tahleel-ke-baad-teen-talaq-de-kar-phir-halala
سوال
ایک شخص ہے، اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں۔ پھر شرعی تقاضوں کے مطابق تحلیلِ شرعی (یعنی حلالہِ شرعی) ہوا۔ پھر دوبارہ اس بندے نے طلاق دے دی یعنی پہلے والے شوہر نے دوبارہ تین طلاقیں دے دیں اب دوبارہ کیا حلالہ ضروری ہوگا واپس آنے کے لیے؟
سائل :عبد اللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر اس سے دوبارہ نکاح کرنے کے لیے اس کا کسی دوسرے شخص سے نکاح میں بوقت عقد اس شرط پر کرائے کہ وہ نکاح کے بعد اسے طلاق دے گا، تو ایسا کرنا ناجائز اور گناہ ہے؛کیونکہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم نے ایسے فعل کو سختی سے منع کیا اور اس عمل میں شریک دونوں افراد، یعنی جو شخص ایسا کروا رہا ہے اور جو اس شرط پر نکاح کر رہا ہے، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اگر شرط نہ لگائیں بلکہ دل میں حلالہ کا قصد اورنیت ہو تو گناہ نہیں ۔
بہرحال، پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ حلالہ کے بعد دوبارہ تین طلاقیں دینے کی صورت میں شوہر کے لیے وہ عورت دوبارہ حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے۔ پھر سے اس عورت سے نکاح کے لیے تحلیلِ شرعی ضروری ہے۔ بغیر تحلیلِ شرعی کے عورت حلال نہیں ہوگی۔
یاد رہے نکاح ایک مقدس عمل ہے، جبکہ طلاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل ہے۔لہذا بار بار طلاق دینا اور پھر حلالہ (تحلیلِ شرعی) کے ذریعے دوبارہ نکاح کے راستے تلاش کرنا شریعت کے احکام، طلاق کے مقصد اور رشتۂ ازدواج کا کھلم کھلا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اگرچہ تحلیل ِشرعی سے ظاہری حرمت ختم ہو جاتی ہے، لیکن بار بار اس صورتحال کی نوبت لانا دینی بے حسی اور اخلاقی تنزلی کا سبب ہے۔ مزید برآں، اس طرح بار بار تین طلاقیں دینا عورت کی عزتِ نفس کی تذلیل اور خاندانی نظام کو تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے کیونکہ شریعت نے شوہر کو طلاق کا اختیار اس لیے نہیں دیا کہ وہ جب چاہے غصے یا نادانی میں رشتہ توڑ دے اور پھر تحلیل شرعی کے ذریعے اسے دوبارہ قائم کرے۔لہذااس شخص پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا احترام کرے، اپنے غصے اور زبان پر قابو رکھے، اور رشتۂ ازدواج کو سنبھالنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینِ اسلام کے احکام سے کھیلنے سے سخت پرہیز کرے۔
شوہر جب تین طلاقیں دے اور اس کی عدت گزر جائے، پھر عورت دوسرے مرد سے نکاح کرے اور جماع بھی پایا جائے، پھر دوسرا شوہر اسے طلاق دے اور اس کی عدت بھی گزر جائے (یعنی مدخولہ عورت کی عدت تین حیض ہے، حیض نہ آتے ہوں تو تین ماہ عدت ہے، اور اگر عورت حاملہ ہو تو بچہ پیدا ہونے تک عدت ہے)، اس کے بعد دوبارہ پہلے شوہر سے نکاح کرے تو وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی۔اس بارے اللہ تعالٰی کا فرمان مقدس ہے ’’فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه : ترجمہ: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تواب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ (البقرہ:۲۳۰)۔
عورت پہلے مرد کے لیے حلا ل اس وقت ہوگی جب دوسرا مرد دخول کر لے ’’ عن عائشة، قالت: جاءت امراة رفاعة القرظي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني نكحت عبد الرحمن بن الزبير، والله ما معه إلا مثل هذه الهدبة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لعلك تريدين ان ترجعي إلى رفاعة، لا، حتى يذوق عسيلتك، وتذوقي عسيلته". ترجمہ :ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رفاعہ قرظی کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: "اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلمّ میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے نکاح کیا ہے، اورمعذرت کے ساتھ اللہ عزّ وجلّ کی قسم، ان کے پاس تو اس کپڑے کی جھالر جیسے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "شاید تم چاہتی ہو کہ رفاعہ کے پاس واپس جاؤ؟جب تک کہ تم ان کا ذائقہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارا ذائقہ نہ چکھ لیں۔(سنن النسائی ، كتاب الطلاق،الطلاق للتي تنكح زوجا ثم لا يدخل بها،جلد:2 ،صفحہ:146، المكتبة التجارية)
حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر اللہ تعالٰی نے لعنت فرمائی ’’ قالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" هُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَه‘‘۔ ترجمہ : عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تم کو ’’مستعار‘‘ (مانگے ہوئے) بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں“؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔(سنن ابن ماجہ ، كتاب النكاح،باب المحلل والمحلل له،جلد:2،صفحہ:623، دار إحياء الكتب العربية)
اس حوالے سے در مختار میں ہے ’’کره التزوج للثانی تحریما لحدیث لعن الله المحلل و المحلل له بشرط التحلیل کتزوجتک علی ان احللک امّا اذا اضمر ذالک لا یکره و کان الرجل ماجورا لقصد الاصلاح ‘‘ ترجمہ : دوسرے شخص کا نکاح کر نا مکروہ تحریمی ہے حدیث کی وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی جب تحلیل کی شرط رکھی جائے، جیسے یہ کہا جائے کہ ’’میں تم سے اس نیت سے نکاح کرتا ہوں کہ تمہیں (پہلے شوہر کے لیے) حلال کروں۔‘‘ لیکن اگر یہ ارادہ دل میں رکھا جائے تو (یہ نکاح) مکروہ نہیں ہوگا، اور اگر نیت اصلاح کی ہو تو وہ شخص اجر کا مستحق ہوگا ۔(رد المحتار ،كتاب الطلاق،باب الرجعة، مطلب في حيلة إسقاط عدة المحلل،جلد:3،صفحہ:414، دار الفكر بيروت)
والله تعالى اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27ربیع الاول 1448ھ/10ستمبر2026ء