tafsir sagheer ke tanazur mein supreme court ke faislay ka sharai o aini hukum
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ 7 مارچ 2019 کو مبارک ثانی قادیانی نے قادیانی نظریات پر مشتمل قرآن مجید کی من گھڑت حرف تفسیر بنام تفسیر صغیر تقسیم کی جسکے خلاف تحریف قرآن اور ترویج قادیانیت کے الزام میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ، جب یہ مقدمہ سپریم کورٹ پہنچا تو اس کا فیصلہ 6 فروری 2024 کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس مسرت ہلالی نے دیا، اپنے فیصلے میں قرآن مجید کی یہ آیات لکھیں ،1: انا نحن نزلنا الذکر وانا لحفظون ۔2: لا اکراہ فی الدین۔3: یہ آیت بھی لکھی جس کا ترجمہ و مفہوم ہے کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا کام پیغام پہنچانا ہے جبرا کسی کو مسلمان نہیں کرنا۔ اور اپنے فیصلے میں لکھا کہ ہر مذہب والے کو مذہبی آزادی ہے اور ہر فرقے کو اپنے اپنے مذہبی ادارے کھولنے کی اجازت ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ کسی مذہبی گروہ یا فرقے کو تعلیم دینے یا اپنے قائم کردہ ادارے میں نصاب رائج کرنے سے نہیں روکا جا سکتا ۔ گزارش ہے کہ کیا یہ فیصلہ ٹھیک ہے قرآن وسنت کی رو سے اور آئین پاکستان کے مطابق ؟ برائے کرم شرعی دلائل سے ہماری راہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیر ا مزید اس مسئلہ کی بھی شرعی راہنمائی فرمائیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی نے ملک کے مختلف مکاتب فکر کے چند اہم مدارس کے مفتیان کرام سے درج بالا فیصلہ سے متعلق شرعی راہنمائی طلب کی ہے جس میں جاوید احمد غامدی کا ادارہ المورد بھی شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ جاوید احمد غامدی تمام مکاتب فکر کے نزدیک قابل قبول نہیں اور اس کے افکار و نظریات اسلام سے متصادم ہیں، کیا جاوید احمد غامدی اس اہل ہے کہ اس سے بھی اس اہم اور حساس مسئلہ پرراہنمائی کی جائے؟ بینوا توجروا
سائل:عبد اللہ:کھارادر کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اولاً سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ شریعت و آئینِ پاکستان سے واضح طور پر متصادم ہے ، جسکی تفصیل ہم نے اپنے سابقہ فتوٰی (حوالہ نمبر9080 ) جاری کردہ بتاریخ 27 فروری 2024 میں درج کی ہے جسکا خلاصہ درج ذیل ہےکہ
اس فیصلہ میں شرعی و قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے لہذا سپریم کورٹ کو چاہیے کہ اس فیصلہ پر نظر ثانی کرکے اور اس کیس میں از سرِ نو غور کرکے اسکے شرعی و آئینی تقاضے پورا کرے۔
شرعی تقاضا تو اس لیے کہ جب یہ واضح ہو چکا کہ کتاب بنام ’’تفسیر صغیر‘‘کسی ایسے شخص کے پیروکار کی تالیف کردہ ہے جو ادّعائے نبوت رکھنے کے باوجود خود کو اسلام کی طرف منسوب کرتا ہے اور اس کتاب میں قرآن مجید کی غلط تشریحات کی گئی ہیں جو در حقیقت تحریف قرآن پر مبنی ہیں اور قرآن مجید میں ذرّہ برابر لفظی یا معنوی تحریف قطعی طور پر ناجائز و حرام ہے۔بالخصوص ایسی تشریح و تحریف جس سے مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی شخص کے لئے جھوٹی نبوت کی گنجائش نکالنا ہو۔بلکہ ایسی تشریح تو درکنار امّت کا تو اس بات پر بھی اجماع کہ تفسیر بالرائے یعنی قرآن کریم کی کسی آیت، جملہ یا کلمہ کی تشریح و توضیح محض ذاتی رائے و سمجھ کی بنیاد پر کرنا، اور قرآن فہمی کے جو اصول وشرائط ہیں، اُن کی رعایت وپاس داری نہ رکھنا بھی حرام ہے اگر چہ اس کا مقصود کسی غلط عقیدے کی اشاعت اور استدلال نہ ہو۔احادیث طیبہ میں اس کی سخت مذمّت وارد ہوئی ہے۔
