باقی بچوں کو چھوڑ کر صرف دو کو مکان دینا کیسا
    تاریخ: 3 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 947

    سوال

    میرے والد صاحب کاا یک 100 گز کا مکان تھا،جو کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی آدھا آدھا میرے اور میرے بھائی انیس کے نام کردیا تھا ، دونوں بھائیوں کو50 گز الگ الگ کرکے دے دیا تھا ، آدھے میں ہم اور دوسرے آدھے میں دوسرا بھائی رہائش پذیر تھا۔ پھر میرے بچیاں بڑی ہوگئیں تو رہائش کی پریشانی ہوئی اور میرے اور انیس کے درمیان طے ہوا کہ اس 100 گز پر تعمیرات کرکے نیچے والے میں میری رہائش ہوگی اور اوپر والے میں انیس کی اس طرح تعمیرات مکمل ہوئی ۔دو کے ساتھ ساتھ تیسرے پر بھی ایک کمرہ،فرش اور زینہ بنادیا ۔ اب انیس نے دوسرے بھائی ،رئیس کے ساتھ مل کر مجھ پر عدالت میں کیس کردیا ہے، اور کہا ہے کہ اس گھر میں سب بہن بھائیوں کا حصہ ہے ۔ ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں ۔ جبکہ میں خدا و رسول کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہوالد نے یہ ہمیں دے دیا تھا اور اسکی تعمیرات میں نے ہی کی ہے اس میں کسی اور کا عمل دخل نہیں ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ میرے بھائیوں کا یہ مطالبہ شرعی اعتبار سے جائز ہے یا ناجائز؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل:شیخ ظہیر احمد :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ سوال میں ذکر ہوا تو حکم شرع یہ ہے کہ اس مکان میں آپکا اور آپکے بھائی انیس کا حصہ ہے اسکے علاوہ کسی وارث کو اس میں ملکیت کے دعوی کا حق نہیں ہے ۔ کیونکہ مکان والد نے اپنی زندگی میں آپ دونوں کے نام کیا اور اسکے بعد دونوں کا حصہ جدا بھی کردیا ،اور آپ نے اس پر قبضہ بھی کردیا تو ملکیت تام ہوگئی۔کیونکہ زندگی میں مکان،پلاٹ یا فلیٹ،یا کوئی اور چیز نام کردینا گفٹ یا ھبہ کے طور پر ہوتا ہے لہذا اگر کوئی کسی کو جگہ یا مکان یا پلاٹ گفٹ کیا جائے اور وہ موہوب لہ (یعنی جس کے لیے گفٹ کیا گیا ہے) اس کو اپنے قبضے میں لے لے، تو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے یعنی اس میں اس شخص کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے جس کے لیے وہ مکان ھبہ کیاگیاہے ۔اگر موہوب لہ ایک سے زائد لوگ ہوں تو ضروری ہے کہ ہر ایک اپنا حصہ الگ کرکے قبضہ کرلے ، وگرنہ قبضہ تام نہ ہوگا اور مکان واہب( گفٹ کرنے والے) کی ملکیت میں ہی باقی رہے گا۔

    یہاں جب دونوں بھائیوں نے اپنا اپنا حصہ الگ الگ کرلیا تھا تو شرعا یہ ھبہ تام ہوگیا، لہذا اب وہ مکان خاص ان کی ہی ملکیت ہے ۔کسی اور اس گھر میں حصے کا مطالبہ جائز نہیں ہے۔

    تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ) ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688 )

    بدائع الصنائع میں ہے : لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ فَلَمْ يَثْبُتْ الْمِلْكُ رَأْسًا۔ترجمہ:کیونکہ مشاع کا ہبہ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوسکتی ہیں صحیح نہیں ہے ، لہذا ملکیت اصلا ثابت نہ ہوگی۔( بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل فی بیان ما ینتقض التیمم جلد 1ص57)

    سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    البتہ آپکے والد کو اپنی زندگی میں مکان شرعی اعتبار سے تقسیم کرنا چاہیے تھا،انکی یہ تقسیم غیر شرعی ہے جسکی وجہ سے ان پر اسکا گناہ ہوگا البتہ جن بیٹوں کے نام مکان کردیا وہ انکا ہوگیا۔ کیونکہ گناہ ہونا الگ چیز ہے اور ھبہ کا تام ہونا الگ چیز ہے۔ زندگی میں اپنا مال اولاد کے مابین تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں اتنا مال و متاع اپنے پاس رکھ لیں،اور اسکے بعد جو بچے وہ تمام بیٹوں اور بیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسری کے مقابلے میں ذیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسری کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گذار ہے ،یا دوسری کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    البحر الرائق میں ہے:'' يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ''ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 ربیع الثانی 1441 ھ/02 دسمبر 2019ء