کسی اور سے شادی کر لو
    تاریخ: 11 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 381

    سوال

    میرے شوہر نے مجھے گھر والوں کے سامنے کہا کہ میری طرف سے یہ فارغ ہے۔اس کے علاوہ یہ جملے بھی کہہ چکے ہیں کسی اور سے شادی کر لو اور اپنے باپ سے کہتا ہے کہ اسے حق مہر دے کر گھر واپس بھیجو!!

    ایسے حالات میں نکاح کی کیا حیثیت رہتی ہے ؟میری بہن شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کی شکار ہے ۔گزشتہ چھ ماہ سے ماں باپ کے گھر بھیجا ہوا ہے کوئی رابطہ نہیں کوئی ذمہ داری نہیں اٹھا رہا ہے۔۔۔مہربانی فرما کر ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں!

    سائل:بنت حوا


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یاد رہے کہ یہ فتوی سوال کے فی الحقیقت صداقت پر مبنی ہونے کی صورت میں ہے ۔

    پوچھی گئی صورت میں میری طرف سے یہ فارغ ہے اس جملہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے۔

    دوسرا جملہ" کسی اور سے شادی کر لو "اگر شوہرحلفاًکہے کہ میری طلاق کی نیت نہ تھی تو اس کی بات معتبر مانی جائے گی یعنی طلاق نہیں ہو گی۔

    تیسرا جملہ " اسے حق مہر دے کر گھر واپس بھیجو"اس مقام پر اس جملہ سے کچھ واقع نہیں ہوا ۔

    تینوں جملوں کی تفصیل ملاحظہ ہو :

    میری طرف سے یہ فارغ ہے

    الفاظِ طلاق کی نیت کا اعتبار ہونے یا نہ ہونے کے لحاظ سے دو قسمیں : صریح و کنایہ

    صریح میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا جبکہ کنایہ میں نیت کااعتبار صراحتاًیا دلالۃ ً (قرینہ خارجیہ سے)ملحوظ ہوتا ہے ۔مذکور ہ جملہ(میری طرف سے یہ فارغ ہے) کا تعلق صریح کی اس قسم سے ہے جو ابتداءً تو صریح نہ تھی لیکن لوگوں کے طلاق کے معنی میں کثرت سے استعمال کی وجہ سے فقہائے زمان نے اسے صریح میں شامل و لاحق کر دیا اور اس پر صریح کے احکام جاری فرمائے ۔

    علامہ شامی علیہ الرحمۃفارسی الفاظ " رہا کردم" کے بارے میں فرماتے ہیں:" سَرَّحْتُك كِنَايَةٌ لَكِنَّهُ فِي عُرْفِ الْفُرْسِ غَلَبَ اسْتِعْمَالُهُ فِي الصَّرِيحِ فَإِذَا قَالَ" رهاكردم" أَيْ سَرَّحْتُك يَقَعُ بِهِ الرَّجْعِيُّ مَعَ أَنَّ أَصْلَهُ كِنَايَةٌ أَيْضًا، وَمَا ذَاكَ إلَّا لِأَنَّهُ غَلَبَ فِي عُرْفِ الْفُرْسِ اسْتِعْمَالُهُ فِي الطَّلَاقِ وَقَدْ مَرَّ أَنَّ الصَّرِيحَ مَا لَمْ يُسْتَعْمَلْ إلَّا فِي الطَّلَاقِ مِنْ أَيِّ لُغَةٍ كَانَتْ".ترجمہ : سرحتک(میں نے تجھے چھوڑا) کنایہ ہے لیکن فارسیوں کے عرف میں اس کا غالب استعمال صریح میں ہے پس جب مرد بیوی سے کہے" میں نے تجھے رہا کیا" یعنی" سَرَحْتُک" کہے۔ تو اس سے رجعی طلاق واقع ہوگی باوجود یہ کہ اسکی اصل کنایہ ہے ۔ اور یہ اس لئے ہے کہ لوگوں کے عرف میں اس کاغالب استعمال طلاق میں ہے اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ صریح الفاظ وہ ہیں جو طلاق میں ہی استعمال ہوں چاہے وہ کسی بھی زبان کے ہوں۔ (رد المحتار, باب الکنایات، جلد:4، صفحہ:530)