آئینی تقاضا اس لئے کہ 2019 میں بھی مذکورہ جرم کے وقوعہ کے دوران 2011 کا اصل قانون (ایکٹ13دفعہ 9)مؤثر تھا، جبکہ ایکٹ 2021 میں صرف سزا میں اضافہ کیا گیا ، اسے ختم نہیں کیا گیا۔اضافہ یہ ہوا کہ’’اُسے سات سال تک قید کی سزادی جاسکے گی مگر بہر صورت تین سال سے کم نہیں ہوگی یا جرمانہ کیا جا سکے گا جو ایک لاکھ روپے سے کم نہیں ہو گا یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی‘‘۔یعنی 2019 میں بھی تین سال کی سزا مؤثر تھی، اس لحاظ سےسپریم کورٹ کے فیصلے میں 2021 کے ایکٹ کا غیر مؤثر ہونا بے معنی ہوا۔
برسبیل تنزّل، یعنی اگر مان بھی لیاجائےتو بھی ماضی میں عمل کا وقوعہ اسے جرم ہونے سے خارج نہیں کرتا،لہذا کوئی جرم ماضی میں ہو لیکن اس کا ثبوت آج ہوا تو محض اس جرم کے ماضی میں ہونے کی وجہ سے معافی ہوجائے ایسا قطعی نہیں ۔
پھر ’’تفسیر صغیر‘‘ کی تقسیمات 2021 اور اس کے بعد بھی مسئلہ کا موضوع بنی ہوئی ہے، اس لیے جس جرم کے خلاف فیصلہ کیا جا رہا ہے، اس پر مابعد میں قانونی اثرات کیوں نہیں ہونے چاہئیں،کہ منظوری کے وقت بھی وہ جرم موجود ہے۔
مزید یہ کہ ہمارے ملکی آئین کے مطابق حاکمیتِ اعلی اور اقتدارِ اعلی کواللہ تعا لی کے لیے تسلیم کیا گیا ہے۔نیز آئین و دستور میں اس بات کی بھی صراحت کی گئی ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائیگا۔لہذا سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں آئین کی دفعہ (1)12کا حوالہ دے کر مجرم کو فردِ جرم سے آزاد قرار دینا درست نہیں،کیونکہ قرآن مجید کا موضوع انسان ہے، اس میں انسان کو پیش آنے والے ہر قسم کے معاملات کا حل موجود ہےجسے قلبِ سلیم بخوبی جانتا ہےاوراسی قرآن مجید کا اصول ہے کہ جب کسی اصول کو مانا جائے تو کلیۃً مانا جائے ایسا نہیں کہ بعض حصے کو مانیں اور بعض کا انکار کردیں کہ یہ درحقیقت کلیۃً کا انکار ہے،چنانچہ یہ اصول سورۃ البقرۃ میں یوں ارشاد ہوا:أَفَتُؤۡمِنُونَ بِبَعۡضِ ٱلۡكِتَـٰبِ وَتَكۡفُرُونَ بِبَعۡض۔ترجمہ: تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے اور کچھ سے انکار کرتے ہو۔(البقرۃ:85) لہذا لازم تھا کہ آئین کی دفعہ (1)12میں ترمیم کی جاتی ہےکہ یہ قانون ہمارے دیگر مسلمہ قانون کے معارض ہورہا ہے جیسا کہ تمام معارضات میں یہ اصول اپنایا جاتا ہے کہ جب کوئی دو مسلم باتیں باہم معارض ہوں تو کسی کو ایک ترجیح دے کر دوسرے میں تاویل و ترمیم کی جاتی ہے۔
لہذا شرعی و آئینی تقاضا یہ تھا کہ بلا حیل و حجت فورًا اس کتاب کی اشاعت پر مکمل پابندی عائد کی جائے بلکہ اس کے ناشر کے خلاف سخت سزا پر مبنی کاروائی کی جائے تاکہ پھر کوئی ایسی جرات سے باز رہے اس کے لئے کسی اور قانون کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختمِ نبوت کا ہے اور بلاشبہ مسئلہ ختم نبوت اور اس کا تحفظ ہمارے ایمان کا جزوِ لازم و جزوِ لاینفک ہے۔ قرآن مجید،احادیث طیبہ،اقوال مفسرین فقہاء و کلامیین علماء کے فیصلے اس بات کے شاہد و ناطق ہیں کہ ایسے عقیدے کے حامل شخص کی شرعی حیثیت و سزا کیا ہے۔
تاہم اس خلاصے کے علاوہ اس کیس کے چند اور پہلو بھی ہیں جن پر غور و فکر کرنا اور معزز عدالت کی توجہ مبذول کروانا از حد ضروی ہے:
