سوال
میاں بیوی کےدرمیان خلع واقع ہونے کے بعد بچے کی custody(حقِ پرورش)کے حوالے سے درج ذیل سوالات ہیں:
1: کس صورت میں باپ کو بچے کی پرورش کا حق حاصل ہوگا؟
2:بچے کو ماں نے رکھ لیا ہے کیونکہ باپ زنا،گالی گلوچ اور شراب پینے جیسے سنگین جرائم میں مبتلا ہے
3: جب ماں کا انتقال ہو جائے تو کیاحقِ پرورش باپ کے پاس آ جائے گا؟
4:اگر ماں پاگل ہوجائے تو کیا حق ِپرورش باپ کے پاس آجائے گا؟
5:اگر ماں دوسری شادی کرلے کیا باپ کے پاس حق ِ پرورش آجائے گا؟
6:اگر باپ اچھا انسان بن جاتا ہے اور دوسری شادی کر لیتا ہے تو کیا اسے حقِ پرورش حاصل ہوجائے گا ؟
7:کیا اس کے علاوہ کوئی اور صورت ِحال ہیں جس کی بنیاد پر شوہر کو حقِ پرورش حاصل ہوجائے گا؟ سائل:حسان میاری:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب ماں باپ کے درمیان طلاق یا خلع وغیرہ کی وجہ سے جدائی ہوجائے تو شریعت مطھرہ نے لڑکا ہو تو سات سال کی عمر تک اور لڑکی میں نو سال کی عمر تک حق ِحضانت(پرورش)ماں کو دیا ہے۔مگر جب ماں مرتدہ یا فاجرہ ہوجائےیا لاپرواہ ہو کہ ہر وقت بچے کو چھوڑ کر باہر چلی جاتی ہو یا پھر ایسے شخص سے نکاح کرلے جو بچے کے لیے اجنبی (غیر محرم)ہویا وہ فوت ہوجائےیا اپنا حق خود ساقط کردے۔تو اس صورت میں حق ِحضانت مذکورہ صورتوں (مرتدہ،فاجرہ،لاپرواہ،اجنبی سے نکاح ،وفات،اسقاط) کی موجودگی میں یکے بعد دیگر درج ذیل عورتوں کی طرف منتقل ہوتا رہے گا: عورتوںمیں سب سے مقدم۔۔۔
1: ماں ہے
2:پھر سگی نانی
3:پھرسگی نانی کی ماں
4:پھر سگی دادی
5:پھرسگی دادی کی ماں
6:پھربچےکی بہن
7:پھرماں شریک (ماں ایک ہو ،باپ الگ ہو) بہن
8:پھرباپ شریک (باپ ایک ہو ماں الگ ہو)بہن،
9:پھر سگی بھانجی
10:پھر ماں شریک بھانجی
11:پھرباپ شریک بھانجی
12:پھر سگی خالہ
13:پھر ماں شریک خالہ
14:پھر باپ شریک خالہ،
15:پھر سگی بھتیجی
16:پھر ماں شریک بھتیجی
17:پھر باپ شریک بھتیجی
18:پھر سگی پھوپھی
19:پھر ماں شریک پھوپھی
20:پھر باپ شریک پھوپھی
21:پھر ماں کی سگی خالہ
22:پھر ماں شریک خالہ
23:پھر باپ شریک خالہ
24:پھر باپ کی سگی خالہ
25:پھر ماں شریک خالہ
26:پھر باپ شریک خالہ
27:پھر ماں کی سگی پھوپھی
28:پھر ماں شریک پھوپھی
29:پھر باپ شریک پھوپھی
30:پھر باپ کی سگی پھوپھی
31:پھر ماں شریک پھوپھی
32:پھر باپ شریک پھوپھی
یہ بتیس ۳۲ عورتیں ہیں۔
ان مذکورہ عورتوں میں سے کوئی نہ ہو یا پھر مذکورہ صورتوں کے سبب حقِ پرورش کی مستحق نہ رہیں تو حق حضانت عصبہ مردوں کی طرف یکے بعد دیگر مذکورہ صورتوں میں سے ارتداد ،فسق وفجور ،لاپرواہی اور وفات پائے جانے کی صورت میں منتقل ہوتا رہے گا ۔جن میں سب سے مقدم باپ ہے، پھر دادا، پھر سگا بھائی، پھر باپ شریک بھائی، پھر سگا بھتیجا، پھر باپ شریک بھتیجا، پھر سگا چچا، پھرباپ شریک چچا ۔پھر ان عصبات کے بعد ذوی الارحام اپنی ترتیب کے اعتبار سے حقدار ہونگے۔نیزحق حضانت (پرورش)کے لیے عاقل ،بالغ اور آزاد ہونا بھی شرط ہے ۔ حضانت کی مدت (لڑکا سات سال ،لڑکی نو سال) گزرجانے کی صورت میں اولاد بالغ ہونے تک والد کے پاس رہے گی۔
پس صورتِ مستفسرہ میں خلع کے واقع ہونے کے بعد حق حضانت ماں کے پاس رہے گا اور ماں کے مرنے ،پاگل ہونے اوراجنبی (بچے کا غیر محرم)سےشادی کرنے کےبعد حق ِحضانت پہلےمذکورہ 31عورتوں کے پاس یکے بعد دیگر منتقل ہوگا پھر اسکےبعد والد کے طرف ہوگا جبکہ والد فاسق وفاجر نہ ہو اور اگر ہو تو پھر یہ حق یکے بعد دیگر مذکورہ عصبہ مردوں کی طرف منتقل ہوگا ۔
البتہ والدکے نیک ہونے کی صورت میں مذکورہ عورتوں کےبعد حقِ پرورش والد کا ہوگا ۔اسی طرح حضانت کی عمر (لڑکا سات سال ،لڑکی نو سال) گزرنے کےبعد بھی بچہ والد کی پرورش میں رہے گااگرچہ اس نے دوسرا نکاح کرلیا ہو ۔
