سوال
اگر کسی نے مزار پر منت مانی کہ جب تک میرا فلاں کام نہیں ہوگا اس وقت تک میں اس مزار کی نیاز نہیں کھاؤں گی ، اس منت کی شرعی حیثیت کیا ہے۔؟جبکہ ابھی تک نہ وہ کام ہوا اور نہ ہی اس مزار کی نیاز کھائی ۔ یہ منت کیسے ختم کی جائے گی ؟ اسکا کوئی کفارہ وغیرہ ہے تو وہ بھی بتادیں۔:سائلہ:بشرٰی الٰہی:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
فلاں کام نہ ہونے تک کسی بزرگ کے مزار پر نیاز نہ کھانے کی منت ،شرعا منت نہیں ہے۔
کیونکہ اولا تو اس میں الفاظ نذر ہی موجود نہیں ہیں۔جبکہ منت کے لئے ضروری ہے کہ اس میں ایسے الفاظ ہو جو منت پر دلالت کریں۔
اور ثانیا اس لئے کہ اسکی جنس سے کوئی دوسرا ،واجب شرعی نہیں ہے ۔اور نہ ہی یہ کوئی عبادتِ مقصوہ ہے۔لہذا اسکا پورا کرنا ضروری ہی نہیں چہ جائیکہ اسکا کوئی کفارہ وغیرہ ہو۔
بدائع الصنائع میں ہے: فَرُكْنُ النَّذْرِ هُوَ الصِّيغَةُ الدَّالَّةُ عَلَيْهِ وَهُوَ قَوْلُهُ: " لِلَّهِ عَزَّ شَأْنُهُ عَلَيَّ كَذَا، أَوْ عَلَيَّ كَذَا، أَوْ هَذَا هَدْيٌ، أَوْ صَدَقَةٌ، أَوْ مَالِي صَدَقَةٌ، أَوْ مَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ، وَنَحْوُ ذَلِكَ.ترجمہ:نذر کا رکن یہ ہے کہ اس کے لیئے ایسے لفظ کا ہوناضروری ہے جو نذر پر دلالت کرے ،جیسے کوئی کہے اللہ عزوجل کے لیئے مجھ پر اس طرح کرنا لازم ہے یا میں اس طرح کروں گا یا یہ میری طرف سے ہدیہ ہے یا صدقہ ہے یا کہے میرا مال صدقہ ہے یا کہے میں جس چیز کا مالک بنا وہ صدقہ ہے وغیرہ ، وغیرہ۔( بدائع الصنائع،کتاب النذر،ج:5،ص:81،طبع:دارالکتب العلمیہ،بیروت)
اسی میں منت کی شرائط میں ہے:(وَمِنْهَا) أَنْ يَكُونَ قُرْبَةً فَلَا يَصِحُّ النَّذْرُ بِمَا لَيْسَ بِقُرْبَةٍ رَأْسًا، وَكَذَا النَّذْرُ بِالْمُبَاحَاتِ مِنْ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ وَنَحْوِ ذَلِكَ لِعَدَمِ وَصْفِ الْقُرْبَةِ لِاسْتِوَائِهِمَا فِعْلًا وَتَرْكًا۔ وَمِنْهَا) أَنْ يَكُونَ قُرْبَةً مَقْصُودَةً، فَلَا يَصِحُّ النَّذْرُ بِعِيَادَةِ الْمَرْضَى وَتَشْيِيعِ الْجَنَائِزِ وَالْوُضُوءِ وَالِاغْتِسَالِ وَدُخُولِ الْمَسْجِدِ وَمَسِّ الْمُصْحَفِ وَالْأَذَانِ وَبِنَاءِ الرِّبَاطَاتِ وَالْمَسَاجِدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَتْ قُرَبًا؛ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِقُرْبٍ مَقْصُودَةً۔ ترجمہ:نذر کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ چیز جسکی نذر مانی فی نفسہ عبادت ہو لہذا جو اصلا عبادت نہ ہو اسکی نذر درست نہیں ہے۔اسی طرح مباح چیز جیسے کھانا ، پینا یا جماع کرنا اور اس جیسی دوسری چیزوں کی نذردرست نہیں کیونکہ ان میں وصفِ عبادت معدوم ہے کہ ان کا کرنا اور نہ کرنا برابر ہے۔ اور ایک شرط یہ ہے کہ وہ چیز جس کی نذر مانی عبادتِ مقصودہ ہو لہذا مریض کی عیادت، جنازوں میں حاضری، وضو،غسل، مسجد میں جانا، قرآن چھونا، اذان، مسجدیں اور اصطبل بنانے اور اس جیسی دوسری چیزوں کی نذر ماننا درست نہیں ہے۔
اگرچہ یہ عبادت ہیں لیکن عبادت مقصودہ نہیں ہے۔ (ایضا ص 82)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضاقادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:21جمادی الاول 1442 ھ/07 جنوری 2021 ء