سوال
غاصب نے غصب شدہ زمین پر زراعت کی تو وہ فصل غاصب کے حق میں ملک طیب ہے یا ملک خبیث ؟نیز اس پیداوار پر عشر واجب ہوگا یا نہیں ؟ اگرہاں تو یہ عشر غاصب کے ذمہ ہوگا یا مالک کے ؟اور کیا ملک خبیث پر صدقات ِ واجبہ لازم ہوتے ہیں؟
سائل:محمد شہباز سالک:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
غاصب جب مغصوبہ شے میں تصرف کرتا ہے تو اس سے حاصل ہونے والے زوائد دو طرح کے ہوتے ہیں :
1:وہ زوائد کسی عقد کی وجہ سے وجود میں آئے ہوں مثلاً غاصب نے مغصوبہ شے کو اجرت پر دے کر نفع حاصل کیا ۔
2:وہ زوائد جو غاصب کے فعل سے وجود میں آئے ہوں مثلاً مغصوبہ زمین پر تعمیرات کی یا اس پر فصل اُگائی۔
پہلی صورت میں عقد کی بنا پر جو عاقد ثانی سے جو نفع حاصل ہوا اس پر قبضہ کرنے کی وجہ سےغاصب کی ملکیت ثابت ہو گئی لیکن اس عقد کی بنیاد خبث پر تھی لہذا شرع مطہر نے غاصب کے لیے ان منافع کو استعمال کرنا ناجائز قرار دیتے ہوئے ان منافع کو مالک کو لوٹانے کا حکم دیا (یہ بہتر ہے کہ اس میں اس کی داد رسی ہے) یا بغیر نیت ثواب کے صدقہ کر دے ۔ دونوں میں سے جو بھی آپشن استعمال کرے گا اس سے بری الذمہ ہو جائے گا۔
جب معاملہ ایسا ہے کہ اولاً ہی غاصب کو منافع اپنی ملکیت سے خارج کرنے کا حکم ہے تو پھر زکوٰۃ وغیرہ جیسے صدقات ِ واجبہ کیسے لازم ہونگےکہ وہ تو مال کے کچھ حصہ کو صدقہ کرنے کا نام ہےاور یہاں تو کل مال ہی صدقہ کردینے کا حکم ہے۔اور یہی حکم ہر قسم کے املاکِ خبیشہ کا ہے۔
لیکن اگر مغصوبہ شے یتیم یا وقف کا مال ہو یا پھر وہ چیز معد للاستغلال(نفع حاصل کرنے کے لیے ہی ہو)ہو تو ایسی صورت میں مغصوبہ شے سے حاصل ہونے والے نفع کا غاصب ضامن ہوتا ہے اور ضمان کے سبب یہ منافع غاصب کے حق میں ملک طیب ہوتے ہیں ۔لہذا ایسی صورت میں اس مال پر زکوٰۃ وغیرہ جیسے صدقات واجبہ لازم ہونگے۔
رد المحتار میں ہے: أن الغلة للغاصب عندنا؛ لأن المنافع لا تتقوم إلا بالعقد والعاقد هو الغاصب فكان هو أولى ببدلها، ويؤمر أن يتصدق بها لاستفادتها ببدل خبيث وهو التصرف في مال الغير۔ترجمہ: ہمارے نزدیک ( مغصوبہ شے سے حاصل شدہ ) نفع غاصب کا ہی ہوگا ، کیونکہ منافع عقد کے ساتھ ہی قائم ہوتے ہیں اور عقد کرنے والا غاصب خود ہے ، تو اس کے بدل کا زیادہ حقدار بھی وہی ہوگا ،لیکن اسے وہ نفع صدقہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے ، اس لیے کہ یہ نفع اسے خبیث بدل کے ذریعے حاصل ہوا ہے اور وہ ( خبیث بدل ) غیر کے مال میں تصرف کرنا ہے ۔(رد المحتارعلی الدر المختار،جلد:6،صفحہ:189،دارالفکر بیروت)