(۱)عدالت نے جن دو آیات کا ریفرنس ذکر کیا ان دونوں آیات مبارکہ کا بالخصوص اس کیس سے کوئی تعلق نہیں بنتا کیونکہ پہلی آیات کو ذکر کرنے اور اس سے استدلال کرنے سے بظاہر متبادر یہی ہے جب اللہ عزوجل نے قرآن مجید فرقانِ حمید اپنے حبیبِ مکرم پر نازل فرماکر اعلان فرمادیا کہ ہم نے ہی یہ نازل کیا اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں تو ہمیں مسلمانوں کو امت مسلمہ کو اب قطعی ضرورت نہیں کہ اسکی حفاظت کا انتظام کریں یا جو لوگ اس قرآن مجید کے مفہوم و معنٰی بلکہ الفاظ میں تبدیلی کرنے پر تُلے ہیں انہیں کچھ نہ کہا جائے محض خاموشی اختیار کئے بس تماشہ دیکھتے رہا جائے ، اب جو چاہے جیسے چاہے اس قرآن مجید میں لفظی یا معنوی تحریف کرے اسکی آیات کے غلط مفاہیم و مصادیق بیان کرتا پھرے یہ اسکی بَلا ہے ہمیں اس سے قطعی کوئی سر کار نہیں ہونا چاہیے جسکی ذمہ داری وہ جانے ۔ حالانکہ یہ استدلال اور تبادرِ ظاہری نہایت کمزور مثلِ تارِ عنکبوت ہے ایک ادنٰی سی عقل والا شخص یہ جانتاہے کہ قرآن مجید کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ جل مجدہ الکریم نے لی ہے مگر اس کے لئے وسیلہ اور سبب اپنے بندوں کو ہی بنایا ہے جیساکہ موت و حیات اللہ رب العزت کے قبضہ و قدرت میں ہے تاہم اس نے ان امور کی انجام دہی کے لئے قرشتےمقرر کر رکھے ہیں لہذا ذمہ حفاظت قرآن من جانب اللہ کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے لیے ایسے اسباب ، وسائل اور ذرائع تیار و مہیا فرمائے جو اس کے علاوہ کسی بھی اور کتاب کے لیے میسر تھے اور نہ ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں ۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں کثیر صحابہ کرام کا مختلف مقامات سے قرآنی آیات و سُوَر یاد کرنا اور آپ ﷺ کا انکو آیات قرآنی یاد کرنے کی تلقین و حکم کرنا اس قبیل سے ہے یونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کےبعد پہلے خلیفہ بلا فصل جناب سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کا قران کولکھا ہوا جمع کرنا تھا ، بعد ازاں تیسرے خلیفہ جناب سیدنا عُثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ُ کا تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی رضا مندی سے قُران کو ایک کتاب کی صورت میں ثابت شدہ قرأتوں کے مطابق جمع کرنا ، اور پھر اس کے نسخے لکھوا کر تمام ملکوں میں روانہ فرمانا اور سب سے بڑھ کراس امت کا اجماعی طور پر بلاتخصیصِ رنگ و نسل چھوٹے ،بڑے ، جوان، بوڑھے ، مرد، عورت ، عربی ،عجمی ، کالے، گورے ، پیلے، سُرخ الغرض ہر خطے دنیا کے ہر گوشے کے مسلمانوں کا قرآن مجید کو کو زبانی یاد کرنا حفظ کرنا،یہ سب امور یقیناً حفاظتِ قرآن کے انتظام و انصرام سے متعلق ہیں۔ تاریخ میں کسی قوم کا کسی کلام کی اتنی بڑی تعداد کو حرف بہ حرف بلکہ زیر ، زبر، پیش کی مطابقت کے ساتھ یاد کرنے کی کوئی مثال نہیں ۔
(۲)یونہی اس کیس میں دوسری آیت کا ذکر تو حد درجے بے محل ہے حیرت ہے چیف جسٹس جیسے عہدے کی کرسی پر بیٹھا شخص اتنی فہم نہیں رکھتا کہ یہاں معاملہ اکراہ یا جبر کا نہیں ہے ذرا بتائیے یہاں اس کیس میں کون ایسا شخص عدالت کے رُو برُو حاضر ہوا اور عرض کی عالیجاہ ان مسلمانوں نے مجھے جبر و اکراہ کے ذریعے کلمہ پڑھوایا ہے حالانکہ میں اس پر راضی نہیں اور جواباً عدالت نے اس کے اس کیس میں آیتِ مذکورہ کا حوالہ دیا ہوبلکہ یہاں صاف ،سیدھی، ستھری، بالکل واضح و عیاں، اظہر من الشمس اور ابین من الامس بات ہے کہ استدعا کرنے والے کا مدعا یہ ہے کہ ایک ایسی کتاب کی اشاعت ہوئی جو اسلام و آئین پاکستان کے مطابق ممنوعہ ہے اسکی نشر و اشاعت کی اجازت نہیں ہے اسے روکا جائے اور جواباً عدالت نے کیس میں یہ آیت لکھ ڈالی۔ بریں عقل و دانش بباید گریست۔
