پانچ متفرق سوالات کے جوابات
    تاریخ: 24 نومبر، 2025
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 236

    سوال

    1:۔ مجھ پر 2 لاکھ 70 ہزار قرض ہے ،اسکے علاوہ رہائش کا گھر اور کچھ سونا ہے سونے کی قیمت 4لاکھ 60 ہزار ہے ،تو کیا ہم پر قربانی فرض ہے؟

    2:۔ میرے شوہر کا 6 ماہ پہلے انتقال ہوا ہے ان کا بیگوں کا کاروبار ہے جوانکا بیٹا سنبھال رہا ہے، اسکے پاس نقد 50 ہزار روپے ہیں جو وہ مال لانے میں استعمال کرتے ہیں تو کیا اس پر بھی قربانی فرض ہے؟

    3:۔ کیا پرائز بونڈ لینا جائز ہے اور اسکا انعام حلال ہے؟

    4:۔ اور شوہرکے قضا روزے ان کی بیوی رکھ سکی ہے؟

    5:۔ بینک میں سونا رکھوا کر قرض لینا درست اور حلال ہے؟ اس میں بینک والے ٪13 پروفٹ رکھیں گے۔

    سائلہ :زوجہ عبد اللہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قربانی واجب ہونے کی چند شرائط ہیں(1) مسلمان ہو (2) مقیم ہو، یعنی مسافر نہ ہو (3) مالک نصاب ہو ،نصاب سے مراد یہ ہے کہ اگر صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ اسکا نصاب ہے اگر صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ اسکا نصاب ہے،اور دونوں ہو تو اگر دونوں کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو نصاب ہے ،اور اگر سونے یا چاندی کے ساتھ رقم یا ضرورت اصلیہ کے علاوہ سامان یا مال وغیرہ موجود ہو تو سب ملا کر اگر چاندی کے نصاب کی قیمت کو پہنچے تو بھی یہ مالک نصاب ہے اور یہاں نصاب سے مراد وہی ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے،یعنی سال گزرنا شرط نہیں ہے۔ (4) آزاد ہو یعنی غلام نہ ہو۔مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں، عورتوں پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے۔

    بدائع الصنائع کتاب التضحیۃ بابشرائط وجوب الاضحیۃ جلد 5ص 64 میں ہے

    وَهُوَ أَنْ يَكُونَ فِي مِلْكِهِ مِائَتَا دِرْهَمٍ أَوْ عِشْرُونَ دِينَارًا أَوْ شَيْءٌ تَبْلُغُ قِيمَتُهُ ذَلِكَ سِوَى مَسْكَنِهِ وَمَا يَتَأَثَّثُ بِهِ وَكِسْوَتِهِ وَخَادِمِهِ وَفَرَسِهِ وَسِلَاحِهِ وَمَا لَا يَسْتَغْنِي عَنْهُ وَهُوَ نِصَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ،ترجمہ: اور وہ (نصاب یہ ہے کہ ) اسکی ملکیت میں دوسودراہم (ساڑھے باون تولہ چاندی ) یا بیس دینار( ساڑھے سات تولہ سونا)ہو یا کوئی ایسی چیز ملکیت میں ہو جو اسکی قیمت کو پہنچ جائے ، گھر اور ضروریات کی چیزوں ،کپڑے،خادم، گھوڑا،اسلحہ ،وغیرہ کے علاوہ اور وہ چیزیں جن کی ضرورت ہے ، یہی صدقہ فطر کا نصاب ہے۔

    لہذا اگر آپ کے پاس سونے کے علاوہ رقم یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہے ،اسکو اور سونے کو ملاکر جو قیمت بنے پھر جو قرض ہے وہ اس سے نکال کر بقیہ رقم اگر چاندی کے نصاب کی قیمت (جو کہ تقریبا 38 ہزار روپے ہے) کو پہنچ جائیں تو آپ پر قربانی لازم ہے۔

    2:۔ جی ہاں اگر ان کے پاس 50 ہزار روپے موجود ہیں، اور کسی کا کوئی قرضہ وغیرہ نہیں ہے تو یہ مالک نصاب ہیں ان پر بھی قربانی فرض ہے، یاد رہے جو مال دوکان میں موجود ہے وہ بھی نصاب میں شامل کیا جائے گا۔کما مر اٰ نفا

    3:۔ بعض علماء کرام نے پرائز بانڈ کے بارے میں اختلاف کیا ہے ،جبکہ ہمارے نزدیک پرائز بونڈ لینا جائز ہے اور اس پر ملنے ولا انعام بھی جائز اور حلال ہے کیونکہ اس میں ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی ۔ کیونکہ ناجائز ہونے کے دو اسباب ہو سکتے ہیں ، سوداور جوا اور یہ دونوں اس میں میں نہیں پائے جاتے۔سود اس لیے نہیں پایا جاتا کیونکہ " سود قرض پر متعین اضافہ بطور شرط ہوتا ہے۔ جبکہ 200، 500، 1000 روپے والے بانڈ پر لاکھوں روپے کا انعام نکل آنا یہ سود نہیں ہے بلکہ انعام کی صورت ہے ۔