    امام ٍاہلسنت مجدددین وملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالر حمن بعض علاقوں اور اہل پیشہ میں پائے جانے والے عرف کی بناء پر لفظ "فارغ خطی" کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:" فَإِنَّ هَذَا اللَّفْظَ مِنَ الرَّجُلِ لِإِمْرَأَتِهِ لَاْ يُسْتَعْمَلُ إِلَّاْ فِيْ مَعْنَى الطَّلَاْقِ وَلَاْ يُرَاْدُ وَلَاْ يُفْهَمُ مِنْهُ إِلَّا هَذَا فَكَاْنَ مِنَ الصَّرِيْحِ الَّذِيْ لَاْ يَحْتَاْجُ إِلَى النِّيَّةِ". ترجمہ: خاوند کی طرف سے بیوی کے لیے اس لفظ کا استعما ل صرف طلاق کے معنی میں ہوتا ہے اور اس سے مراد اور مفہوم یہی ہوتا ہے ۔لہذا یہ لفظ صریح ہے جس میں نیت کی ضرورت نہیں ہے ۔ (فتاوی رضویہ، جلد:12، صفحہ:559،رضافاؤنڈیشن لاہور)

    صدرالشریعۃ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:" یہ لفظ میں نے فارغ خطی یا فارخطی یا فارکھتی دی صریح ہے۔ (بہار شریعت، ج:1، ص:544)

    دوسرا جملہ کسی اور سے شادی کر لویہ صیغہ امر ہے جو کہ یہاں پر اختیار(آفر) کے معنی پر دلالت کر رہا ہے کہ اگر تو نکاح کر سکتی ہے تو کر لے ۔ یہ اختیار شوہر کے طلاق دینے پر اقتضاء ًموقوف ہوتا ہے کہ عورت شوہر سے طلاق لے کر ہی شادی کر لے ۔چونکہ اس میں اقتضاءً طلاق کا معنی بھی ہوتا ہے اس لیے فقہائے کرام نے فرمایا کہ اگر طلاق کی نیت سے یہ الفاظ کہے توطلاق ہو جائے گی ۔

    ردالمحتار میں ہے : لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انوالطلاق لایقع شیئ لان معناہ ان امکنک وفی الذخیرۃ اذھبی وتزوجی لایقع الابالنیۃ وان نوی فھی واحدۃ بائنۃ وان نوی الثلاث فثلاث۔ترجمہ :اگر شوہر نے کہا''جاؤ اور نکاح کرلو'' اور کہتا ہے کہ میں نے اس سے طلاق کی نیت نہیں کی، تو طلاق نہ ہوگی، کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگرتجھے ممکن ہو(اور کسی اور سے نکاح طلاق کے بغیر ممکن نہیں)۔ اور ذخیرہ میں ہے:اگر خاوند نے کہا''جاؤ نکاح کرو'' تو نیت ایک بائنہ طلاق ہوگی، اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں واقع ہوگی۔ ۔(رد المحتار،باب تفویض الطلاق ،جلد03،صفحہ314،دار الفکر بیروت )

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : تو عمرو یا بکر سے نکاح کرلے یا اس کا نکاح ولید سے کرادو'' محتاجِ نیت ہیں، اگر بہ نیتِ طلاق کہے ایک طلاق بائن ہوئی، اور نیتِ طلاق نہ تھی تو کچھ نہیںِ اور اس بارے میں کہ ان الفاظ سے اس نے طلاق کی نیت نہ کی تھی، اس کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر قسم کھالے گا حکمِ طلاق نہ ہوگا، پھر واقع میں نیت کی تھی اور جُھوٹی قسم کھالی تو وبال اُس پر ہے۔(فتاوی رضویہ جلد12،صفحہ364رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسے حق مہر دے کر واپس گھر بھیجویہ بھی صیغہ امرہے جس میں خطاب والد سے ہے اس جملہ سے دھمکی مقصود ہوتی ہے یا اس بات کا اظہار کہ میں اس سے تنگ آ گیا ہوں تم اسے حق مہر دے کر گھر بھیجو میں طلاق بھیجتا ہوں تو یہ محض دھمکی ہو تی ہے تفویضِ طلاق نہیں ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد يونس انس القادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:15رجب المرجب 1444 ھ/03فروری 2023 ء