سوال
میری شادی میرے تایا کے گھر ہوئی جن کا نام بشیر احمد ہے اور بفضلہ تعالٰی وہ مسلمان ہیں ،ان کے چار بیٹے ہیں جن میں سے تین نے اپنا مذہب تبدیل کرکے قادیانی ہوگئے ہیں ، جن کا نام بالترتیب فیاض،افضال اور عامر ہےاور ایک کا نام شہباز ہے جوکہ مسلمان ہیں ، یہ سب ہی ایک حویلی میں لیکن الگ الگ رہائش پزیر ہیں ، لیکن انکا رہائشی مین گیٹ ایک ہی ہے۔میرے تایا نے دسری شادی کی ہے انکی موجودہ زوجہ کا بیٹا ،اور دوبیٹیاں جوکہ پہلے شوہر(صغیر احمد ) سے ہیں یہ بھی قادیانی ہیں۔
کیا میرے تایا کی موجودہ زوجہ اپنے قادیانی بیٹے سے خرچہ لے سکتی ہیں؟؟اپنی قادیانی بیٹی اور اپنے قادیانی داماد سے بول چال اور خرچہ اور اپنی قادیانی بیٹی کی رکھوالی کے لیے اس کے گھر میں رہ سکتی ہیں؟؟میرے تایا اپنے قادیانی بیٹوں سے بول چال اور جیب خرچ لے سکتے ہیں ؟کیا شہباز( جوکہ مسلمان ہے) اپنے قادیانی بھائیوں سے بول چال، لین دین ،اور گھریلو اشیاء مثلا کھانے پینے کی اشیاء کا تبادلہ کرسکتا ہے؟قادیانی افضال احمد جوکہ اپنی زوجہ( جوکہ مسلمان ہے) کو طلاق دے چکا ہے اور حال جرمنی مقیم ہے کیا انکی سابقہ زوجہ دو بچو ں کے لیے جو کہ نابالغ ہیں اور اپنے لیے اس سے گھریلو اخراجات لے سکتی ہے نیز کیا بچوں اپنے قادیانی والد سے دنیاوی چیزیں مثلا موبائل، موٹر سائیکل وغیرہ لے سکتے ہیں؟؟کیا ہم سب رشتہ دار قادیانی کے والدین اور بہن بھائیوں میں سے ان قادیانیوں کی غمی خوشی میں شرکت کرسکتے ہیں؟کیا وہ ہماری غمی خوشی میں شریک ہوسکتے ہیں؟؟کیا ہم مسلمانوں کے بچے شہباز کے گھر جاسکتے ہیں جوکہ مسلمان ہے کیونکہ اس کے گھر کا اور قادیانیوں کے گھر کا مین گیٹ ایک ہی ہے ؟؟
جناب عالی۔۔۔!ان تمام سوالات کے جوابات شرعی فتوی کی صورت میں ارشاد فرمائیں ۔ سائلہ: بمعرفت علامہ طاہر رضا سیالوی: ڈنگہ،گجرات
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جواب سے قبل چند باتیں ذہن نشین کرلیں ۔
1:۔ قادیانی ہمارے ہاں بالاجماع غیر مسلم کافر ہیں، آج کل کے قادیانی کافر اصلی ہیں ان کے احکام وہی ہیں جو دیگر کفار یعنی ہندو،سکھ، بدھ مت، وغیرہ کےہیں ۔ کیوں کہ مرتد کے بارے میں اصل یہ ہے کہ اگر کوئی مرتد ہوجائے العیاذ باللہ تو اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی اگر تو وہ اسلام کی طرف لوٹ آئے فبہا وگرنہ اس کو قتل کردیا جائے گا،لیکن اگر مرتدوں کی ایک جماعت اور پارٹی بن جائے اور اسلامی حکومت ان پر قابو نہ پاسکے، یا وہاں اسلامی حکومت کا وجود ہی نہ ہو اس لیے وہ قتل نہ کئے جاسکیں اور رفتہ رفتہ اصل مرتد طبعی طورپر مر،کھپ جائیں اور ان مرتدوں کیدوسری نسل جاری ہوجائے،تو دوسری نسل کے بعد یہ مرتد کافر اصلی بن جائیں گے اور ان کے احکام کافروں والے ہوں گے مرتدین والے نہ ہونگے، کیونکہ مرتد کی صلبی اولاد تو تبعا مرتد ھے، اصالة مرتد نہیں ہے، اس لیے اس کو حبس و ضرب (یعنی قید یا مار پیٹ)کے ساتھ اسلام لانے پر مجبور کیا جائےگا، مگر قتل نہیں کیا جائے گا۔اور مرتد کی اولاد کی اولاد نہ اصالة مرتد ہے اور نہ تبعا بلکہ وہ اصلی کافر کہلائےگی، اور ان پر سزائے ارتداد جاری نہیں ہوگی، کیونکہ اولاد کی اولاد مرتد نہیں وہ سادہ کافر ہیں، اس لئے اس کا حکم مرتد کا نہیں۔
