سوال
میری شادی کو 12 سال ہوچکے ہیں۔ اور میری2 بیٹیاں ہیں جو کہ دونوں ہی 12 سال سے کم عمر کی ہیں۔شادی کے ابتدائی سالوں میں میری نوکری بہت اچھی تھی ۔لیکن بعد میں وہ نوکری چھوٹ گئی اور مالی معاملات میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔چناچہ میری زوجہ جو کہ ایک اچھے مالدار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں ،ان کا تقاضا یہ ہے کہ مجھے الگ گھر لے کر دو۔فی الحال ہماری فیملی اپنے تایا کے گھر میں مقیم ہے جہاں بچپن سے ہی ہم رہ رہے ہیں۔بہرحال ،میری زوجہ اس بات کو بنیاد بنا کر کہ میں مالی ضرورتیں پوری نہیں کرتا اور علیحدہ مکان لے کر نہیں دیتا ،وہ بغیر میری اجازت کے اپنے والدین کے گھر چلی گئی ہیں۔اور بچوں کو بھی ساتھ لے گئی ہے۔نیز والدین کے گھر رہتے ہوئے وہ اپنا اور اپنی بچیوں کا نفقہ بھی مانگ رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح ان کا جانا درست ہے؟۔کیا بچیوں کو ساتھ لیجانے کی ان کو اجازت ہے؟۔کیا والدین کے گھر رہتے ہوئے نان نفقہ کا مطالبہ کرنا درست ہے؟ کیا مجھ پر ان کو الگ گھر لے کر دینا لازم ہے ،جب کہ میری مالی حالت اب پہلی جیسے نہیں رہی۔نیز شوہر کے حقوق صحیح معانوں میں ادا نہ کرنے والی ، شوہر کو ذلیل کرنے والی بیوی کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ سائل:طارق:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سوال کے جواب سے قبل بطور تمھید یہ بات جان لی جائے کہ شوہر کے ذمہ بیوی کو کونسی چیزیں دینا ضرو ری ہیں او ر کونسی نہیں ۔ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
1:سال میں ایک گرمی کا اور ایک سردی کا جوڑا دینا
2: کھانے پینے کے لیے اتنا راشن دینا کہ جتنا بیوی بچوں کو کفایت کر جائے ۔ریسٹورنٹ میں لے جا کر کھلانا یا ریسٹورنٹ کے پرتکلف کھانا گھر منگو ا کر کھلانا شوہر پر لازم نہیں۔
3:کپڑے اور جسم کی صفائی کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔مثلاً صابن ،سرف،بالوں کا تیل ،کنگھی، ناخن کٹر وغیرہ یہ چیزیں شوہر کو دینا لازم ہیں۔
4:جن چیزوں کے ذریعے زینت حاصل کی جاتی ہے ۔مثلاً سرمہ اور آج کل میک اپ وغیرہ کا سامان یہ شوہر پر دینا لازم نہیں ۔ہاں اتنی مقدار خوشبو جو جسم سے بدبو دور کرے وہ شوہر پر لازم ہے۔
5:اگر میاں بیوی جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں اور بیوی کے لیے ایک الگ کمرہ ہے جس میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی نہیں جاتا
اور وہ اپنی مرضی سے اسے کھولتی اور بند کر تی ہے ۔تو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ الگ گھر دینا لازم نہیں اور نہ ہی عورت الگ گھر کا مطالبہ کر سکتی ہے
مذکورہ بالا تمھید کے بعد صورت ِ مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ اگر شوہر اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے اور عورت کے پاس گھر میں ایک ایساالگ کمرہ موجود ہے جس میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی آتا جاتا نہیں اوراس کمرے پر اسے پورا اختیار ہے تو ایسی صورت میں عورت کا الگ گھر کا مطالبہ کرناشرعاً درست نہیں اور نہ ہی اسے وجہ بنا کر اپنے والدین کے گھر جانا درست ہے اورشوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے والی عورت ناشزہ (نافرمان)ہے۔اور ناشزہ کا نان و نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوتا جب تک وہ گھر واپس نہ لوٹ آئے ۔اور بیوی کا بچیوں کو اپنے ساتھ لے جانااور شوہر سے ملنے نہ دینا بھی شرعاً درست نہیں ۔
