سوال
میری بھابھی میرےبھائی کے چالیسویں کی رات کو اپنے بیٹے کو لے کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی ،اور اس کے بعد انھوں نے گھر شفٹ کر لیا ،فون کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے وہ مصروف ہیں بات نہیں کر سکتی۔میرے ایک ہی بھائی تھے اور یہ ان کی اولاد میں واحد بیٹا ہے جو کہ ہم سے بہت مانوس ہے۔ہم اس سے ملنا چاہتے ہیں اور بچے کا خرچہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں ۔
ہم بہنوں نے تین سال تک بھابھی بھائی اور بھتیجے کے اخراجات پورے کیے ہیں ،بھائی کی بیماری پر لاکھوں خرچ کیے ،اب وہ گھر سونا کر کےہنوں نے تین سال تک بھابھی بھائی اور بھتیجے کے اخراجات پورے کیے ہیں ،بھائی کی بیماری پر لاکھوں خرچ کیے ،اب وہ گھر سونا کر کچلی گئی ہیں۔ہمیں ان کے جانے پر اعتراض نہیں ۔بس بچے سے ملنا چاہتے ہیں؟مہربانی فرما کر ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں!
سائل: رفعت فاطمہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے کہ بچے کو پھوپھیوں سے ملنے میں کسی قسم کا کوئی خطرہ و اندیشہ نہیں توایسی صورت میں ماں کا بھتیجے کو پھوپھیوں سے ملنے سے روکنا اوریوں قطع رحمی کا سبب بننا جائز نہیں ۔ انہیں چاہیےکہ بیٹے کو ددیال سے حسبِ عادتملاقات کرنے دیں!
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:لا تقاطعوا ولا تدابروا ولا تباغضوا ولا تحاسدوا وکونوا عباد الله اخوانا۔ ترجمہ:نہ قطع تعلقی کرو، نہ دشمنی کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے حسد کرو۔ اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ) اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال منقطع رکھے۔(صحيح مسلم، کتاب البر والصلة والادب. رقم الحديث :2559)
قطع تعلقی مثل قتل ناحق ہے صحابی رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوخراش الاسلمی سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:من هجر اخاه سنة فهو کسفک دمه۔ترجمہ:جس نے ایک سال تک اپنے بھائی سے تعلقات منقطع رکھے تو یہ اسی طرح ہے جیسے اس نے اسے قتل کردیا۔(سنن ابوداؤد، کتاب الادب، رقم الحديث :1484)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:لايحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث فمن هجر فوق تلاث فمات دخل النار۔ترجمہ:کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے۔ اور جس نے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کی اور پھر مرگیا تو وہ دوزخ میں داخل ہوگیا۔(سنن ابوداؤد، کتاب الادب، رقم الحديث :1483)
متفق علیہ حدیث رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے : حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:لايدخل الجنة قاطعترجمہ: قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔( صحيح البخاری، کتاب الادب، حديث نمبر5984، صحيح مسلم، کتاب البروالصلة والادب، حديث نمبر2556)
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ومن كان يؤمن بًالله واليوم الآخر فليصل رحمه ترجمہ:جو اللہ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتا ہوتو اسے لازم ہے کہ صلہ رحمی کرے۔(مسند امام احمد بن حنبل،ج28،ص570،الحدیث17334،مؤسسۃ الرسالۃ) واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد يونس انس القادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:17ربیع الاول ا1444 ھ/14اکتوبر 2022 ء