سوال
1: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میںShariah-listed)) کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟ اس سلسلے میں وضاحت بھی مطلوب ہے کہ اگر جائز ہے تو کیونکر جائز ہے؟
2: نیز پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی ایک ایپ ہے JS Invest Pro جس میں شرعی اور غیر شرعی دونوں قسم کی کمپنیاں موجود ہوتی ہیں۔ مارکیٹ روزانہ کی بنیاد پر اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر، صبح کسی شرعی کمپنی کا شیئر 2 روپے کا ہوتا ہے اور شام کو کبھی 3 روپے کا ہو جاتا ہے، اور کبھی نقصان میں بھی چلا جاتا ہے (یہ آپ پر ہوتا ہے کہ جب چاہیں آپ اسے فروخت کر دیں یا پھر اسے فروخت نہ کریں)۔اور کبھی کبھار بروکرز یا مارکیٹ کے افراد یہ بھی بتاتے ہیں کہ فلاں کمپنی کے شیئرز اوپر جانے والے ہیں، اس بنیاد پر شیئرز خرید لیے جاتے ہیں — کیا اس قسم کا عمل شریعت کے مطابق درست ہے؟اگر صرف شرعی کمپنی کے شیئرز خرید کر بعد میں انہیں نفع(Profit)پر فروخت کیا جائے، تو کیا اس طرح کا نفع کمانا شریعت کے مطابق حلال ہے یا نہیں؟براہِ مہربانی اس مسئلے پر تفصیلی رہنمائی فرما دیں۔
سائل:عبداللہ :کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
نوٹ: اگرچہ (SECP) نے حالیہ گورننس فریم ورک میں شیئرز کے کاروبار سے متعلق کچھ تبدیلی کی ہیں ، لیکن اس سے اسکے شرعی حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
1: پاکستان میں رائج Shariah-listed)) کے شیئرز کی خرید و فروخت جائز و حلال ہے، کہ خریدتے ہی بائع(شیئرز ہولڈر) انکا مالک بن جاتا ہے کیونکہ یہ شیئرز حصۃ المشاع لایقسم کی قبیل سے ہیں اور حصة المشاع لا یقسم میں حقیقی قبضہ متصور نہیں ہوسکتا بلکہ یہاں صرف حکمی قبضہ ہی ہو سکتا ہے اورشیئرز کا خریدارکے ضمان میں آجانا اور فروخت کرنے کا اختیار حاصل ہوجانا حکمی قبضہ ہے، لہذا قبضہ حکمی کے پائے جانے کی وجہ سے ان شیئرز کی خرید و فروخت جائز ہے۔(اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لئے استاذ محترم مفتی وسیم اختر المدنی کا تفصیلی فتوٰی بنام ''شیئر کی خریدو فروخت میں قبضہ کا تحقق'' حوالہ نمبر 9182دیکھیں۔)پھر کسی بھی کمپنی کے Shariah-listed)) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہم اسٹاک ایکسچینج میں جائز و حلال منافع حاصل کریں تو ایسی کمپنیز جو شرعیہ لسٹد ہوں ان میں انوسٹ کرکےحلال منافع کما سکتے ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی کمپنی Shariah-listed)) اس وقت قرار پاتی ہے جب وہ کمپنی علماءِ کرام اور مالیاتی ماہرین کے وضع کردہ چند معاییر اورشرائط پر پوری اترے ، ایسی کمپنی ہی شرعیہکمپلائنس کمپنی کہلاتی ہے اوربعد ازاں اسے Shariah-listed)) کردیا جاتاہے ، سو جب یہ شرعیہ کمپلائنس ہیں تو انکے شیئرز کی خرید و فروخت جائز ہوگی۔
