لواطت کرنے پر لوطی کی سزا اور اس سے مالی جرمانہ لینا کیسا؟
    تاریخ: 24 نومبر، 2025
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 235

    سوال

    ایک شخص نے بچے کےساتھ زیادتی کی جس کا اس نے اعتراف کرلیا بچے کے والد نے اس کو معاف کردیا اور اس پر جرمانہ عائد کیا اورکہا کہ یہ جرمانہ کسی زیرِ تعمیر مسجد میں دونگا کیا اسکا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:محمد اشفاق:کراچی ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جس شخص نے یہ عمل کیا گناہِ کبیرہ وعظیمہ کا ارتکاب کیا ، ایسے شخص کے لئے شریعتِ مطہرہ میں سزا یہ ہےکہ اُس کےاوپر دیوار گرا دیں یا اونچی جگہ سے اُس کو اَوندھا کرکے گرائیں،اور پھر اس پر پتھر برسائیں،یا اُسے قید میں رکھیں یہاں تک کے مرجائے یاصدقِ دل سے توبہ کرلے۔ اور اگر کسی نے چند بار یہ فعلِ بد کیا و تو بادشاہِ اسلام اسے قتل کر ڈالے۔

    صورتِ مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ نہ تو بچے کے والد کا اس شخص کو معاف کرنا درست ہے اور نہ ہی اس پرکسی بھی قسم کا کوئی مالی جرمانہ عائد کرنااور لینا جائز ہے اگر چہ یہ ارادہ ہو کہ لے کراپنے استعمال میں نہ لے گا بلکہ کسی کارِ خیر خواہ مسجد کی تعمیر میں خرچ کرے گا۔

    اولاً اس لئے کہ یہ فعل گناہِ کبیرہ ہےجسکی معافی اللہ کریم کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ، اورثانیا اس لئے کہ حدود و تعزیرات(یعنی شرعی سزاؤوں) کا قیام خاص حاکمِ اسلام اور قاضی ِوقت کا منصب ہے ۔عوام الناس کو بالکل یہ اجازت نہیں کہ بیان کردہ سزائیں اپنے طور پر دینا شروع کردیں۔اوربالخصوص مال کے ذریعے سزاکاتو صحیح قول کے مطابق قاضی اسلام بھی اختیار نہیں رکھتا ، چہ جائیکہ ہر کس و ناکس کو یہ اختیار حاصل ہو۔

    تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: قال في الدرر بنحو الإحراق بالنار وهدم الجدار والتنكيس من محل مرتفع باتباع الأحجار. وفي الحاوي والجلد أصح وفي الفتح يعزر ويسجن حتى يموت أو يتوب؛ ولو اعتاد اللواطة قتله الإمام سياسة.۔ترجمہ:درر میں فرمایا کہ لوطی کو آگ میں جلایا جائے اور دیوار گرادی جائے یا کسی اونچے مقام سے اوندھا گرایا جائے ،اور حاوی میں ہے کہ کوڑے مارنا زیادہ صحیح ہے۔اور فتح القدیر میں ہے کہ اسکو تعزیر دی جائے اور قید کیا جائے حتٰی کہ مرجائے یا توبہ کرلے اور اگر باربار کرے تو امام اسے تعزیراََ قتل کردے۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار، جلد 4 ص27)

    مالی جرمانے سے متعلق الدرالمختار مع رد المحتار میں ہے: (لَا بِأَخْذِ مَالٍ فِي الْمَذْهَبِ) بَحْرٌ.ترجمہ:صحیح مذہب میں مالی جرمانہ لینا جائز نہیں ہے۔( الدرالمختار مع رد المحتار باب التعزیر جلد 4 ص 68)

    یونہی البحرالرائق میں ہے:وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمَذْهَبَ عَدَمُ التَّعْزِيرِ بِأَخْذِ الْمَالِ :ترجمہ:اور خلاصہ یہ ہے کہ صحیح مذہب میں مالی جرمانہ سے سزا دینا جائز نہیں ہے۔(البحر الرائق شرح کنزالدقائق فصل فی التعزیرجلد 5 ص44)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15جمادی الثانی 1442 ھ/28 جنوری 2021 ء