بدائع میں ہے:يجبر ولد الأب وولد ولده على الإسلام، ولا يقتلون كذا ذكر محمد في كتاب السير وذكر في الجامع الصغير أنه لا يجبر ولد ولده على الإسلام( وجه) المذكور في الجامع أن هذا الولد إنما صار محكوما بردته تبعا لأبيه، والتبع لا يستتبع غيره۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلأنه كافر أصلي؛ لأن تبعية الأبوين في الردة قد انقطعت بالبلوغ، وهو كافر، فكان كافرا أصليا،(ملخصاو ملتقطا)ترجمہ: مرتد باپ کی اولاد کو اور اسکی اولاد کی اولاد کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا ،انہیں قتل نہیں کیا جائے گا، امام محمد نے کتاب السیر اسی طرح ذکر کیا ہے، اور انہوں نے جامع صغیر میں فرمایا کہ مرتد کی اولاد کی اولاد کو اسلام مجبور نہیں کیا جائے گا ۔ اور اسکی وجہ جامع میں ذکر کی گئی ہے کہ مرتد کی اولاد پر اسکے باپ کی تابع کرکے حکم لگایا جاتا ہے ۔ اور جو خود تابع ہو دوسری چیز اسکے تابع نہیں ہوسکتی۔اور ا س لئے کہ وہ کافر اصلی ہے کیونکہ مرتد ہونے میں والدین کے تبعیت بالغ ہونے کی وجہ سے ختم ہوگئی اور اب یہ کافر اصلی ہے۔(بدائع الصنائع، فصل فی بیان احکام المرتدین جلد 7 ص 139،140،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ،بیروت)
2:۔ یہ احکام تو ان قادیانیوں کے ہیں جو نسل در نسل قادیانی چلے آرہے ہیں، رہے وہ لوگ جو ابتداء مسلمان ہوں اسکے بعد اپنا مذہب تبدیل کرلیں اور اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب تبدیل کرلیں ایسے لوگ بالاتفاق مرتد ہیں ، ان کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اسلامی حکومت ایسے لوگوں کو تین دن کی مہلت دے گی اگر تو وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں تو فبہا ورنہ اسلامی حکومت انکےقتل کاحکم دے گی اور پھر اس پر عمل کروائے گی۔
ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:وإذا ارتد المسلم عن الإسلام والعياذ بالله عرض عليه الإسلام ويحبس ثلاثة أيام فإن أسلم وإلا قتل وفي الجامع الصغير المرتد يعرض عليه الإسلام حرا كان أو عبدا فإن أبى قتل "ترجمہ: اور جب کوئی اسلام سے پھر جائے (العیاذ باللہ) اس پر اسلام پیش کیا جائے گا اور تین روز قید رکھا جائے گا، پھر اگر وہ اسلام لے آئے تو ٹھیک ورنہ اسکو قتل کیا جائے گا اور جامع صغیر میں ہے کہ آزاد ہو یا غلام دونوں پر اسلام پیش کیا جائے گا اگر انکار کریں توانہیں قتل کیا جائے گا۔( الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی ،باب احکام المرتدین جلد 2 ص 406)
الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:وَإِذَا ارْتَدَّ جَمْعٌ، وَتَجَمَّعُوا وَانْحَازُوا فِي دَارٍ يَنْفَرِدُونَ بِهَا عَنِ الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى صَارُوا فِيهَا ذَوِي مَنَعَةٍ وَجَبَ قِتَالُهُمْ عَلَى الرِّدَّةِ بَعْدَ مُنَاظَرَتِهِمْ عَلَى الإِْسْلاَمِ۔ترجمہ: اور جب بہت سے لوگ مرتد ہوجائیں اور کسی جگہ جمع ہوجائیں اور خود کو مسلمانوں سے جدا کرلیں حتی کہ طاقتور ہوجائیں تو ان پر اسلام پیش کرنے کے بعد ان سے قتال واجب ہے ۔( الموسوعۃ الفقہیہ،باب اسری المرتدین ومایتعلق بھا الاحکام جلد 4 ص 212)