بدائع ا لصنائع میں ہے: يَجِبُ عَلَيْهِ مِنْ الْكِسْوَةِ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّتَيْنِ صَيْفِيَّةً وَشَتْوِيَّةً۔ترجمہ: شوہر پرہر سال میں ایک جوڑا سردی اور ایک جوڑا گرمی کا لازم ہے ۔(بدائع الصنائع ،جلد:4،ص:23،دارالکتب العلمیۃ)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے: يُفْرَضُ لَهَا قَدْرُ الْكِفَايَةِ مِنْ الطَّعَامِ ترجمہ:بیوی کے لیے شوہر کے ذمہ بقدر کفایت کھانا دینا لازم قرار دیا گیا ہے۔(فتاوٰی ہندیہ،جلد:1،ص:549،دارالفکر بیروت)
اسی میں ہے: وَأَمَّا مَا يُقْصَدُ بِهِ التَّلَذُّذُ وَالِاسْتِمْتَاعُ مِثْلُ الْخِضَابِ وَالْكُحْلِ فَلَا يَلْزَمُهُ بَلْ هُوَ عَلَى اخْتِيَارِهِ إنْ شَاءَ هَيَّأَ لَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ، فَإِذَا هَيَّأَ لَهَا فَعَلَيْهَا اسْتِعْمَالُهُ، وَأَمَّا الطِّيبُ فَلَا يَجِبُ عَلَيْهِ مِنْهُ إلَّا مَا يَقْطَعُ بِهِ السَّهْوَكَةَ لَا غَيْرُ وَيَجِبُ عَلَيْهِ مَا يَقْطَعُ بِهِ الصُّنَانَ۔ ترجمہ:باقی رہی وہ چیزیں کہ جس سے لذتاور نفع ملتا ہے مثلاً خضاباور سرمہ تو یہ شوہر پر لازم نہیں ہیں ،بلکہ شوہر کی مرضیہے چاہے تو اسے لے کر دےچاہے تو نہ لے کر دے ۔اور اگر اسے لےکر دیتا ہے تو خاتون پر اس کا استعمال کرنا لازم ہے۔ خوشبو لے کردینا بھی لازم نہیںمگریہ کہ بدبو ختم کرنے کے لیےہو نہ اس کے علاوہ کے لیے۔ہاںبغلوں کی بدبو ختم کرنے کے لیےخوشبو لے کر دینا لازم ہے۔(فتاوٰی ہندیہ،جلد:1،ص:549،دارالفکر بیروت)
اسی میں ہے: فَإِنْ كَانَ فِي الدَّارِ بُيُوتٌ فَرَّغَ لَهَا بَيْتًا، وَجَعَلَ لِبَيْتِهَا غَلْقًا عَلَى حِدَةٍ لَيْسَ لَهَا أَنْ تَطْلُبَ مِنْ الزَّوْجِ بَيْتًا آخَرَترجمہ:اگر ایک گھر میں کئی کمرے ہوں اور شوہر نے اس میں ایسا کمرہ بیوی کو فارغ کر کے دیا، جس کو بیوی اپنی مرضی سے تالا لگاسکتی ہے تو پھر اس کا زوج سے دوسرے مکان کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔۔(فتاوٰی ہندیہ،جلد:1،ص:556،دارالفکر بیروت)
درمختار میں ہے: (لا) نفقة لأحد عشر(خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعودملخصاً۔ ترجمہ:گیارہ عورتوں کے لیے نان نفقہ نہیں (ان میں سے ایک)وہ جو ناحق شوہر کے گھر سے چلی جائے اور وہ واپس آنے تک نافرمان ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:3،ص:575،576،دارالفکر بیروت)
نیز شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا اور اسکی نافرمانی کرنا ،اسے اذیت پہچانا اور اس سے لاتعلقی رکھنا سخت ناجائز اور حرام ہے۔
نافرمان بیوی کے بارے میں قرآن پاک کا حکم:
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ-فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا ترجمہ کنزالایمان:اورجن عورتوں کی نافرمانی کاتمہیں اندیشہ ہوتوانہیں سمجھاؤاوران سےالگ سوؤاوراُنہیں ماروپھراگروہ تمہارےحکم میں آجائیں تواُن پرزیادتی کی کوئی راہ نہ چاہوبےشک اللہ بلندبڑاہے۔(النساء:34)
شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنے پر وعید:
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: من حق الزَّوْج على الزَّوْجَة أَن لَا تَصُوم تَطَوّعا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِن فعلت جاعت وعطشت وَلَا يقبل مِنْهَا وَلَا تخرج من بَيتهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِن فعلت لعنتها مَلَائِكَة السَّمَاء وملائكة الرَّحْمَة وملائكة الْعَذَاب حَتَّى ترجع ترجمہ : بیوی پر شوہر کا یہ بھی حق ہے کہ اس کی اجازت کے بغیرنفلی روزہ نہ رکھے لیکن اگر اس نے ایسا کیا تومحض بھوکی پیاسی رہی اوراس کا روزہ قبول نہ ہوگا۔ اوراسکی اجازت کے بغیر اپنے گھر سےبھی نہ نکلے،اگراس نےایساکیاتوواپس آنےتک اس پرزمین وآسمان اوررحمت وعذاب کے فرشتے لعنت بھیجتےہیں۔‘‘(الترغیب الترھیب،کتاب النکاح،باب ترغیب الزوج فی الوفائ…الخ ،الحدیث:2985،ج3،ص37 مطبوعہ بیروت)
