گیارھویں شریف سے متعلق سوالات
    تاریخ: 24 نومبر، 2025
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 233

    سوال

    1: مرد و عورت پہ بزرگانِ دین کی حاضری کی اسلام میں کیا شرعی حیثیت ہے اور ایسوں کے پاس جانا چاہیے یا نہیں؟

    2: گیارھویں شریف کی محفل میں تکیہ لگانا ،جائے نماز لگاکر پھولوں کا ہار لگانا ، مردوں اور عورتوں کا منت کے کونڈے یا پیالے اٹھانا اور اتارنا کیسا؟

    سائل:شہباز : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: بزرگانِ دین کے ظاہری وصال فرمانے کے بعد ان کی ارواح کا کسی انسان پر حاضر ہونا یہ محض خیال فاسد اور وہمِ باطل ہے جس پر یقین و اعتماد جائز نہیں ،اورنہ اس کی کوئی اصل اور حقیقت ہے۔یہ بزرگ نہیں بلکہ خبیث جنات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے شخصِ مذکور کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ خبیث و ہمزاد اس شخص سے بے معنٰی کلمات کاذبہ و باطلہ کہلواتے ہیں یا بعض اوقات تصوف و اہل تصوف کا ذکر کرتے ہیں جسے لوگوں نے بزرگانِ دین کی حاضری کا نام دے دیا ہے یہ صریح باطل و عاطل ہے، نہ ایسوں کے پاس جانا جائز اور نہ ہی انکی کسی بات پر اعتبار و اعتماد کرنا روا ، بلکہ یہ عقیدہ رکھناکہ انتقال کے بعد روح کسی دوسرے آدمی یا جانور کے بدن میں حلول کر جاتی ہے کفر ہےیہ عقیدہ تناسخ ہےکہ خاص عقیدہ ہنود ہے ۔

    تاج الشریعہ علامہ اختر رضا قادری ازہری قدس سرہ سے سوال ہوا کہ کسی عورت و مرد پر کوئی پیر، بابا یا ولی، شہید وغیرہ آتے ہیں یا نہیں؟ آپ نے جواب تحریر فرمایا :یہ خیالات و اوہام عوام ہیں ان پر اعتماد جائز نہیں‘‘۔(فتاوی تاج الشریعہ ج:1، ص:501 جامعۃ الرضا، بريلی شريف)

    شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: یہ سب مکر و فریب ہے۔ کوئی بزرگ کسی پر نہیں آتا، اس پر اعتماد جائز نہیں۔ ہاں خبیث ہمزاد اور جنات آتے ہیں۔ (فتاوی شارح بخاری ج:2، ص:148 دائرۃ البرکات)

    جنات کے حوالے سے اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں:وہ (شریر جنات) سخت جھوٹے کذاب ہوتے ہیں اپنا نام کبھی شہید بتاتے ہیں اور کبھی کچھ، اس وجہ سے جاہلان بے خرد(بے عقل جاہلوں) میں شہیدوں کا سر پر آنا مشہور ہوگیا ورنہ شہدائے کرام ایسی خبیث حرکات سے منزہ ومبرا ہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ ج:٢١، ص:٢١٨ رضا فائونڈیشن)

    تناسخ سے متعلق شرح عقائد کی شرح النبراس میں ہے:التناسخ ھو انتقال الروح من جسم الی جسم آخر وقد اتفق الفلاسفة و اهل السنة على بطلانه، وقال بحقيته قوم من الضلال فزعم بعضهم ان كل روح ينتقل في مائة الف و اربعة و ثمانين من الأبدان، و جوز بعضهم تعلقه بابدان البهائم بل الاشجار و الاحجار على حسب جزاء الاعمال السيئة، وقد حكم اهل الحق بكفر القائلين بالتناسخ والمحققون على ان التكفير لانكارهم البعث۔ترجمہ:تناسخ روح کا ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہونا، فلاسفہ و اہل سنت کا اس کے بطلان پر اتفاق ہے اور ایک گمراہ قوم نے اسکی حقیقت کو مانا ہے، بعض نے گمان کیا کہ ہر روح ایک لاکھ چوراسی ابدان میں منتقل ہوتی ہے اور بعض نے جانوروں بلکہ درختوں اور پتھروں کے ساتھ انکے تعلق کو جائز سمجھا ہے اعمال سیئہ کے حساب سے ۔ اہل حق نے تناسخ کے قائلین پر کفر کاحکم لگایا ہے اور محققین یہ کہتے ہیں کہ انکی تکفیر بعث کے انکار کی وجہ سے ہے۔(النبراس شرح شرح العقائد ص:213 )

    بہار شریعت میں ہے: یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور ٓواگَوَن کہتے ہیں، محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔( بہار شریعت ج:1، ص103 مکتبۃ المدينہ)

    2: یہ تمام افعال بھی بے اصل ، بے ثبوت اور جاہلانہ روش ہے شرع کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ان تمام باتوں سے احتراز ضروری و لازم ہے البتہ منت اگر شرعی طریقہ پر ہو تو اسکا پورا کرنا لازم ، حانث ہونے کی صورت میں کفارہ واجب ہے۔ ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10 رجب المرجب 1444 ھ/02 فروری 2023 ء