3:۔ کفار خواہ اصلا کافر ہوں یا اسلام کے بعد مرتد ہوئے ان سے تعلقات پانچ درجات پر ہیں ۔پہلا درجہ:مسلمان و غیر مسلمان کے ما بین تعلق کا پہلا درجہ موالات کا ہے (یعنی کفار سے قلبی دوستی اور دلی لگاؤ کرنا) اور تعلق کا یہ درجہ یعنی موالات کفار ومشرکین و مرتدین میں سے کسی کے ساتھ اصلاً جائز نہیں ہے۔
دوسرا درجہ مواسات کا ہے مواسات کا معنی انسانی ہمدردی کا معاملہ کرنا ،خیر خواہی اور نفع پہنچانا ،تعلق کا یہ درجہ ماسوائے حربی و مرتدین کے باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے ۔
تیسرا درجہ تعلقات کا مدارات کاہے جس کا معنی ہے گفتگو اور برتاؤ میں نرمی کرنا، ظاہری خوش خلقی سے پیش آنا تعلق کی یہ قسم بھی ماسوائے حربیو مرتدین کے سب سے جائز ہے جبکہ اس سے مقصود انکو دینی نفع پہنچانا ہو ،یا وہ بطورِ مہمان ہوں یا ان کے شر اور ضرر سے خود کومحفوظ رکھنا مقصود ہو ۔
چوتھا درجہ معاملات یعنی لین دین اور معاشرتی برتاؤ کا ہے ان سے تجارت یا اجرت وملازمت اور صنعت و حرفت کے معاملات کئے جائیں یہ مرتدین کے سوا تمام غیر مسلموں سے جائز ہے ماسوائے اس حالت میں کہ ان معاملات عام مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔تو اب مسلم سے بھی جائز نہیں چہ جائیکہ کسی کافر سے جائز ہو۔
پانچواں درجہ مداہنت کا ہے کہ دنیا داری کے حصول کیلئے حق کو چھپانا ،یہ درجہ تمامغیر مسلمین کے ساتھ ناجائز ہے کہ روا نہیں کہ حصول ادنی کیلئے حق کو چھپائے۔غیر مسلمین سے موالات یعنی قلبی لگاؤاور گہری دوستی کی ممانعت درج ذیل آیات سے واضح ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاء َ تُلْقُونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَاء َکُمْ مِنَ الْحَقِّ ۔ترجمہ:اے ایمان والوں !میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے حق کا انکار کیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے ۔( الممتحنۃ: 1)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:لَا تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء َہُمْ أَوْ أَبْنَاء َہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیرَتَہُمْترجمہ:(اے محبوب)جولوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں آپ انہیں اس حال پر نہ پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے محبت کریں جو اللہ اور اسکے رسول سے عداوت رکھتے ہوں خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بےٹے یا ان کے بھائی یا ان کے قریبی رشتہ دار ۔( المجادلۃ: 22)
تیسری جگہ ارشاد فرمایا:لا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْکَافِرِینَ أَوْلِیَاء َ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللَّہِ فِی شَیْء ٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْہُمْ تُقَاۃً وَیُحَذِّرُکُمُ اللَّہُ نَفْسَہُ وَإِلَی اللَّہِ الْمَصِیرُ۔ترجمہ:ایمان والے مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں البتہ اگر تم ان سے جان بچانا چاہو (تو دوستی کے اظہامیں حرج نہیں)اور اللہ تمہیں اپنے(غضب) سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔(آل عمران: 28)