عورت پر سب سے زیادہ حق شوہر کا ہے:
حدیث مبارکہ میں ہے :سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں: سألت رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم: أيّ الناس أعظم حقّاً علی المرأۃ؟ قال: زوجھا، قلت: فأيّ الناس أعظم حقّاً علی الرجل؟ قال: أمّہ، رواہ البزار بسند حسن والحاکم۔ترجمہ: میں نےحضوراقدسﷺ سےعرض کی:عورت پرسب سےبڑا حق کس کا ہے ؟فرمایا:شوہرکا،میں نے عرض کی: اورمرد پر سب سے بڑا حق کس کاہے؟فرمایا:اسکی ماں کا۔بزارنےبسندِحسن اورحاکم نےاسے روایت کیا۔(المستدرک علی الصحیحین''، کتاب البرّ والصلۃ ، ج5، ص208، حدیث نمبر: 7326)
بلکہ شوہر کا حق اس قدر ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ارشاد فرمایا: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَوْ تَعْلَمْنَ حَقَّ أَزْوَاجِكُنَّ عَلَيْكُنَّ لَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ مِنْكُنَّ تَمْسَحُ الْغُبَارَ عَنْ وَجْهِ زَوْجِهَا بِنَحْرِ وَجْهِهَا۔ترجمہ:اے عورتو اگر تم اپنے اوپر اپنے شوہروں کے حقوق جانتیں تو تم میں سے ہر ایک شوہر کے قدموں کا غبار اپنے رخسار سے صاف کرتی۔‘‘( المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب النکاح ،باب ما حق الزوج علی المراۃ ،الحدیث: 17129،ج3،ص557 مطبوعہ بیروت)
اسی طرح نبی کریم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہے: لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ المَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَاترجمہ:اگرمیں کسی کوسجدہ کرنےکاحکم دیتا توعورت کوحکم دیتا کہ وہ اپنےشوہرکوسجدہ کرے۔(سنن ترمذی ،جلد3،ص457،رقم 1159مطبوعہ بیروت)
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ عورت کسی صورت میں اپنے شوہر کی نافرمانی نہیں کرسکتی اور سب سے زیادہ عورت پر شوہر کا حق ہے لہذا ان تمام کاموں سے عورت اپنے آپ کو بچائے جس سے شوہر کی نافرمانی یا اسکی حق تلفی واقع ہوتی ہے بلکہ شوہر کے حقوق کی پاسداری اور اسکی اطاعت کرکے جنت جیسے انعام کی مستحق ہو چنانچہ حضرتِ سیدناعبد الرحمن بن عو ف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ "ترجمہ: نبی کریم ﷺنے فرمایا،''عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے، رمضان کے روزے رکھے،اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اوراپنےشوہرکی اطاعت کرے تو اس سےکہاجائے گاکہ جنت کےجس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہوجاؤ۔'' (مسند احمدبن حنبل، مسند عبد الرحمن بن عوف ،رقم 1661، ج3، ص 199،مطبوعہ بیروت)
اسی طرح ترمذی شریف کی حدیث مبارکہ میں ہے : حضرتِ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ ترجمہ: نبی کریمﷺ نے فرمایاکہ'' جس عورت کے مرتے وقت اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہوگی ۔'' (ترمذی، کتاب الرضاع ، باب فی حق الزوج ،رقم 1161، ج3، ص 458،مطبوعہ ،بیروت)
البتہ عورت اپنے والدین کے گھر ہفتہ میں ایک بار جا سکتی ہے جیسا کہ بہارشریعت میں ہے: عورت اپنے والدین کے یہاں ہر ہفتہ میں ایک بار اور دیگر محارم کے یہاں سا ل میں ایک بار جاسکتی ہے، مگر رات میں بغیر اجازت شوہر وہاں نہیں رہ سکتی، دن ہی دن میں واپس آئے۔ (بہارشریعت، جلد2،حصہ 8،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 25جمادی الاول1443 ھ/30دسمبر2021 ء