فتاوٰی شامی میں ہے:لو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة، لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد ايجاب التصدق ببعضه۔ترجمہ: اگر پورا نصاب ہی مال خبیث ہو تو زکوۃ واجب نہیں کیونکہ وہ تو سارے کا سارا صدقہ کرنا واجب ہے لہذا اس مال کا بعض حصہ صدقہ کرنا کافی نہیں۔ ۔(رد المحتارعلی الدر المختار،جلد:2،صفحہ:291،دارالفکر بیروت)
اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں : سود اور رشوت اور اسی قسم کے حرام و خبیث مال پر زکوۃ نہیں کہ جن جن سے لیا ہے اگر وہ لوگ معلوم ہیں تو انہیں واپس دینا واجب ہے، اور اگر معلوم نہ رہے تو کل کا تصدق کرنا واجب ہے، چالیسواں حصہ دینے سے وہ مال کیا پاک ہوسکتا ہے جس کے باقی انتالیس حصے بھی ناپاک ہیں۔ (فتاوی رضویه ، جلد :19، صفحه :656،رضا فاؤنڈیشن لاهور)
منافع الغصب استوفاھا اوعطلھا لاتضمن الا فی ثلث فیجب اجرالمثل ان یکون المغصوب وقفا اومال الیتیم فعلی المعتمد تجب الاجرۃ علی الشریک وبہ افتی ابن نجیم اومعدا للاستغلال الا فی المعد اذا سکن بتاویل ملک کبیت سکنہ احد الشرکاء اوعقد کبیت الرھن سکنہ المرتھن سکنہ المرتھن ثم بان للغیر معداللاجارۃ فلاشیئ علیہ ملتقطا۔ ترجمہ :غصب کے منافع پرضمان نہیں ہے، خواہ غاصب نے ان منافع کوحاصل کیاہویاانہیں معطل رکھاہوسوائے تین صورتوں کے کہ ان میں غصب کے منافع پرمثلی اُجرت واجب ہوتی ہے وہ یہ ہیں کہ مغصوب شے وقف ہو یا یتیم کا مال ہوتو معتمد مذہب کی بنیاد پرشریک پراجرت واجب ہوگی اوراسی پر ابن نجیم نے فتوٰی دیا ، یا وہ مغصوب کرایہ حاصل کرنے کے لئے تیارکیاگیاہو مگرغاصب اس میں مِلک کی تاویل کے ساتھ سکونت پذیرہواہو جیسے وہ گھرجس میں اس کے شرکاء میں سے کوئی ایک سکونت اختیارکرے یاعقد کی تاویل کے ساتھ اس میں رہائش پذیرہو جیسے رہن کامکان جس میں مرتہن نے سکونت اختیارکی پھرظاہرہواکہ وہ مکان کسی غیرشخص کا ہے جواجارہ کے لئے بنایاگیاہے تواس پرکچھ بھی ضمان نہیں ہوگا ملخصاً(ردالمحتارعلی الدرالمختار، جلد :6 ، ص:206،دارالفکر بیروت)
دوسری صورت میں وہ تعمیرات اور فصل وغیرہ کا مالک غاصب ہی ہوگا اوراسی وجہ سے غاصب کو اسے اکھاڑنے کا حکم دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کی ملک ہے۔لہذا غاصب جب مغصوبہ عشری زمین پر فصل اگائے گا تو اس کا مالک بھی وہی ہوگا ۔اور یہ ملک اس کے حق میں طیب ہوگی البتہ زمین کو نقصان پہنچنے کے سبب غاصب کے ذمہ اس نقصان کا ضمان ہوگا۔