علاء الدین ابوالحسن علی بن محمد بن ابراہیم بن عمر الشیحی المعروف بالخازن المتوفی741ھ لباب التاویل میں فرماتے ہیں :ان عبادۃ بن الصامت کان لہ حلفاء من الیھود فقال یوم الاحزاب یا رسول اللہﷺمعی خمسمائۃ من الیھود وقد رأیت ان استظہر بھم علی العدو فنزلت ھذہ الایۃ وقولہ (لایتخذ المؤمنین۔۔۔)الایۃ یعنی انصارا واعوانا (من دون المؤمنین)یعنی من غیر المؤمنین والمعنی لا یجعل المؤمن ولایۃ لمن ھو غیر مؤمن نھی اللّٰہ المؤمنین ان یولواالکفار او یلاطفوھم بقرابۃ بینھم او محبۃ او معاشرۃ والمحبۃ فی اللّٰہ والبغض فی اللّٰہ باب عظیم واصل من اصول الایمان۔ترجمہ:حضرت عبادہ بن صامت کے کچھ یہودی حلیف تھے غزوہ احزاب میں انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ؐ میرے پاس پانچ سو یہودی ہیں اور میری رائے ہے کہ دشمن پر ان سے مدد لوں پھر اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مسلمان غیر مسلم کو مددگار نہ بنائیں کہ یہ مسلمانوں کیلئے حلال نہیں ،اللہ تعالی مسلمانوں کو منع فرمایا کہ رشتے خواہ نرے میل کے باعث کافروں سے دوستانہ برتےں یا ان سے لطف و نرمی سے پیش آئیں اور اللہ کیلئے محبت اور عداوت ایک عظیم باب اورایمان کی جڑ ہے۔( لباب التاویل فی معانی التنزیل تحت آیت 28/03 مصطفی البابی مصر336/01)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:موالات مطلقا ہر کافر ہر مشرک سے حرام ہے اگرچہ ذمی مطیع اسلام ہو اگرچہ اپنا باپ یا بیٹایا بھائی یا قریبی ہو۔(فتاویٰ رضویہ کتاب السیر جلد 14 ص432،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
معلوم ہوا کفار کے ساتھ محبت و دوستی کے تعلقات قائم کرنا اور ان کی تعظیم اور تکریم کرنا تو مطلقاً حرام اور ممنوع ہے البتہ غیر حربی کافروں اور بد عقیدہ لوگوں کےساتھ انسانی ہمدردری کے جذبہ سے نیکی اور صلہ رحمی کرنا جائز ہے ۔قرآن مجید میں ارشاد ہے :لَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ أَنْ تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ۔ترجمہ:اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور عدل کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین میں جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔(الممتحنہ: 08)
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی256ھ روایت کرتے ہیں:عن اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا قالت قدمت علی امی وھی مشرکۃ فی عھد رسول اللہ ؐ فاستفتیت رسول اللہ ﷺقلت وھی راغبۃ افاصل امی قال نعم صلی امک۔ترجمہ:حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میری والدہ میرے پاس آئیں وہ اس وقت مشرکہ تھیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میری والدہ اسلام سے اعراض کرتی ہیں کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں ؟آپ نے فرمایا :ہاں اپنی ماں سے صلہ رحمی اختیار کرو ۔( صحیح بخاری کتاب الھبۃ وفضلھا والتحریض علیھا باب الھدیۃ للمشرکین ج03ص164 حدیث نمبر2620 )
