social media par gheebat o chughli par mabni aur fahash mawad share karna
سوال
سوشل میڈیاپر غیبت و چغلی پر مبنی اور فحش مواد شیئر کرنا کیسا ہے؟
سائل: :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سوشل میڈیا پر غیبت اور چغلی پر مبنی مواد شیئر کرنا شرعاً ناجائز، گناہِ کبیرہ اور سخت وعید والا عمل ہے، چاہے وہ کسی پوسٹ کی صورت میں ہو یا ویڈیو، تبصرے، یا میم (meme) کی صورت میں ہو۔غیبت اور چغلی جیسے گناہوں کا ارتکاب صرف زبانی گفتگو میں ہی نہیں ہوتا بلکہ تحریر، ویڈیو، پوسٹ، تبصرے، یا شیئرنگ کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔لہٰذا جو شخص کسی دوسرے مسلمان بھائی کی غیبت، چغلی یا عیب جوئی پر مبنی مواد بناتا ہے، پھیلاتا ہے، یا شیئر کرتا ہے، وہ سخت گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
غیبت کسے کہتے ہیں اس بارے میں حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا۔ (بہارِ شریعت حصّہ 16 ص 175)
قران کر یم میں غیبت کی مذمت میں ارشاد باری تعالٰی ہے: وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ۔ ترجَمہ کنزالایمان:اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو ۔کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے؟ تو یہ تمھیں گوارا نہ ہو گا۔ (الحجرات: 12)
اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی غیبت کی مذمت بیان کی گئی ہے:حضور صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام سے استفسار فرمایا:’’کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟صحابۂ کرام نے عرض کی:’’اللہُ وَرَسُوْلُـہٗ اَعْلَم یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔‘‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا:’’(غیبت یہ ہے کہ)تو اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔‘‘ عرض کی گئی: ’’جو میں کہتا ہوں اگر وہ میرے بھائی میں موجود ہو تو اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اگر جو تم کہتے ہو وہ اس میں موجود ہے تو تم نے غیبت کی اور اگر تم نے ایسی بات کہی جو اس میں موجود ہی نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔(ابو داؤد، حدیث نمبر : 4874)
یونہی چغلی کی بھی شریعت میں ممانعت ہے ، چغلی یعنی ایک کی بات دوسرے تک پہنچانا اس نیت سے کہ دلوں میں کدورت، دشمنی یا فساد پیدا ہو،خواہ چغلی عام طریقے سے کی جائےیا سوشل میڈیا فیس بک واٹساپ وغیرہ کے ذریعے کی جائے بہر حال یہ ایک نہایت مذموم اور کبیرہ گناہ ہے،قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ﴿هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ﴾ یعنی وہ طعنہ زن اور چغل خور ہے (سورۃ القلم: 11)
رسول اکرم ﷺ نے چغل خور کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ۔یعنی چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا ۔(صحیح مسلم: 105)
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں، اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں (یعنی ان کے نزدیک بڑا نہیں تھا)ان میں سے ایک چغلی کیا کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے پرہیز نہیں کرتا تھا۔(صحیح بخاری: 216)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ چغلی کا انجام قبر کا عذاب اور آخرت کا خسارہ ہے، معاشرتی اعتبار سے دیکھا جائے تو چغلی محبتوں کو دشمنی میں بدل دیتی ہے، دلوں میں بدگمانی، حسد، بغض اور کینہ پیدا کرتی ہے، رشتے ناطے، بھائی چارہ، دوستیاں سب چغلی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، انسانوں کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے :وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللهُ. وَشِرَارُ عِبَادِ اللَّهِ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ وَالْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِيَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَاءَ الْعَنَتَ ۔ترجمہ: حضرت عبد الرحمان ابن غنم اور اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب دیکھے جائیں تو اللہ یاد آجائے ۔ اور اللہ کے بدترین بندے وہ ہیں جو چغلی سے چلیں، دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے سے اور پاک لوگوں میں عیب ڈھونڈنے والے ۔ (کتاب : مرآۃ المناجیح جلد(6) حدیث نمبر4871)
آج کے دور میں غیبت و چغلی کی شکلیں صرف زبان تک محدود نہیں رہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز، وائس نوٹس، اسکرین شاٹس، پوسٹس، اور تبصرے بھی اس کا ذریعہ بن چکے ہیں، بعض لوگ دوسروں کے نجی پیغامات یا باتیں لے کر گروپس یا عام پلیٹ فارمز پر ڈال دیتے ہیں جس سے دل آزاری، تضحیک اور سماجی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، یونہی طنزیہ تبصرے یا میمز بنانا/شیئر کرنا ، کسی کی بدگوئی کرنا (خواہ ویڈیو یا پوسٹ کے ذریعے)،مشہور شخصیات یا علماء کی ذاتی کمزوریوں کو اچھالنا ، گروپ چیٹس میں کسی کی عدم موجودگی میں اس کا مذاق اڑانا، شریعت میں یہ سب چغلی اور غیبت ہی کی اقسام میں شامل ہے، بلکہ بعض اہلِ علم نے اسے "عصر حاضر کی نمیمہ بازی" قرار دیا ہے جو سادہ نہیں بلکہ سوشل لیول پر فتنہ انگیزی ہے، اس لیے ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے کہ اپنے کلام، تبصرے، تحریر اور فارورڈنگ میں احتیاط برتے۔
یونہی سوشل میڈیا پر فحش وعریانی پر مشتمل ویڈیوز(videos)شیئرکرنا ناجائزوحرام اوراشاعتِ فاحشہ ہے اورایسے کرنے والےافراد گناہ کی طرف داعی اور سخت گنہگار ہیں، ان کی شیئرکردہ ویڈیوز جتنے افراد دیکھیں گے ، ان سب کے گناہوں کے برابرشیئرکرنے والے کوگناہ ملے گا۔ امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ امام احمدرضاخان فرماتے ہیں:” میں نے یہ بھی واضح کردیاہے کہ ایسی محافل میں جتنے لوگ کثرت سے جمع کئے جائیں گے ، اسی قدر گناہ و وبال صاحبِ محفل و داعی پر بڑھے گا۔ حضار سب گنہگار اور اُن سب کاگناہ گانے بجانے والوں پر اور اُن کا ، اِن کا سب کا بلانے والوں پر۔ بغیر اس کے کہ اُن میں کسی کے اپنے گناہ میں کچھ کمی ہومثلاً دس ہزار حضار کامجمع ہے ، تو ان میں ہرایک پرایک ایک گناہ اور فرض کیجئے تین اقوال تو اُن میں ہرایک پراپنا گناہ اور دس دس ہزارگناہ حاضرین کے، یہ مجموعہ چالیس ہزارچار اور ایک اپنا، کل چالیس ہزارپانچ گناہ داعی وبانی پر۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من دعا الیٰ ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل آثام من تبعہ لاینقص ذٰلک من اٰثامھم شیئا رواہ الائمۃ احمدوالستۃ الاالبخاری عن ابی ھریرۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہ۔ایسے محرمات کومعاذاﷲموجب قربت جاننا جہل وضلال اور ان پراصرار کبیرہ شدیدالوبال اور دوسروں کو ترغیب اشاعت فاحشہ واضلال، والعیاذ باﷲمن سوء الحال ۔ (فتاوی رضویہ، جلد24، صفحہ150، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1447ھ/ 28 جون2025 ء