تفصیل اسکی یہ ہےکہ علماءِ کرام نے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے جواز کے لیے بنیادی شرط تو یہی رکھی ہے کہ کمپنی کا کاروبار مکمل طور پر حلال اور سودی لین دین سے پاک ہو۔ تاہم، پاکستان کے رائج مالیاتی نظام میں خالصتاً غیر سودی اداروں کی کمی کے پیشِ نظر، ماہرینِ شریعت نے معاشی عمل کو جاری رکھنے اور اسلامائزیشن کی ترغیب دینے کے لیے ایک درمیانی راہ اختیار کی۔اس سلسلے میں مفتیِ اعظم پاکستان، مفتی منیب الرحمن صاحب، تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی اورآپ جیسے جید فقہاء، جو عملی طور پر اسلامی مالیات کے شعبے سے وابستہ ہیں، نے بعض مخصوص حدود و قیود (Thresholds) کے ساتھ شیئرز کی خرید و فروخت کی گنجائش فراہم کی ہے۔لہذا اسی مقصد کے لیے (SECP)"سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان"میں ایک اعلیٰ سطح کا شریعہ بورڈ تشکیل دیا گیا۔ اس بورڈ نے کمپنیوں کی جانچ پڑتال کے لیےدرج ذیل پانچ بنیادی شرائط وضع کی ہیں، جنہیں "شریعہ اسکریننگ کرائٹیریا" کہا جاتا ہے۔ ان قواعد کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی کمپنی میں کی جانے والی سرمایہ کاری شرعی تقاضوں کے مطابق ہو۔
1: کمپنی کا بنیادی کاروبار (Core Business)شرعی طور پر جائز و حلال ہونا چاہیے۔لہذا اگر کسی کمپنی کا بنیادی کام ہی ناجائز و حرام پر مبنی ہو تو اس کاروبار سے وابستہ کمپنیاں اسکریننگ میں ناکام تصور کی جاتی ہیں اور انہیں شرعیہ کمپلائنس قرار نہیں دیا جاتا ، مثلا شراب، خنزیر یا دیگر حرام اشیاء کی تجارت کرنے والی کمپنیاں،غیر شرعی تفریحی ذرائع (جیسے سینما، ڈرامہ پروڈکشن وغیرہ) مہیا کرنے والی کمپنیاں ، یونہی سودی بینکاری اور انشورنس کرنے والی کمپنیاں ۔چونکہ ان تمام کمپنیز کا بنیادی کام ہی حرام ہے لہذا ایسی تمام کمپنیز کے شیئرز کی خرید و فروخت ناجائز و حرام ہوگی۔
2:کمپنی نے اپنی کاروباری ضروریات کے لیے کنونشنل بینکوں سے جو سودی قرض لیا ہو، وہ اس کے کل اثاثوں (Total Assets) کے 37 فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہیے۔ اصلاً تو یہی ہونا چاہیے کہ اگر کمپنی نے کوئی قرض لیا ہے وہ بلاسود ہو لیکن چونکہ اسلامک بینکس کی ابھی اتنی ورتھ نہیں بنی کہ جو اتنا بڑا سرمایہ بلاسود دے سکیں اور پھر کمپنی کو ضروریات پوری کرنے کے لئے لامحالہ قرض لینا ہی پڑے گا لہذا علماء نے اس قرض کے لئے یہ شرط لگائی کہ اس کمپنی کا قرض کل اثاثہ کے 37 فیصد سے زائد نہ ہو۔یاد رہے سود لینا دینا دونوں ہی شرعاً ناجائز و گناہ ہے، لیکن اس قرض سے حاصل کردہ اثاثوں سے ہونے والا کاروبار شرعی طور پر مکمل حرام نہیں ہو جاتا، کیونکہ جو قرض اس بنیاد پر لیا جائے اس سے ہونے والا کاروبار جائز کہلائے گاکہ اس میں حرمت متعدی نہیں ہوگی۔
3:کمپنی نے اپنا اضافی سرمایہ جن غیر شرعی یا سودی ذرائع (مثلاً سیونگ اکاؤنٹس، بانڈز وغیرہ) میں لگایا ہو، وہ اس کے کل اثاثوں کے 33 فیصد سے کم ہونا چاہیے۔ اگرچہ آئیڈیل صورتحال صفر فیصد ہے، تاہم موجودہ نظام میں عبوری طور پر یہ حد قبول کی گئی ہے۔
4:کمپنی کی کل آمدنی (Total Income) میں سودی ذرائع(جسکی حد 33 فیصد مقرر کی گئی ہے) سے حاصل ہونے والی رقم 5 فیصد سے کم ہونی چاہیے۔ اگر غیر شرعی آمدنی اس حد سے تجاوز کر جائے تو اس کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت جائز نہیں رہتی۔ یاد رہے کہ اس 5 فیصد آمدنی کو سرمایہ کار اپنے منافع سے نکال کربلا نیتِ ثواب صدقہ (Purification) کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
