لڑکی کے نان و نفقہ کا حکم
    تاریخ: 24 نومبر، 2025
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 234

    سوال

    قبلہ مفتی صاحب میرا نام سیده نرمین ہے۔ میری عمر 8 سال تھی جب میرے والد نے میری والدہ کو طلاق دے تھی پھر میں اور میری والدہ نانی کے گھر رہنے لگے ۔ 5 سال تک میرے ماموں میرا خرچہ برداشت کرتے رہے ، اور پھر میری والدہ نے دوسری شادی کرلی جب سے اب تک میرے دوسرے والد میرا خرچہ اُٹھا رہے رہے ہیں ۔ میرے اپنے والد نے میری والدہ کو جب سے طلاق دی جب سے آج تک میری کوئی خبر گیری نہیں کی اور نہ ہی کوئی خرچہ اٹھایا ہے ۔ یعنی میں 8 سال کی تب سے لے کر آج میں 19 سال کی ہوگئی میرے والد نے اس عرصے میں مجھے صرف 6000 روپے دیئے ہیں اس کے علاوہ کوئی خبر گیری نہیں کی میرا سابقہ خرچہ اور موجودہ خرچے کا کیا حکم شرع ہے ؟

    سائل:سید شوکت علی: کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    طلاق کے بعد اولاد میں سے لڑکی کی جب تک شادی نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس کے نفقہ کی ذمہ داری بقدرِ استطاعت باپ پر ہوگی، نیز اس کی شادی کے اخراجات بھی بقدرِ استطاعت باپ پر ہی ہوں گے، خواہ وہ ماں کے پاس رہے یا باپ کے ساتھ رہے۔لیکن اگر کوئی شخص اپنی اولاد کا نفقہ ادا نہ کرے اور کچھ عرصہ گزر جائے تو اس شخص سے اپنے اولاد کا گزشتہ عرصہ کا نفقہ ساقط ہو جاتا ہے اور وہ اس کے ذمہ باقی نہیں رہتاالبتہ باپ پر گناہ ضرور ہوگا۔لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے اپنی بچی کاگزشتہ عرصہ کا نفقہ ادا نہیں کیا تو وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہو گیا۔ ہاں۔۔۔آئندہ کا نفقہ ضرور باپ کے ذمے ہے جو کہ شرعی و قانونی دونوں طریقوں سے لیا جا سکتاہے۔

    فتاوی ہندیہ میں ہے: و نفقة الإناث واجبة مطلقًا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة۔ترجمہ:اور لڑکیوں کا خرچہ مطلقاً باپ پر ہے جب تک کہ شادی نہ کریں جبکہ انکے پاس اپنا مال نہ ہو۔ خلاصہ میں اسی طرح ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ،جلد 1 ص 563 )

    مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:و نفقة البنت بالغة) أو صغيرة (والابن) البالغ (زمنًا) بفتح الزاي و كسر الميم أي الذي طال مرضه زمانًا تجب (على الأب خاصة و به يفتى) هذا ظاهر الرواية۔ ترجمہ:اور بالغہ چھوٹی لڑکیکا نفقہ اور ایسے لڑکے کا جو لمبے عرصے تک بیمار رہے خاص باپ پر ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، جلد 1 ص 498)

    زمانۂ ماضی کا نفقہ ساقط ہے جیساکہ شامی میں ہے: قوله: والنفقة لاتصير ديناً إلخ أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضراً فامتنع فلايطالب بها، بل تسقط بمضي المدة ..... ثم اعلم أن المراد بالنفقة نفقة الزوجة، بخلاف نفقة القريب؛ فإنها لاتصير ديناً ولو بعد القضاء والرضا، حتى لو مضت مدة بعدهما تسقط۔ترجمہ:اور نفقہ دین بن کر(ذمہ میں باقی) نہیں رہتا، یعنی جبکہ خرچ نہ کیا ہو بایں طور کہ غائب ہوگیا یا حاضر تھا لیکن دیتا نہ تھا تو اس سے مطالبہ نہ کیا جائے گا بلکہ مدت گزرنے سے ہی ساقط ہوجائے گا۔ پھر جان لو کہ نفقہ سے مراد زوجہ کا نفقہ ہے برخلاف کسی اور قریبی کے نفقے کے کیونکہ وہ دین بن کر باقی نہیں رہتا اگر چہ قضا و رضا کے بعد ہی کیوں نہ ہو حتٰی کہ مدت گزر گئی تو نفقہ ساقط ہوجائے گا۔ (شامی، جلد 3 ص 594)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 صفر المظفر 1445ھ/ 13 ستمبر 2023 ء