سوال
میں محمد حسام والد ندیم احمد گزشتہ 8 سال سے اسٹیٹ لائف انشورنس میں کام کررہا ہوں ۔ میں جب اس ادارہ میں آیا تھا تو میں نے اس ادارہ میں رہ کر اس کے معمولات کے بارے میں جا نا کہ اس میں کوئی سودی نظام تو نہیں تو مجھے معلوم یہ ہوا کہ اسٹیٹ لائف انشورنس گورمنٹ کا ادارہ ہے یہ اپنا پیسہ پراپرٹی ،شیئرز اور گورمنٹ کے پروجیکٹ میں اپنا پیسہ لگاتا ہے اور اس ادارہ کی پورے پاکستان میں پراپرٹی ہے جوکہ کرایہ پر دی ہوئی ہے ۔جہاں ہر ماہ کڑوڑوں کرایہ آتا ہے اور جو پیسہ یہ کاروبار سے کماتے ہیں وہ اپنے پالیسی ہولڈرمیں ہر سال تقسیم کرتے ہیں جوکہ فکس نہیں ہوتا اور جو ہر سال یہ کاروبار سے منافع حاصل کرتے ہیں اس کا ٪97 بونس کی شکل میں پالیسی ہولڈر میں تقسیم کرتے ہیں جوکہ ہر سال میں رقم جمع کرنے کے بعد ملتا ہے۔اور یہ گورنمنٹ کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو کہ 1972 سے پاکستان میں موجود ہے۔یہاں ادارے میں مختلف ایڑیا کے مینجر ہوتے ہیں جو انشورنس کے پالیسی کے حوالے سے مارکیٹینگ ،خریدو فروخت کے حوالے سے معاملات دیکھتے ہیں اور میں ایک ایڑیا مینجر کے اسسٹنٹ کے طور پر اس ادارے میں کام کررہا ہوں ۔میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرا یہاں کام کرنادرست ہے اور کیا انشورنس کمپنی میں انشورنس کروانا جائز ہے یا نہیں؟
سائل:محمد حسام ولد ندیم احمد:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
انشورنس درج ذیل عناصر پائے جانے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے:
1:سود 2:قمار 3:غررکثیر
1:سود:
انشورنس باقاعدہ عقد معاوضہ(Commutative Contract) ہوتاہے۔جس میں پالیسی ہولڈر بطور ِ مشتری (Policy holder as a buyer)،کمپنی بطور بائع (Company as a seller)،اقساط بطور ثمن(premium as a price) ،بیمہ رقم بطور مبیع (Sum Assured/Insured as a Subject Matter)ہوتی ہے۔ اور انشورنس کے اندر کم پریمیم کے بدلہ زیادہ رقم کی پالیسی خریدی جاتی ہے اور بعض مرتبہ انشورنس کمپنی زیادہ رقم لے کر کم رقم دیتی ہے یعنی یہ خرید وفروخت کا معاملہ ہوتاہے ۔
اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ خرید و فروخت میں دو چیزوں کے مابین سودکی علت ان میں قدَر و جنس کا پایا جانا ہے،قدر سے مراد مکیلی یا موزونی ہونا ہے۔اگر قدَر و جنس دونوں پائی جائیں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حرام ہوتے ہیں اور اگر قدرو جنس میں سےایک چیز پائی جائے،جبکہ دوسری موجود نہ ہو، تو کمی بیشی جائز اور ادھار حرام ہوتا ہے اور اگر دونوں چیزیں نہ پائی جائیں تو کمی بیشی بھی جائز ہے اور ادھار بھی جائز ہے۔
اورانشورنس میں روپے بطور ثمن لے کرروپے ہی بطور مبیع دیے جاتے ہیں اور روپے کے لین دین میں اگرچہ قدر کی علت مفقود ہونے کی وجہسے کمی بیشی جائز ہے لیکن ہم جنس ہونے کی وجہ سے ادھار سود ہے اورسود حرام اورجہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’فاقول:اولا نص علماؤنا قاطبۃ ان علۃ حرمۃ الربا القدر المعھود بکیل ا ووزن مع الجنس فان وجداحرم الفضل والنسأ وان عدما حلاوان وجد احدھما حل الفضل و حرم النسأ وھذہ قاعدۃ غیر منخرمۃ وعلیھا تدورجمیع فروع الباب : (تو میں کہتا ہوں) اولاً ہمارے جمیع علما رحمہم اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی کہ حرمت ربا کی علت وہ خاص اندازہ یعنی ناپ یا تول ہے اتحاد جنس کے ساتھ، تو اگر قدر و جنس دونوں پائی جائیں تو بیشی اور ادھار دونوں حرام ہیں اور اگر وہ دونوں نہ پائی جائیں تو حلال ہیں اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے، تو بیشی حلال اور ادھار حرام ہے اور یہ ایک عام قاعدہ ہے جو کہیں منتقض نہیں اور باب ربا کے جمیع مسائل اسی پر دائرہیں۔‘‘ ( فتاوی رضویہ،جلد17،صفحہ446،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