امام ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل متوفی 241ھ روایت کرتے ہیں :حدثنا عامر بن عبد اللہ بن زبیر عن ابیہ قال قدمت قتیلۃ ابنۃ عبدالعزی بن عبد اسعد من بنی مالک بن حسل علی ابنتھا اسماء بنت ابی بکر بھدایا خباب وقرظ وسمن وھی مشترکۃ فابت اسماء ان تقبل ھدیتھا وتدخلھا بیتھا فسألت عائشۃ النبی ؐ فانزل اللہ تعالی لا ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین......الخ فامرھا ان تقبل ھدیتھا وان تدخلھا بیتھا۔ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ قتیلہ بنت عبد العزی اپنی بیٹی اسماء بنت ابی بکر کے پاس گوہ،ترس(ایک قسم کی سبزی )اور گھی کا ہدیہ لیکر آئی حضرت اسماء نے انکا ہدیہ لینے سے انکار کیا اور اس کو اپنے گھر آنے سے بھی منع کر دیا حضرت عائشہ نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں کے ساتھ عدل اور نیکی کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین میں تم سے جنگ نہیں کی، پھر رسول اللہ ﷺنے انکا ہدیہ قبول کرنے اور اس کو گھر میں آے کی اجازت دےنے کا حکم دیا۔(مسنداحمد بن بن حنبل :ج04ص04 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)
یوں ہی کافروں، ظالموں اور بد عقیدہ لوگوں کے شر سے بچنے کیلئے ان کے ساتھ نرم رویہ اور ملائمت کیساتھ پیش آنا ،ان سے میٹھی باتیں کرنا اور ان سے ہنستے مسکراتے اور خوشی سے ملنا مدارات ہے تاکہ انسان ان کی اذیت رسانی،بدزبانی اور ان کے ہاتھوں بے عزتی سے محفوظ رہے اور یہ کفار سے دوستی ،محبت اور موالات کے حکم میں نہیں ہے جو کہ ممنوع ہے یہ نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی 458ھ روایت کرتے ہیں:حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا لوگوں کے ساتھ مدارات کرنا صدقہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا عقل کی اصل مدارات ہے اور جو لوگ دنیا میں نیک ہیں وہی آخرت میں بھی نیک ہوں گے۔( شعب الایمان ج06ص339-344 ملتقطا مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
یوں ہی امام محمد بن سماعیل بخاری روایت کرتے ہیں :حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ؐ سے ملاقات کی اجازت طلب کی اس وقت میں بھی آپ کے ساتھ تھی رسول اللہ ؐ نے فرمایا یہ اپنی قوم کا براآدمی ہے پھر آپ نے اس کو اجازت دے دی اور اس سے بہت نرم گفتگو کی جب وہ چلا گےا تو میں نے پوچھا یارسول اللہ ؐ! آپ نے اس کے متعلق جو فرمایا تھا پھر آپ نے اسکے ساتھ ملائمت کے ساتھ بات کی ؟ آپ نے فرمایا! اے عائشہ لوگوں میں سب سے بڑا وہ شخص ہے جس کی بدکلامی کی وجہ سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں۔(صحیح بخاری:ج02ص905 ،مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ،کراچی 1381ھ)