پھر اس فصل کا عشر کس پر ہوگا غاصب پر یا مالک ِ زمین پر ؟اس بارے میں امام اعظم اور صاحبین کا اختلاف ہے اور اصل میں یہ اختلاف عقدِ اجارہ میں ہے کہ امام اعظم کے نزدیک اگر زمین کرائے پر دی تو عُشر آجر پر ہوگا اور صاحبین کے نزدیک مستاجر پر ہوگا۔دلیل سے قبل یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ عُشر فصل پر ہوتا ہے خواہ فصل اگانے والا زمین کا مالک ہو یا نہ ہو۔ صاحبین ظاہر پرکلام فرماتے ہیں کہ عُشر کے وجوب کے لیے فصل کا مالک ہوناشرط ہے اوریہاں فصل کا مالک مستاجر ہےجبکہ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ جب فصل اگی اس وقت زمین اجارے پر تھی اور جو کچھ بھی زمین سے نکلا مؤجر اس کا نفع لے چکا اور نفع اس خارج کے عوض تھا تو معنیً آجر اس خارج کا مالک ہوگیا پس عُشر بھی اسی کے ذمہ ہوگا۔ لیکن علامہ شامی نے فرمایا کہ ہمارے دور میں فتوٰی صاحبین کے قول پر ہے۔یعنی عشر مستاجر پر ہوگا ۔اور یہی حکم غاصب کے لیے ہوگا یعنی فصل کا عشر غاصب کے ذمہ ہوگا۔
مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر میں ہے:مَنْ بَنَى فِي أَرْضِ غَيْرِهِ) أَوْ غَرَسَ فِيهَا شَجَرًا (أُمِرَ) الْبَانِي وَالْغَارِسُ (بِالْقَلْعِ) فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ (وَالرَّدِّ) أَيْ رَدِّ الْأَرْضِ إلَى الْمَالِكِ۔ ترجمہ:جو کسی غیر کی زمین میں تعمیرات کرے یا درخت اگائے تو بانی اور اگانے والے کو اسے اکھارنے کا حکم دیا جائے گا (یہ مسئلہ)ظاہر الروایہ میں ہے۔اور زمین مالک کو لوٹانے کا حکم دیا جائے گا۔(مجمع الانھرشرح ملتقی الابحر،جلد:2،صفحہ:462،داراحیاء التراث ا لعربی)
بدائع الصنائع میں ہے:الْعُشْرَ يَجِبُ فِي الْخَارِجِ لَا فِي الْأَرْضِ فَكَانَ مِلْكُ الْأَرْضِ وَعَدَمُهُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ.ترجمہ:عُشر فصل میں واجب ہوتا ہے نہ کہ زمین میں پس(عشر واجب ہونے میں ) زمین کی ملک اور عدم ملک ایک ہی طرح ہے۔(بدائع الصنائع ،جلد: 2،صفحہ:56،دارالکتب العلمیہ)
اسی میں ہے: وَلَوْ آجَرَ أَرْضَهُ الْعُشْرِيَّةَ فَعُشْرُ الْخَارِجِ عَلَى الْمُؤَاجَرِ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُمَا عَلَى الْمُسْتَأْجِرِ.وَجْهُ قَوْلِهِمَا ظَاهِرٌ لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّ الْعُشْرَ يَجِبُ فِي الْخَارِجِ وَالْخَارِجُ مِلْكُ الْمُسْتَأْجِرِ فَكَانَ الْعُشْرُ عَلَيْهِ كَالْمُسْتَعِيرِ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ أَنَّ الْخَارِجَ لِلْمُؤَاجِرِ مَعْنًى؛ لِأَنَّ بَدَلَهُ وَهُوَ الْأُجْرَةُ لَهُ فَصَارَ كَأَنَّهُ زَرَعَ بِنَفْسِهِ ۔ترجمہ:اور اگر کوئی شخص اپنی عشری زمین اجرت پر دے تو امام اعظم کے نزدیک فصل کا عشر آجر پر ہوگا اور صاحبین کے نزدیک مستاجر پر ہوگا۔صاحبین کی دلیل ظاہر ہے اس لیے کہ جو ہم نے ذکر کیا کہ عشر فصل میں ہوتا ہے اور فصل کا مالک مستاجر ہے پس عشر بھی اسی پر ہوگا۔جیسے (عاریت کے مسئلے میں عشر )عاریت پر لینے والے کے ذمہ ہوتا ہے۔اورامام اعظم کی دلیل کہ فصل معنی آجر کی ہے اس لیے کہ یہ اس کا بدل ہے اور وہ اجرت ہے تو یہ ایسے ہوگیا جیسے اس نے خود فصل اگائی ہو۔(بدائع الصنائع ،جلد: 2،صفحہ:56،دارالکتب العلمیہ)
