le palak beti ka warasat mein hissa
سوال
میری بہن کا انتقال ہوگیا ہے بہن نے ایک لڑکی لے کر پالی تھی جو کہ انکی دور کے رشتے دار کی بیٹی ہے ،ابھی بہن کے شوہر اور بہن بھائی موجود ہیں، وراثت تقسیم کرنے کا ارادہ نہیں ہے، لیکن ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ اس لڑکی کو بہن کی وراثت میں حصہ ہوگا یا نہیں ؟
سائل: عبدالقادر قادری : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت اگر مرنے والی نے اس لڑکی کے لیے کسی طرح کی کوئی وصیت کی ہے تو اسکے کل مال کے ایک تہائی حصہ سے وصیت پوری کی جائے گی۔ لیکن لڑکی کو وراثت سے حصہ نہیں ملے گا ،کیونکہ منہ بولی یا لے پالک اولاد، شریعت میں نسبی اولاد کی طرح نہیں ہوتی ۔ اسکے احکام نسبی اولاد کے احکام سے جدا ہوتے ہیں۔ چناچہ تفسیر مظہری میں ہے:فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك
(تفسیر مظہری ، جلد 7 ص 234)ترجمہ:منہ بولا بنانے سے نسبی اولاد والے احکام ثابت نہیں ہونگے مثلا وراثت،نکاح وغیرہ کا حکم۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:الْأَسْبَابُ الَّتِي بِهَا يُتَوَارَثُ ثَلَاثَةٌ الرَّحِمُ وَالنِّكَاحُ وَالْوَلَاءُ :ترجمہ: وہ اسباب جن کی وجہ سے وراثت حاصل ہوتی ہے تین ہیں ۔1:رشتہ داری(ماں باپ،بہن بھائی، بیٹا،بیٹی،)2: نکاح (شوہر ، بیوی) اور ولاء (یعنی مرنے والے کے معتق)۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الفرائض جلد 29 ص 138،الشاملہ)
اسی طرح تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:وَيُسْتَحَقُّ الْإِرْثُ بِرَحِمٍ وَنِكَاحٍ وَوَلَاءٍ (تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الفرائض جلد 6ص 757،الشاملہ)
ترجمہ: وہ اسباب جن کی وجہ سے وراثت حاصل ہوتی ہے تین ہیں ۔1:رشتہ داری(ماں باپ،بہن بھائی، بیٹا،بیٹی،)2: نکاح (شوہر ، بیوی) اور ولاء (یعنی مرنے والے کے معتق)۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:08 جمادی الاول 1440 ھ/14 جنوری 2019 ء