5:کمپنی کے کل اثاثوں میں جامد یا غیر سیال اثاثے (مثلاً زمین، عمارت، مشینری اور اسٹاک) کم از کم 25 فیصد ہونے چاہئیں۔ شرعی اصول کے مطابق، اگر کسی کمپنی کے پاس صرف نقد رقم (Cash)یا وصولیاں (Receivables) ہوں، تو اس کے شیئرز کو اس کی اصل قیمت (Face value) سے کم یا زیادہ پر فروخت کیا جائے تو یہ سود کے زمرے میں آکر ناجائز و حرام قرار پائے گا۔ لہٰذا، شیئرز کی مارکیٹ ویلیو پر تجارت کے لیے اثاثوں کا ہونا ضروری ہے۔
نوٹ: ان شرائط کی مکمل تفصیل تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی کے یوٹیوب چینل سے لی گئی ہے، ویڈیو کا لنک درج ذیل ہے۔
https://youtu.be/KN11XzPPSOY?si=ePP1Z70w7CVlHTlD
2: JS Invest Pro نامی ایپ پر جو شرعی کمپنیاں لسٹڈ ہیں ان میں انوسمنٹ کا وہی حکم ہے جو اوپر گزرا، البتہ جو کمپنیاں غیر شرعی ہیں ان میں انوسمنٹ بدستور ناجائز و حرام رہے گی۔
قیمت کے اتار چڑھاؤ کا حکم:
قیمت کا اتار چڑھاؤ (Price Fluctuation) شیئرز کے کام کو ناجائز نہیں کرتا، بلکہ درحقیقت، تجارت کی بنیاد ہی قیمتوں کے فرق پر ہوتی ہے کہ انسان سستی چیز خرید کر مہنگی بیچے۔مثلاً آپ نے ایک کمپنی کا حصہ (Share) خریدا اور اس کی مارکیٹ ویلیو بڑھ گئی، تو یہ آپ کی ملکیت کی قیمت میں اضافہ ہے جسے "نماء" کہا جاتا ہے۔ اسے وصول کرنا بالکل اسی طرح جائز ہے جیسے پراپرٹی یا سونے کی قیمت بڑھنے پر اسے بیچ کر نفع کمانا اور اسے حاصل کرنا جائز ہے۔یونہی قیمت کم ہونے کی صورت میں نقصان بھی شیئر ہولڈر ہی برداشت کرے گا جیسا کہ دیگر اشیاء کے کاروبار میں نقصان برداشت کرتا ہے، اسے غرر یا قمار سے تعبیر کرنا درست نہیں۔کیونکہ جوا یا قماراس وقت ہوتا ہے جب نفع یا نقصان محض "اتفاق" یا "تکے" پر مبنی ہو اور اس کے پیچھے کوئی معاشی قدر (Economic Value) موجود نہ ہو۔حالانکہ جب آپ کسی کمپنی کا شیئر خریدتے ہیں، تو آپ اس کے کاروبار میں حصہ دار بنتے ہیں۔ قیمت کا بڑھنا یا گرنا کمپنی کی کارکردگی، ملک کے حالات اور طلب و رسد (Supply and Demand) پر منحصر ہوتا ہے۔ چونکہ یہاں ایک اثاثہ(Asset) موجود ہے، اس لیے اسے جوا نہیں کہا جا سکتا۔اور غرر اس لئے نہیں کہ غرر سے مراد ایسی خرید و فروخت ہے جس میں سودے کی بنیاد کسی ایسی چیز پر ہو جو مجہول ہو یا جس کا انجام معلوم نہ ہو۔شیئرز کی قیمت کا مستقبل میں معلوم نہ ہونا غررِ یسیرمعمولی غیر یقینی صورتحال کہلاتا ہے، جو ہر کاروبار میں ہوتا ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ قیمت کا اتار چڑھاؤ شیئرز کے کام کو ناجائز نہیں بنا سکتا۔
ہدایہ میں ہے:لأن تسليم المشاع وحده لا يتصور، والتخلية اعتبرت تسليما لوقوعه تمكينا وهو الفعل الذي يحصل به التمكن ولا تمكن في المشاع۔ترجمہ: کیونکہ مشاع (یعنی ایسی چیز جو دو یا زیادہ افراد کے درمیان مشترک ہو) کا اکیلے طور پرقبضہ دینا ممکن نہیں ہوتا، اور تخلیہ (یعنی کسی کو چیز کے استعمال کے لیے چھوڑ دینا) کو قبضے کے قائم مقام اس لیے سمجھا گیا ہے کہ یہ تمکین (یعنی تصرف و استعمال کی قدرت دینا) کے طور پر واقع ہوتا ہے یعنی وہ فعل جس کے ذریعے قبضہ حاصل ہوجائے جبکہ مشاع میں حقیقی(قبضہ کی) قدرت ممکن نہیں ۔(ہدایہ، باب الاجارۃ الفاسدۃ ، جلد 3 ص 238)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: رجب المرجب 1447ھ/ 12 جنوری2026 ء