مسجد میں سنی یا غیر سنی میت کا اعلان کروانے کا حکم
    تاریخ: 24 نومبر، 2025
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 238

    سوال

    ہماری مسجد میں فوتگی کے اعلان ہوتے ہیں، مسجد اہل سنت بریلوی کی ہے ، لیکن وہاں سنی ، اور دیگر مسالک کے لوگ تمام حضرات اعلان کروانے آتے ہیں ۔ شرعی فتوٰی اس بارے میں عنایت فرمائیں کہ مسجد میں کسی کے مرنے کا اعلان جائز ہے یا نہیں؟

    عبدالرحیم: موذن جامع مسجد محمدی: باندھی،ضلع شہید بینظیر آباد(نواب شاہ)


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مسجد میں کسی کے انتقال کا اعلان کروانا تاکہ لوگوں کو علم ہوجائے کہ فلاں شخص کا انتقال ہوگیا ہے اور وہ اس کے جنازے میں شامل ہوں ، یااس مرنے والے کا کسی پر کوئی حق ہےتو وہ اسکے ورثاء کو لوٹادے یااس مرنے والے کے ذمے کسی کا کوئی قرض وغیرہ ہے تووہ اسکے ترکہ یا اسکے ورثاء سے اسکا تقاضا کرے تاکہ یہ میت عذاب سے محفوظ رہے،یہ جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ کیونکہ ہمارے شہروں میں عرف یہی ہے کہ کسی بھی شخص کے مرنے کا اعلان مساجد کے لاؤوڈ اسپکرز سے ہی کیا جاتا ہے،اگر کوئی شخص اسپیکر مسجد کے لیے وقف کرتا بھی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے میت کا اعلان بھی کیا جائے گا۔یونہی اگر چندہ مانگ کر اسپیکر لیا جائے تب بھی چندہ دینے والے جانتے ہوتے ہیں کہ جو اسپیکر لیا جائےگا اس سے میت کا اعلان بھی کیا جائیگا ۔سو اس اعتبار سے بھی مسجد کے اسپیکر سے کسی کی موت کا اعلان کرنا جائز ہے۔ فقہ کا مشہور قاعدہ اسکی دلیل ہے کہ المعروف کالمشروط لوگوں میں جس چیز کا عرف ہو وہ بمنزلہ شرط کے ہوتی ہے۔اور اس میں میت کے سنی،یا کسی اور مسلک کے ہونے کی تخصیص نہیں بلکہ سب کرسکتے ہیں۔

    علامہ شامی اپنے شہرہ آفاق رسالے شرح عقود رسم المفتی میں لکھتے ہیں :وَالْعُرْفُ فِي الشَّرْعِ لَهُ اعْتِبَارُ ... لِذَا عَلَيْهِ الْحُكْمُ قَدْ يُدَارُ۔ترجمہ: اور شریعت میں عرف کا اعتبار ہے کیونکہ اس پر بھی حکم کا مدار ہے۔(رسائل ثلاثہ فی رسم الافتاء ص 263،دار اہل السنہ کراچی)

    اسی میں ص 270 پر ہےوالاحکام تبتنی علی العرف، فیعتبر فی کل اقلیم و فی کل عصر عرف اہلہ(ایضا)۔ترجمہ:احکام کی بنیاد عرف پر بھی ہے لہذا ہر ملک اور زمانے میں وہاں کا عرف ہی معتبر ہے۔

    فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی اسی طرح کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:اگر واقف نے بوقت وقف اس کی اجازت دی تو اس سے موت کا اعلان کرنا جائز ہے۔یوں ہی اگر واقف نے اجازت نہیں دی مگر وہ جانتا ہے کہ اس سے موت کا بھی اعلان ہوگا یا چندہ سے لاؤوڈ اسپیکر خریدا گیا اور ہرماہ چندہ دینے والا جانتا تھا کہ اس سے موت کا بھی اعلان ہوگا تو ان صورتوں میں بھی موت کا اعلان اس سے جائز ہے۔(فتاوٰی فقیہ ملت جلد 2 ص174،175)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:23 جمادی الاول 1440 ھ/29 جنوری 2019 ء