(۳)عدالت کا فیصلے میں یہ لکھنا کہ ’’ہر مذہب والے کو مذہبی آزادی ہے اور ہر فرقے کو اپنے اپنے مذہبی ادارے کھولنے کی اجازت ہے۔نیز کسی مذہبی گروہ یا فرقے کو تعلیم دینے یا اپنے قائم کردہ ادارے میں نصاب رائج کرنے سے نہیں روکا جا سکتا‘‘ پھر سے مقامِ حیرت و افسوس ہے ، اس فیصلے کی رُو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قادیانیت اسلام کا ذیلی فرقہ ہے جیسے دیوبندی ،اہل حدیث ، شیعہ اور اہل سنت بریلوی فرقے ہیں حالانکہ ان قادیانیوں کا دور دور تک اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔یہاں اس ملک میں کسی معتمد و مستند عالم مفتی فقیہ نے آج تک یہ فتوٰی جاری نہیں کیا کہ عیسائیوں کو مذہبی آزادی نہیں ہندؤوں کا مذہبی آزادی نہیں یا دیگر مذاہب کو مذہبی آزادی نہیں بلکہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق اسلامی ریاست میں رہنے والے ہر مذہب کے افراد کو آزادی ہے کہ وہ اپنی مذہبی عبادت گاہیں بنائیں اور اپنے مذہب کے مطابق عبادت کریں ۔ لیکن اس وقت جب اپنے مذہب کے مطابق رہیں اور اسے اسلام سے مختلف مذہب گردانیں نا کہ اپنے مذہب کو اسلام کا نام دے دیں اپنی عباد گاہوں کو مساجد کہیں یا اپنی کتاب کو قرآن کہیں ۔ جبکہ قادیانی مسئلہ کی جڑ ہی یہی ہے کہ وہ خود کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اپنی عباد گاوں کو مساجد اور اسی طرح دیگر اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ تمام امور اسلام اور آئینِ پاکستان سے سراسر خلاف ہیں۔
چناچہ مجموعہ تعزیرات پاکستان دفعہ 298بی میں ہے:
(۱)قادیانی یا لاہوری جماعت کا کوئی فرد (جو خود کو احمدی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں، جو زبانی یا تحریری الفاظ سے یا ظاہری بیان سے :
(a)کسی شخص کا علاوہ خلیفہ یا پیغمبر محمد " کے مصاحب کے بطور امیر المومنین، خلیفہ المومنین خلیفہ المسلمین، صحابی یارضی اللہ عنہ کے حوالے دے یا خطاب کرے
(b)کسی شخص کا علاوہ زوجہ پیغمبر حضرت محمد کے بطور ام المومنین کے حوالہ دے یا خطاب کرے،
(c)کسی شخص کا علاوہ پیغمبر حضرت محمد کے رکن کنبہ کے بطور اہل بیت کے حوالہ دے یا خطاب کرے، یا
(d) اپنی عبادت گاہ کا بطور مسجد کا حوالہ دے، نام لے یا پکارے تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی ایسی مدت کی سزائے قید دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہو گا۔
2: قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں، جو زبانی یاتحریری الفاظ سے یا ظاہری حرکات سے، اپنے عقیدہ میں پیروی کردہ عبادت کے لیے بلانے کے لیے کسی طریقہ یا شکل کو بطور اذان کے حوالہ دے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزائے قید دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہو گا۔