در مختار میں ہے:الحضانۃ للام الا ان تکون فاجرۃ او متزوجۃ بغیر محرم الصغیرثم بعد الام بان ماتت اولم تقبل اوتزوجت باجنبی ام الام، ثم ام الاب ،ثم الاخت ثم الخالات ثم العمات ملخصاً ترجمہ: ماں اگر فاجر ہ یا بچے کے غیر محرم سے نکاح والی نہ ہوتوو ہی پرورش کا حق رکھتی ہے، پھر ماں اگر فوت ہوجائے یا بچے کو قبول نہ کرے یابچے کے اجنبی سے نکاح کرلے تو اس کے بعد نانی پھر دادی پھر بہن پھر ،خالات ،پھر پھوپھیوں کو حق حضانت ہے ملخصاً(رد المحتار علی الدر مختار ،جلد:3،ص:555،556،557،دارالفکر بیروت)
در مختار میں ہے: ثم بعد الام ام الام وان علت، ثم ام الاب وان علت، ثم الاخت لاب وام، ثم لام، ثم لاب، ثم بنت الاخت لابوین، ثم لام، ثم لاب، ثم الخالات کذٰلک ای الابوین، ثم لام، ثم لاب، ثم بنت الاخت لاب، ثم بنات الاخ(لاب وام، اولام او لاب علی الترتیب) ثم العمات (لاب وام، ثم لام ثم لاب) ثم خالۃ الام کذٰلک، ثم خالۃ الاب کذٰلک، ثم عمات الامھات والاباء بھذا الترتیب، ثم العصبات بترتیب الارث فیقدم الاب، ثم الجد، ثم الاخ الشقیق، ثم لاب،ثم بنوہ کذٰلک، ثم العم، ثم بنوہ، ثم اذالم تکن عصبۃ فلذوی الارحام ملخصاً.ترجمہ: ماں کے بعد نانی اوپر تک، پھر دادی اوپر تک، پھر حقیقی بہن، پھر ماں کی طرف سے سگی بہن، پھر باپ کی طرف سے سگی بہن، پھر حقیقی بہن کی بیٹی، پھر ماں کی طرف سے بہن کی بیٹی، پھر باپ کی طرف سے سگی بہن کی بیٹی، پھر باپ کی طرف سے سگی بہن کی بیتی، پھر اس ترتیب پر حالات، پھر باپ کی طرف سے بہن کی بیٹی، پھر بھائی کی بیٹیاں اس ترتیب، پھر پھوپھیاں اس ترتیب پر، پھر ماں کی خالہ، پھر باپ کی خالہ اس ترتیب سے، پھر ماؤں کی پھوپھیاں، پھر آباء کی پھوپھیاں اسی ترتیب پر پھر عصبہ مرد حضرات وارث ہونے کی ترتیب پر یعنی پہلے باپ پھردادا، پھر حقیقی بھائی، پھر باپ کی طرف سے سگابھائی، پھر بھائی کے بیٹے اس ترتیب پر، پھر چچا، پھر اس کے بیٹے، اور پھر اگر عصبات نہ ہوں تو ذوالارحام حقدار ہوں گے ملخصا(رد المحتار علی الدر مختار ،جلد:3،ص:562،563،564 ،دارالفکر بیروت)
فتاوی شامی میں ہے: قَالَ الرَّمْلِيُّ: وَيُشْتَرَطُ فِي الْحَاضِنَةِ أَنْ تَكُونَ حُرَّةً بَالِغَةً عَاقِلَةً أَمِينَةً قَادِرَةً، وَأَنْ تَخْلُوَ مِنْ زَوْجٍ أَجْنَبِيٍّ، وَكَذَا فِي الْحَاضِنِ الذَّكَرِ سِوَى الشَّرْطِ الْأَخِيرِترجمہ:علامہ خیر الدین رملی فرماتے ہیں :اورحاضنہ(پرورش کرنے والی عورت)ہونے کےلیےآزاد،بالغ،عاقل ،اٰمن ،قادرہ اور اجنبی مرد سے نکاح نہ کیا ہونا شرط ہے اور اسی طرح آخری شرط کے علاوہ بقیہ تمام شرائط کا حاضن(پرورش کرنے والا مرد )میں پایا جانا بھی ضروری ہے۔(رد المحتار علی الدر مختار ،جلد:3،ص:555 ،دارالفکر بیروت)
درمختار میں ہے: (وَلَا خِيَارَ لِلْوَلَدِ عِنْدَنَا مُطْلَقًا) ذَكَرًا كَانَ، أَوْ أُنْثَى قُلْت: وَهَذَا قَبْلَ الْبُلُوغِ ترجمہ:اور اولاد چاہے لڑکا ہو یا لڑکی اسکے لیے کوئی اختیار نہیں میں کہتا ہوں یہ حکم بلوغت سے پہلے ہے۔
اس کے تحت رد المختار میں ہے :إذَا بَلَغَ السِّنَّ الَّذِي يُنْزَعُ مِنْ الْأُمِّ يَأْخُذُهُ الْأَبُ ترجمہ:جب اولاد اس عمر تک پہنچ جائے جب اسے ماں سے لےلیا جاتا ہے اور باپ اسے لے لیتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر مختار ،جلد:3،ص:567 ،دارالفکر بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحیح:مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01 شعبان المعظم 1442 ھ/16مارچ 2021 ء