں :
تین طلاقوں کے بعد آپ کا ایک فتوے کو بنیاد بناکر دوبارہ اسی عورت سے ازدواجی معاملات قائم کرنا سخت ترین گناہ اورافعالِ حرام کا باعث تھاجس کی وجہ سےآپ پر سچی توبہ کرنا لازم ہے ۔
اور حلالہ کے معنیٰ یہ ہیں کہ تین طلاق کےبعدعورت اگر حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائدعمر کی عورت ہےتو اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں اوراگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،یعنی کسی بھی صورت میں اس طلاق کی عدت سےنکل جائے اور اسکے بعدکسی دوسرے شخص سے بر وجہ صحیح نکاح کرے اوروہ شخص اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعداپنی مرضی سے طلاق دے اور(پھر ) اس طلاق کی بھی عدت گزر لےاس کے بعد پہلا شوہر اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے ۔
ناصر السنہ محی الدین العلامہ ابو زکریا یحی بن شرف النووی نے شرح النووی میں فرمایا : قال لامرأتہ انت طالق ثلاثاً فقال الشافعی ومالک وابو حنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع ثلاثاً‘‘۔
جس شخص نے اپنی بیوی کو کہا تجھے تین طلاقیں ہیں تو اس کے متعلق امام شافعی، امام مالک، امام اعظم ابو حنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف وخلف نے تین طلاق کے واقع ہونے کا فتوی صادر فرمایا۔[ شرح النووی علی المسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث: 1/478، مطبوعہ: قدیمی کتب خانہ،کراچی]۔
عمد ۃالقاری شرح صحیح بخاری میں ہے ’’مذہب جماھیر العلماء من التابعین ومن بعد ھم منھم الاوزاعی والنخعی والثوری ابو حنیفہ واصحابہ ومالک واصحابہ والشافعی واصحابہ واحمد واصحابہ واسحاق وابو ثوروابو عبید وآخرون کثیرون علی ان من طلق امراتہ ثلاثا وقعن ولکنہ یاثم وقالوا من خالف فیہ فھو شاذمخالف لاھل السنۃ وانما تعلق بہ اھل البدع ‘‘ترجمہ:’’ جمہور علماء کرام تابعین میں سے اور جو ان کے بعد والے ہیں ان میں امام اوزاعی اور علامہ نخعی اور علامہ ثوری اور امام ابو حنیفہ اور اس کے اصحاب اور امام مالک اور اس کے اصحاب اور امام شافعی اور اس کے اصحاب اور امام احمد اور ان کے اصحاب اور علامہ اسحاق اور علامہ ابو ثور اور علامہ ابو عبید اور بہت سے متاخرین کا مذہب یہ ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو واقع ہو جائیں گی لیکن اس سے گناہ گار ہو گا اور علماء نے فرمایا جو اس کے خلاف مذہب رکھتا ہو شاذاور اہل سنت کا مخالف ہے اور اس کا تعلق اہل بدعت سے ہے ‘‘۔[ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث: 20/233، دار احیاء التراث العربی، بیروت]
اسی طرح تقریباً چاروں مذاہب کی فقہی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے سے تین ہی ہوتی ہیں، مثلاً فقہ حنفی کی کتب میں رد المحتار، الدر المختار، تبیین الحقائق، النھر الفائق، بدائع الصنائع، فتح القدیر، الجوہرۃ النیرۃ، شرح الوقایۃ، الہدایۃ، البنایۃ، حاشیۃ الطحطاوی وغیرہم میں تین طلاق کو تین ہی شمار کیا اورنافذ کیا ہے ۔
فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ'' ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ کی یہ حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''،( البقرہ 230)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجراء:18ربیع الثانی 1440 ھ/26دسمبر 2018ء