کفار کے ساتھ مجرد معاملہ (معاشرتی برتاؤ) کے متعلق احادیث :ذمی کافروں اور بد عقیدہ لوگوں کے ساتھ معاشرتی برتاؤ کرنا ،خرید و فروخت کرنا ،قرض کا لین دےین، بیمار پرسی اور تعزیت وغیرہ کرنا جائز ہے البتہ مرتدین سے کسی قسم کا کوئی معاملہ کرنا جائز نہیں ہے۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی256ھ روایت کرتے ہیں :عن عبدالرحمن ابن ابی بکر قال کنا مع النبیﷺ ثلثین و مائۃ فقال النبی ﷺ ھل مع احد منکم طعام فاذا مع الرجل صاع من طعام او نحوہ فعجن ثم جاء رجل مشرک مشعان طویل بفتمی سوقھا فقال النبیﷺ بیعا ام عطیہ اوقال ام ھبۃ قال لا بل بیع فاشتری منہ شاۃ۔ ترجمہ:حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سو تیس افراد نبی کریم ﷺکے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے تو ایک شخص کے پاس ایک صاع یا اس کے برابرآٹا تھا پھر اسکو گوندھا گیا پھر کہ ایک طویل القامت لمبے اور بکھرے بالوں والا مشرک آیا جو بکری لے جا رہا تھا نبی ﷺ نے اس سے پوچھا یہ بکری فروخت کرو گے یا بطورِ تحفہ دو گے اس نے کہا بلکہ میں فروخت کروں گا نبی کریم ﷺنے اس سے بکری خرید لی۔( صحیح بخاری :ج01 ص295 277- ملتقطا ،مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ،کراچی 1381ھ)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں:دنیاوی معاملات جس سے دین پر ضرر نہ ہو سوا مرتدین کے کسی سے ممنوع نہیں ۔(فتاویٰ رضویہ کتاب السیر جلد 14 ص420،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مداہنت ممنوع ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:ودو لو تدھن فیدھنون۔انہوں نے چاہا کہ(دین کے معاملہ)میں آپ ان سے نرمی اختیار کریں تو وہ بھی بےزار ہوجائیں گے۔(سورۃ القلم:08)
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی855ھ لکھتے ہیں :کسی کی ناحق طرف داری کرنا مداہنت ہے جو شخص نیکی کا حکم دے نہ برائی کو مٹائے حقوق کو ضائع کرے اور دکھاوا کرے وہ مداہن ہے۔( عمدۃ القاری:ج13 ص293 ،مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر،1348ھج)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی متوفی 1052ھ لکھتے ہیں :مداہنت یہ ہے کہ کوئی شخص برادےکھے اور اس کو نہ مٹائے اور باوجود قادر ہونے کے شرم کے سبب دینی بے غےرتی اور بے حمیتی سے رشوت لیکر یا کسی کی جانب داری کے سبب اس سے منع نہ کرے ۔( اشعۃ اللمعات فی شرح المشکاۃ ج04 ص174 ، مطبوعہ مطبع تیج کمار لکھنؤ)
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256ھ روایت کرتے ہیں :حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ اللہ کی حدود میں مداہنت کرنے اور اللہ کی حدود کو توڑنے والے کی مثال یہ ہے کہ بحری جہاز میں قرعہ اندازی کے ذرےعے کچھ لوگ بالائی منزل میں بےٹھے ہوں اور کچھ نچلی منزل میں ،نچلی منزل والے پانی لینے کیلئے بالائی منزل پر جاتے ہوں جس سے ان کو تکلیف ہوتی ہوں تب نچلی منزل والوں نے ایک کلہاڑی لیکر جہاز کے نچلے حصے کو توڑنا شروع کیا (تاکہ سمندر سے پانی لے لیں )پھر بالائی منزل والوں نے توڑنے والوں سے کہا یہ تم کیا کر رہے ہو ؟انہوں نے کہا کہ تم کو ہمارے پانی لینے سے تکلیف ہوتی ہے اور ہمیں پانی کی ضرورت ہے ،اب اگر انہوں نے توڑنے والوں کے ہاتھوں کو پکڑ لیا تو وہ ان کو بھی بچا لیں گے اور خود کو بھی، اور اگر ان نے انکو ان کے حال پر چھوڑدےا تو وہ ان کو بھی ہلاک کر دےں گے اور خود کو بھی۔( صحیح بخاری :ج01ص369،مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی،1381 ھج)