اسی میں ہے: وَلَوْ غَصَبَ غَاصِبٌ أَرْضًا عُشْرِيَّةً فَزَرَعَهَا فَإِنْ لَمْ تَنْقُصْهَا الزِّرَاعَةُ فَالْعُشْرُ عَلَى الْغَاصِبِ فِي الْخَارِجِ لَا عَلَى رَبِّ الْأَرْضِ؛ لِأَنَّهُ لَمْ تَسْلَمْ لَهُ مَنْفَعَةٌ كَمَا فِي الْعَارِيَّةِ وَإِنْ نَقَصَتْهَا الزِّرَاعَةُ فَعَلَى الْغَاصِبِ نُقْصَانُ الْأَرْضِ كَأَنَّهُ آجَرَهَا مِنْهُ وَعُشْرُ الْخَارِجِ عَلَى رَبِّ الْأَرْضِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَعِنْدَهُمَا فِي الْخَارِجِ. ترجمہ:اور اگر غاصب عشری زمین کو غصب کرے پھر اس پر کھیتی کرے پس اگر زراعت زمین کو نقصان پہنچائے تو ہونے والی فصل میں غاصب پر عُشر ہوگا نہ کہ زمین کے مالک پر اس لیے کہ مالک کو نفع سپرد نہیں کیا گیا جیسا کہ عاریت کے مسئلے میں ہوتا ہے ۔اور اگر زراعت زمین کو نقصان پہنچائے تو زمین کا نقصان غاصب کے ذمہ پر ہوگا گویا کہ مالک نے غاصب سے زمین کا اجارہ کیا ہے اور اگنے والی فصل کا عشر زمین کے مالک پر ہو گا یہ مسئلہ امام صاحب کے نزدیک ہے اور صاحبین کے نزدیک مطلقاً فصل میں (غاصب پر) ہوگا۔(بدائع الصنائع،جلد:2،صفحہ:56،دار الکتب العلمیۃ)
اس دور میں فتوی صاحبین کے قول پر ہے اس کی بابت فتاوی شامی میں ہے: قُلْت: لَكِنْ فِي زَمَانِنَا عَامَّةُ الْأَوْقَافِ مِنْ الْقُرَى وَالْمَزَارِعِ لِرِضَا الْمُسْتَأْجِرِ بِتَحَمُّلِ غَرَامَاتِهَا وَمُؤَنِهَا يَسْتَأْجِرُهَا بِدُونِ أَجْرِ الْمِثْلِ بِحَيْثُ لَا تَفِي الْأُجْرَةُ، وَلَا أَضْعَافُهَا بِالْعُشْرِ أَوْ خَرَاجِ الْمُقَاسَمَةِ، فَلَا يَنْبَغِي الْعُدُولُ عَنْ الْإِفْتَاءِ بِقَوْلِهِمَا فِي ذَلِكَ.ترجمہ:میں کہتا ہوں لیکن ہمارے زمانے میں دیہاتوں اور کھیتوں کے عام اوقاف کے بارے میں اجرت پر لینے والا اس بات پر راضی ہوتا ہے کہ وہ زمین کی تمام تر ذمہ داریاں اور مونتیں اپنے ذمہ لیتا ہے اور زمین کی اجرت مثلی کے بغیر زمین کو اجرت پر لیتا ہے اس طرح کہ نہ زمین کی اجرت اور نہ ہی اجرت کا کئی گنا عشر یا خراج مقاسمہ تک پہنچتا ہے۔ پس اس زمانہ میں صاحبین کے قول کے فتویٰ سے عدول نہیں ہونا چاہیے۔ (رد المحتار علی الدر المختار ،جلد:2،صفحہ:334،دارالفکر بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:الجـــــواب صحــــیـح
تارئخ اجراء:03شعبان المعظم4144 ھ/24فروری2023 ء