ایک اور مقام پر نوٹ میں قدَر نہ ہونے بلکہ عددی ہونے کے بارے میں فرماتے ہیں: اتحاد جنس سے تفاضل حرام نہیں ہوجاتا، اتحاد قدر بھی تو لازم ہے، نوٹ سرے سے قدر ہی نہیں رکھتا کہ نہ مکیل ہے، نہ موزون، بلکہ معدود ہے۔ (فتاوی رضویہ،جلد17،صفحہ527،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
2:قمار(جوا):
انشورنس کے اندر پائی جانے والی دوسری بڑی خرابی قمار(جوا)ہے۔جوے کی حقیقت یہ ہے کہ دو یا دو سے زائد فریق آپس میں اس طرح کا کوئی معاملہ کریں جس کے نتیجے میں ہر فریق کسی غیر یقینی واقعے کی بنیاد پر اپنا کوئی مال (فوری ادائیگی کرکےیا ادائیگی کا وعدہ کرکے)اس طرح داؤ پر لگائے کہ وہ یا تو دوسرے فریق کے پاس چلا جائے یا دوسرے فریق کا مال پہلے فریق کے پاس آجائے۔اور یہی معاملہ انشورنس میں ہوتا ہے یا تو پریمیم کی صورت میں کسٹمر کا سارا مال کمپنی کے پاس آجاتا ہے اگر اس دوران کسٹمر کو کوئی حادثہ پیش نہیں آتا یا پھر کسٹمر اس تھوڑے سے پریمیم کے عوض زیادہ مال کمپنی سے وصول کرلیتا ہے اور یہی جوا ہے جوکہ ناجائز اور حرام ہے۔
3:غرر کثیر:
غرر کثیر سے مراد وہ غرر ہے کہ جس میں دھوکہ اس درجہ کا ہو جو باعثِ نزاغ اور باہمی جھگڑے کا سبب بنے ،اور یہ ناجائز ہے۔اور انشورنس کے اندر غرر کثیر کی خرابی موجود ہے کیونکہ انشورنس کے اندر جس خطرے کی حفاظت کے لیے معاملہ کیا جاتا ہے اس کا پایا جانا غیر یقینی ہے کہ معلوم نہیں کتنی رقم واپس ہوگی ،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جتنی رقم دی ہے وہی ملے اور یہ بھی ہوسکتا ہے حادثے کی صورت میں زیادہ رقم مل جائے ،یعنی صورتِ حال واضح نہیں اور اسی کو غرر کہتے ہیں کہ ارکان ِ عقد یعنی ثمن(Price)،مبیع(Subject of Sale)،یا مدت (Period) میں سے کوئی چیز مجہول ہو یا کسی مجہول اور غیر معین واقعے پر موقوف ہو۔
یہ بات تو ظاہر ہے کہ اس ادارے میں کام کرنے والے وہ ملازم جو اس کام کو کرنے میں معاون ہیں مثلاً انشورنس کی مارکیٹنگ کرنے والے،لین دین کرنے والے ،اسے لکھنے والے وغیرہ ان کی اس کام پر اجرت بھی حرام ہے۔جیسا کہ مفتی وقار الدین علیہ الرحمۃ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:بیمہ (انشورنس)ہر قسم کا ناجائز ہے اور ناجائز کام کے لیے ملازمت کرنا اور اس سے تعاونکرنا بھی ناجائز ہے۔(وقار الفتاوٰی ،جلد:3،ص:326،بزم وقار الدین ،فیڈرل بی ایریا کراچی)
اور صورتِ مسئولہ میں بھی سائل کا کام اسی طرح کا ہے۔لہذا سائل پر لازم ہے کہ جلد از جلد اس کام سے دوری اختیار کرے اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے کوئی حلال روزگار تلاش کرے یا پھر اسی کمپنی میں تکافل ڈیپارٹمنٹ کی طرف منتقل ہوجائے ۔ نیز انشورنس کے بجائے تکافل کروایا جائے کیونکہ تکافل مروّجہ غیر اسلامی انشورنس کا ایک ایسا جائز متبادل نظام ہےجس کی بنیاد وقف پر رکھی گئی ہے،جہاں ایک وقف فنڈ بنایا جاتا ہے جس میں شرکاء ِ تکافل روپیہ وقف کرتے ہیں اور حادثہ پیش آنے کی صورت میں یہ وقف مقررہ شرعی اصول و ضوابط کےمطابق صرف ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس وقف پول کے ڈونر ہوتے ہیں ۔ اورمروّجہ انشورنس اور تکافل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مروجہ انشورنس ایک ایسا عقدِ معاوضہ ہے جس میں سود قمارgambling اورغرر پایا جاتا ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا جبکہ تکافل کے نظام میں کوئی شرعی خرابی نہیں پائی جاتی نیزتکافل کا نظام عقدِ تبرع (وقف)پر مبنی ہے اور انشورنس عقدِ تبرع نہیں ہےبلکہ عقدِ معاوضہ ہے ۔مزید معلومات کے لئے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب کے فتاوٰی کا مجموعہ بنام تفہیم المسائل جلد 7 ص 259 تا 269 کا مطالعہ فرمائیں ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:03ذوالقعدۃ1443 ھ/03جون2022ء