ان تمام تمہیدات کے بعد آپکے تمام سوالات کے جوابات یہ ہیں :
جو شخص مرتد ہوجائے یعنی اسلام سے پھر جائے اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق جائز نہیں خواہ یہ شخص کسی کا باپ ہو یا اولاد ، ان کے ساتھ ،میل جول رکھنا،بلا وجہ شرعی بے تکلف ہونا،کھانا پینا ،ان کی تقاریب میں شرکت کرنا شرعا منع ہے،کہ ان سے تعلقات رکھنے اور نرم رویہ رکھنے میں انکو انکے کفر پر جری کرنا ہے جبکہ ایسے لوگوں کو اسلامی حکومت مہلت کے بعد قتل کرے گی، نیز اگر گھر کا راستہ ایک ہے تو احتیاط اس میں ہے وہ بھی جدا کرلیں ۔اللہ کریم نے قرآن مجید میں اور اس کے پیارے رسول ﷺ نے اس سے منع فرمایا ۔
قال اللہ تعالٰی: وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ترجمہ کنز الایمان : اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے.(المائدہ: 51)
اس آیت کے تحت صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی تفسیر خازن و مدارک کے حوالے سے لکھتے ہیں :اس میں بہت شدت و تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود و نصارٰی اور ہر مخالف دین اسلام علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے۔(خزائن العرفان ص218)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :کافر دو قسم ہے :اصلی ومرتد۔اصلی وہ کہ ابتداء سے کافر ہو اور مرتد وہ کہ بعد اسلام کافر ہوا یا با وصف دعوی اسلام عقائد کفر رکھے :جیسے آج کل نیچری۔ مرتد کے لیے تو اصلاً نہ غسل، نہ کفن، نہ دفن، نہ مسلمان کے ہاتھ سے کسی کافر کو دیا جائے اگر چہ وہ اسی کے مذہب کا ہو، اگر چہ اس کا باپ یا بیٹا ہو، بلکہ اس کا علاج وہی مرادار کتے کی طرح دبادینا ہے، اور کافر اصلی سے اگر مسلمان کو قرابت نہیں توا س کے بھی کسی کام میں شریک نہ ہو بلکہ چھوڑ دیا جائے کہ اس کا عزیز قریب یا مذہب والے جو چاہے کریں۔( فتاوٰی رضویہ ، کتاب الجنائز، جلد 9 ص391،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
یوں ہی ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:مرتد ان میں سب (کفار میں )سے خبیث تر ہے اس کے پاس نشست برخاست مطلقا ناجائز ہے۔مرتد کی نہ دعوت کرے نہ اس کی دعوت میں جائے نہ اس سے کوئی معاملہ میل جول کا رکھے۔اور ساتھ کھانا ہر کافر کے ساتھ برا ہے۔ پھر اگر اس میں بد مذہبی کی تہمت ہو جیسے نصرانی کے ساتھ کھانا مسلمانوں کے لئے زیادہ باعث نفرت ہو تو اس کاحکم اور سخت تر ہوگا ورنہ اس اصل حکم میں کہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ پانی نہ پیو سب برابر ہیں۔( فتاوٰی رضویہ ، کتاب الحظر والاباحۃ ، جلد 21 ص 668،662رضا فاؤنڈیشن،لاہورملخصا )
البتہ اگر وہ ماں باپ یا اولاد کو خود سے خرچہ دیں توان سے خرچہ وغیرہ لینے میں حرج نہیں ہے۔لان مالہ فئی للمسلمین ۔(کیونکہ مرتد کا مال مسلمانوں کے لیے غنیمت کی طرح ہے)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضاقادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاریخ اجراء:21جمادی الاول 1442 ھ/07 جنوری 2021 ء