سودی کمپنی کے ساتھ شراکت کا حکم

    Soodi company ke sath sharaakat ka hukam

    تاریخ: 16 اپریل، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1143

    سوال

    حضرت! اگر کوئی کمپنی آپ کی مرضی اور رضا کے بغیر بینک سے سودی قرض لیتی ہے، تو کیا اس کمپنی کے شیئرز خریدے جا سکتے ہیں؟ مزید یہ کہ اگر شیئرز کی آمدنی میں سے وہ رقم صدقہ کر دی جائے جو سود سے حاصل ہوئی ہو، تو کیا باقی آمدنی حلال ہوگی؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سودی کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت ناجائز و حرام ہے۔جان بوجھ کر ایسی کمپنی کے شیئرز لینا حرام ہے اگر چہ یہ نیت ہو کہ سود کی رقم صدقہ کردوں گا کہ سودی معاہدہ کرنا ہی حرام قطعی ہے۔ یاد رہے سود کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کو صدقہ کا حکم ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس انجانے میں سودی رقم آگئی یا یہ کہ اب وہ سود سے توبہ کرنا چاہتا ہے تواس صورت میں سودی رقم کو بلا نیت ثواب صدقہ کردے ۔ اسکی اجازت ہرگز نہیں کہ سود اس نیت سے لے کہ بعد میں صدقہ کردوں گا یہ ہرگز جائز نہیں۔