سوال
ایک شخص نے پلاٹ خرید کر مسجد و مدرسہ کیلئے وقف کر کے ایک شخصی ادارے کو تعمیرات (مسجد و مدرسہ کی) کیلئے دیا جس کو 9سال کا عرصہ گزر چکا، اس ادارے نے ابھی تک کوئی تعمیراتی کام نہیں کروایا۔ اب یہ شخص وہ پلاٹ کسی اور سنّی ادارے کو مسجد و مدرسہ کی تعمیرات کیلئے دینا چاہتا ہے، کیا اس کا یہ عمل شرعی طور پر درست مانا جا ئیگا؟ جواب عنایت فرمائیں ،جزاک اللہ خیرا ۔
سائل: رسول بخش، ٹھٹہ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جی بالکل، یہ پلاٹ کسی اور سنّی ادارے کو دینے کی اجازت ہے بلکہ واجب ہے۔ البتہ پہلے جس ادارے کو تعمیرات کیلئے وکیل بنایا گیا انہیں ان کی معزولی کی اطلاع کرنا ضروری ہے۔ادارے کو موقوفہ زمین دینا ولایتِ وقف کی حیثیت رکھتا ہے اور واقف کو یہ اختیار حاصل ہے وہ جب چاہے متولی کو معزول کرے ۔خاص کر جب متولی کی خیانت یا عجز ظاہر ہوتو اسے بر طرف کرنا واجب ہے۔ صورت مسؤولہ میں 9 سال تک متولی ادارہ کا تعمیرات نہ کرنا ان کا عجز ظاہر کرتا ہے لہذا ان کی معزولی واجب ہے۔یاد رہے یہاں تغییر وقف کی کوئی صورت نہیں کہ یہاں پلاٹ ادارے پر وقف نہیں ہوا تھا بلکہ مسجد و مدرسہ پر وقف ہوا ، لہذا ادارہ کو پلاٹ کی سپردگی محض تعمیرات کیلئے تھیں۔
دلائل و جزئیات:
امام فرید الدین عالم بن العلاء الہندی (المتوفی: 786) فرماتے ہیں:"و لو جعل الواقف ولایۃ الوقف لرجل کانت الولایۃ لہ کما شرط الواقف،و لو اراد الواقف اخراجہ کان لہ ذلک ".ترجمہ: اگر واقف ولایتِ وقف کسی شخص کو دے تو ولایت اسی کیلئے ہوگی جیسا کہ واقف شرط لگائے۔ اور اگر واقف اس ولایت سے متولی کو خارج کرے تو اسے اس کا بھی اختیار ہے۔(الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الوقف، فصل الولایۃ فی الوقف، 8/57-58، مکتبۃ زکریا الہند)
علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"لِلْوَاقِفِ عَزْلُ النَّاظِرِ مُطْلَقًا، بِهِ يُفْتَى".ترجمہ:مطلقاً واقف کو یہ جائز ہے کہ وہ نگران کو معزول کردے، اسی پر فتوی ہے۔(الدر المختار، کتاب الوقف، مطلب التولية خارجة عن حكم سائر الشرائط، 4/427، دار الفکر)
اس کے تحت خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "أَيْ سَوَاءً كَانَ بِجُنْحَةٍ أَوْ لَا وَسَوَاءٌ كَانَ شَرَطَ لَهُ الْعَزْلَ أَوْ لَا". ترجمہ: نگران کا جرم ہو یا نہ ہواور معزولی کی شرط ہویانہ ہوبرابر ہے۔(رد المحتار، 4/427)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ وقف نامہ میں جسے متولی کیا تھا اس کی جگہ خود متولی رہنا چاہتا ہے یہ اس کے اختیار کی بات ہے اسے معزول کرکے آپ متولی ہوسکتا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 16/119، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’واقف کو اختیار ہے کہ متولی کو معزول کرکے دوسرا متولی مقرر کردے یا خود اپنے آپ متولی بن جائے‘‘۔ (بہار شریعت،2/578، مکتبۃ المدینۃ کراچی)
متولیکے اوصاف بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت یا نادانی یا کام نہ کرسکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کرے“ ۔(فتاوی رضویہ، 16/557، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
سیدی اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:’’اور ولایت کو اپنے خاندان میں شرط کر دینا بھی صحیح ہے اور وہ اس کا متولی رہے گا جب تک کہ اس کی خیانت یا عجز یا فسق ظاہر نہ ہو ورنہ اس سے ولایت لے لی جائے گی اگر متولی خود واقف ہی ہو‘‘۔(فتاوی رضویہ، 16/129، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
علامہ حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "(وَيُنْزَعُ) وُجُوبًا بَزَّازِيَّةٌ (لَوْ) الْوَاقِفُ دُرَرٌ فَغَيْرُهُ بِالْأَوْلَى (غَيْرَ مَأْمُونٍ) أَوْ عَاجِزًا أَوْ ظَهَرَ بِهِ فِسْقٌ كَشُرْبِ خَمْرٍ وَنَحْوِهِ فَتْحٌ".ترجمہ: متولی سے ولایت وقف وجوباً واپس لے لی جائیگی (بزازیہ اگرچہ وہ خود واقف ہو(درر)تو غیر واقف سے بدرجہ اولٰی واپس لے لی جائیگی جب کہ وہ امین نہ ہو یا عاجز ہو یا اس کا فسق شراب نوشی وغیرہ ظاہر ہوچکاہو(فتح)۔ (الدر المختار، کتاب الوقف، مطلب في الوقف إذا خرب ، 4/380، دار الفکر)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 13 جمادی الاولی 1446 ھ/16 نومبر 2024ء