    اور جوا اس لیے نہیں پایا جاتا کیونکہ جوئے میں ساری رقم ڈوب جاتی ہے یا پھر کئی گنا زیادہ آ جاتی ہے۔ یہاں انعام نکلنے یا نہ نکلنے، دونوں صورتوں میں اصل زر محفوظ رہتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوناجائز ہونے کے جب دونوں امکان براہ راست موجود نہیں ہیں تو پھر پرائز بانڈز کا لین دین اور اس پر ملنے والے انعام کے ناجائز ہونیکی کوئی ایک وجہ بھی نہ ہوئی لہذا یہ جائز ہے۔ہمارے تمام علمائے اہل السنہ کا یہی موقف ہے۔

    4:۔ عبادات تین طرح کی ہوتی ہیں ۔(1) خالصتا بدنی عبادات جیسے نماز ،روزہ وغیرہ (2) خالصتا مالی عبادت جیسے زکوۃ، صدقہ فطر اور بدنی اور مالی عبادات دونوں کا مجموعہ ۔ لہذا جو عبادات خالصتا بدنی ہوں جیسے نماز ،روزہ وغیرہ ان میں نیابت(یعنی ایک بندے کی نماز، روزہ وغیرہ دوسرے بندہ کا ادا کرنا) مطلقا ناجائز ہے۔ اور جو عبادات خالصتا مالی ہوں ان میں نیابت مطلقا جائز ہے۔،جیسے زکوۃ وغیرہ قدرت کے باوجود اس میں نیابت جائز ہے جوئی شخص کسی کی طرف سے اسکی اجازت سے ادا کردے تو زکوۃ ادا ہوجائے گی۔اور وہ جو مالی اور بدنی عبادت کا مجموعہ ہو اس میں عذر کی بناء پر نیابت جائز ہے۔ جیسے حج اگر خود کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کے بدلے کوئی کرے ادا ہوگیا ۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الصلوۃ جلد1 ص 355 میں ہے

    (وَهِيَ عِبَادَةٌ بَدَنِيَّةٌ مَحْضَةٌ، فَلَا نِيَابَةَ فِيهَا أَصْلًا)

    ترجمہ :اور یہ (نماز) محض بدنی عبادت ہے لہذا اس میں نیابت جائز نہیں ہے۔

    اسکے تحت شامی میں ہے :لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ الْعِبَادَةِ الْبَدَنِيَّةِ إتْعَابُ الْبَدَنِ وَقَهْرُ النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ بِالسُّوءِ وَلَا يَحْصُلُ بِفِعْلِ النَّائِبِ، بِخِلَافِ الْمَالِيَّةِ فَتَجْرِي فِيهَا النِّيَابَةُ مُطْلَقًا: أَيْ حَالَةَ الِاخْتِيَارِ وَالِاضْطِرَارِ لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ مِنْ إغْنَاءِ الْفَقِيرِ وَتَنْقِيصِ الْمَالِ بِفِعْلِ النَّائِبِ، وَبِخِلَافِ الْمُرَكَّبَةِ فَتَجْرِي فِيهَا النِّيَابَةُ حَالَةَ الْعَجْزِ ۔

    ترجمہ: مصنف کا قول (فیھا) یعنی نماز میں بالکل(نیابت جاری نہ ہوگی)اس لئے کہ عبادت بدنیہ سے مقصود بدن کو تھکانااور نفس امارہ کا قہرہے اور یہ نائب کے فعل سے حاصل نہیں ہوتا بخلاف عبادت مالیہ کے کہ ان م مطلقا نیابت جاری ہوتی ہے یعنی حالت اختیار واضطرارمیں نائب کے فعل سے فقیرکوغنی کرنے اورمال کی کمی کی بناپرمقصود حاصل ہوجانے کی وجہ سے۔بخلاف عبادات مرکبہ کے کہ ان میں نیابت حالت عجزمیں جاری ہوتی ہے۔

    5:۔ بینک میں سونا گر ویرکھوا کر بینک سے قرضہ لینا ناجائز و حرام ہے، کیونکہ یہ معاملہ واضح طور پر قرض پر نفع کا معاملہ ہے کیونکہ بینک جو بھی قرضہ دے گا اس پر رقم کی خاص شرح بطور نفع لے گا، جیسا کہ سوال میں ہے کہ بینک ٪13 نفعلے گا،اور قرض پر نفع لینا جبکہ عقد میں مشروط ہو سود ہے اور سود لینا یا دینا دونوں حرام ہے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا.(الْبَقَرَة ، 2 : 275) ترجمہ: اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔

    مسند الحارث باب فی القرض یجر المنفعۃ جلد 1 ص500 میں ہے

    عَنْ عُمَارَةَ الْهَمْدَانِيِّ: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلہ سَلَّمَ: «كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا»

    ترجمہ: عمارہ ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' ہر وہ قرض جو نفع دے وہ سود ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:06ذوالحجہ 1439 ھ/18اگست 2018 ء