اسی طرح دفعہ 298 سی میں ہے: قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتا ہو) بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہو یا اپنے عقیدہ کا بطور اسلام کے حوالہ دیتا ہو یا موسوم کرتا ہو یا دیگر ان کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دیتا ہو، الفاظ سے جو چاہے زبانی ہوں یا تحریری یا ظاہری حرکات سے یا کسی طریقہ سے خواہ کچھ بھی ہو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو تھیں پہنچائے، اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزائے قید دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہو سکتی ہے اور سزائے جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
ذرا وہ لوگ جواب دیں جو اسلام پر آئین کو مقدم مانتے ہیں کہ چلیں اسلام کی نہ سہی اس آئین کی ہی مان کر اس ناشر پر فردِ جرم عائد کرکے قرار واقعی سزا دی جاتی مگر یوں محسوس ہوتا ہے جیساکہ انکے نزدیک آئین میں موجود محض وہ قوانین حجت و مقدم ہیں جو کہ اسلامی احکامات پر مشتمل نہ ہوں بلکہ عمومی یا ریاستی ہوں حالانکہ جس آئین کا یہ حوالہ دیتے نہیں تھکتے متعلقہ کیس میں اس کی سزاؤں سے متعلق تمام تفصیل درج ہے۔سو آئین کی کچھ باتیں مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے، بقول باری تعالٰی : اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا۔ترجمہ: تو کیا تم کتاب کی کچھ باتوں پر ایمان لاتے اور کچھ سے انکار کرتے ہو تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ کیا ہے مگر یہ کہ دنیا میں رسوا ہو۔(البقرۃ: 85)
رہا یہ مسئلہ کہ سپریم کورٹ نے اس مسئلے میں جاوید احمد غامدی کے ادارے ’’المورد‘‘ سے رہنمائی طلب کی ہے تو یاد رہے کہ ہم اہل السنہ کے نزدیک جاوید احمد غامدی اور انکے ادارے کی کوئی بات معتبر نہیں کہ موصوف اور انکا ادارہ جدیدیت، انکارِ حدیث، الحاد و گمراہی کے علمبردار ہیں ،پھر اس ملکِ پاکستان کے 1 فیصد افراد کے بھی نمائندے نہیں کہ انکی بات پورے ملک و ملت پرمسلط کردی جائے۔ (جاوید احمد غامدی صاحب کے افکار و نظریات کے خلاف ِاسلام ہونے سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرنے کیلئے مفتی اہل سنت مفتی وسیم اختر المدنی کی کتاب ’’ غامدیت‘‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہےجو انٹر نیٹ پر میسر ہے ) ۔
نیز جاوید احمد غامدی صاحب کا نظریہ جو انکے متعدد بیانات سے واضح ہےکہ جو شخص بھی اسلام کا دعوے دار ہو اس کے عقائد خواہ کیسے ہی ہوں وہ خواہ کسی بھی امر دینی کا انکار کرے اسے کوئی بھی کافر قرار نہیں دے سکتا چاہے وہ ریاست ہویا کوئی فردہو۔ جب وہ اس آئینی ترمیم اور امتناع قادیانیت ایکٹ کو درست ہی تسلیم نہیں کرتے تو ان سے اس کیس میں رائے طلب کرنا ایسا ہی ہے جیسے طالبان جو آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے ان سے آئین کی کسی شق کے بارے میں رائے طلب کرنا ۔ ہر ذی شعور پر اس کام کا عبث ولایعنی ہونا واضح ہے نہ جانے چیف جسٹس صاحب کو کون شخص اس طرح کے مشورے دیتا ہے کہ جس کے سبب وہ اپنی غلطی سدھارنے کے بجائے مزید غلطی کے مرتکب ہوجاتےہیں۔
لہذا سپریم کورٹ کو چاہیے کہ ان معاملات میں ایسے افراد اور اداروں سے رہنمائی طلب کرے جو ملک کے معتد بہ طبقے کے نمائندے ہوں اور ہر عام و خاص کے لئے قابلِ اعتبار ہوں کہ ایسے فیصلوں سے مقصود قوم کو مطمئن کرنا ہوتا ہے اور بحمدہ تعالٰی اس گئے گزرے دور میں بھی عوام اپنے علماء پر اعتماد کرتے ہیں اور ان ہی کی بات قبول کرتے ہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25 شعبان المعظم 1445ھ/ 06 مارچ 2024 ء