سوال
ایک شخص کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ،سب کے سب شادی شدہ ہیں ، بیٹوں میں سے ایک بیٹا (الف)برسرروزگار ہے جبکہ دوسرا بیٹا (ب)بے روزگار ہے ، شروع سے اب تک والدین اسکی مالی معاونت کرتے رہتے ہیں۔ والدین نے ایک بیٹے (الف) 2000ء میں ایک پلاٹ دیا اور پھر 2007ء میں اسکی ملکیت واپس لے لی جوکہ اس بیٹے نے واپس کردی ۔ پھر 2013ء میں اسی بیٹے الف کو دوبارہ وہی پلاٹ دینے کی خواہش کا اظہار کیا مگر بیٹے نے شرط رکھی کہ اگر آپ مجھے یہ پلاٹ دیں گے تو مجھ سے اسکے عوض ایک قیمت لے لیں اور یوں 250000 روپے میں پلاٹ اس بیٹے کی ملکیت میں آگیا ، جبکہ پلاٹ کے کاغذات والدہ کے پاس ہی رہے ۔ کچھ عرصہ بعد پلاٹ کے کاغذات دیکھے تو اس میں انتقال ملک والے کاغذات غائب تھے ۔ استفسار پر معلوم ہوا کاغذات اس لئے نکالے گئے تاکہ اس پلاٹ کو وراثت میں تقسیم کیا جاسکے۔ اس ساری صورت حال میں میرے سوالات یہ ہیں:
1: تمام اولاد سے قطع نظر والدین کا صرف ایک اولاد پر خرچ کرنا شریعت کی نگاہ میں کیا حکم رکھتا ہے؟
2: والدین بیٹے کی ملکیت سے پلاٹ نکال کر اسے وراثت میں تقسیم کرسکتے ہیں یا نہیں؟
3: پلاٹ میں انتقال ملک کے تمام قانونی تقاضے پورے کردئے ؟ کیا شرعی اعتبار سے بھی انتقال ملک ہوگئی یا نہیں؟
4: اگر بیٹا (الف)انتقال ملک کے بعد اس پلاٹ کو فروخت کرچکا ہوتا تو کیا درست ہوتا۔؟
5: شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اولاد والدین سے پوچھ سکے کہ اولاد کے درمیان یہ تفریق کیوں رکھی؟
سائل: روشن ضمیر: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بالجملہ یہاں تین امور ہیں ۔
1: والدین کا صرف ایک بیٹے پر خرچ کرنا اور باقی سے صرف نظر کرنا ۔
2: پہلی بار 2000ءمیں پلاٹ بیٹے(الف) کو دے کر واپس لینا۔
3: 2013ء میں والدین کا بیٹے (الف)کو پلاٹ پیسوں کے عوض دینا پھرانتقالِ ملک کے کاغذات یہ کہہ کر غائب کرنا کہ یہ پلاٹ وراثت میں تقسیم ہوگا۔
1:امر اول کا حکم یہ ہے کہ والدین جو کچھ زندگی میں اولاد کو دیں،وہ والدین کی طرف سے اولاد کے لئے ہبہ (یعنی بطور تحفہ)ہے، اور اولاد کے مابین ہبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام بیٹوں اوربیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرے کے مقابل زیادہ دیں تو اس میں بھی حرج نہیں جبکہ دوسرےکو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گذار ہے ،یا دوسرے کے مقابل زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسےزیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)
بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)
امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا)مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)
2: امر ثانی مبہم ہے ، اسکی دو صورتیں ہیں پہلی یہ کہ والدین نے صرف زبانی کہا کہ پلاٹ دیا اور بیٹے (الف) نے ابھی قبضہ نہ کیا تھا کہ والدین نے واپس لے لیا اس صورت میں تو سرے سے ہبہ ہی نہ ہوا کیونکہ ہبہ میں قبضہ ضروری ہے بغیر قبضہ کے ہبہ تام نہیں ہوتا ۔کما ھو مصرح فی کتب الفقہ ہبہ بغیر قبضہ کے تام نہیں ہوتا جیسا کہ تنویرالابصارمیں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ۔ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے: تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض۔ ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
دوسری صورت یہ کہ بیٹے (الف)نے قبضہ کرلیا اسکے بعد والدین نے اس سے پلاٹ واپس لیا ۔ یہ صورت محض عدم جواز کی ہے کیونکہ قرابت، ھبہ میں رجوع سے مانع ہے ۔السنن الکبرٰی للبیھقی، مستدرک علی الصحیحن،اور سنن دار قطنی میں ہے:واللفظ لہ عَنْ سَمُرَةَ ,عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: «إِذَا كَانَتِ الْهِبَةُ لِذِي رَحِمٍ لَمْ يَرْجِعْ فِيهَا۔ ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ''جب ہبہ کسی ذی رحم کے لئے ہو تو اس میں رجوع نہیں ہے۔(سنن الدار قطنی، کتاب البیوع ،حدیث نمبر 2973)
یوں ہی بدائع،ہدایہ، تبیین ،الاختیار اوربحر میں ہے: واللفظ لہ فَلَوْ وَهَبَ لِذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ لَا يَرْجِعُ لِحَدِيثِ الْحَاكِمِ مَرْفُوعًا «إذَا كَانَتْ الْهِبَةُ لِذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ لَمْ يَرْجِعْ فِيهَا» وَصَحَّحَهُ وَقَالَ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ۔ ترجمہ: اگر کسی ذی رحم رشتہ دار کو ھبہ کیا تو رجوع نہیں کرسکتا کیونکہ حدیث پاک میں ہے، جب ھبہ کسی ذی رحم کے لئے ہو تو اس میں رجوع نہیں ہے، اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا، اور اسکو شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا۔
3:امر ثالث بھی امر ثانی کی وجہ سے دو صورتوں پر ہوا۔امر ثانی کی پہلی صورت کہ پہلی بار ہبہ کیا اور قبضہ نہ ہوا پھر دوسری بار والدین نے بیٹے (الف) کو 250000 لاکھ کے عوض پلاٹ دے دیا تو پلاٹ من کل الوجوہ اسکی ملک میں ہوکر خاص اس بیٹے (الف)کا ہوا، نہ والدین اس میں کچھ تصرف کا حق رکھتے ہیں نہ وراثت میں تقسیم کے قابل۔کیونکہ واہب کا عوض لے لینا مانع رجوع ہے۔ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:"وإذا قال الموهوب له للواهب خذ هذا عوضا عن هبتك فقبضه الواهب سقط الرجوع"ترجمہ:اور جب موہوب لہ نے واہب سے کہا کہ تم یہ پیسے اپنے ھبہ کے عوض لے لواور واہب نے لے کر قبضہ کرلیا تو حق رجوع ساقط ہوجائے گا۔
پھرجب خاص اسکا ہوا تو والدین کا انتقال ملک کے کاغذات چھپانا اور پلاٹ کو مال وراثت شمار کرنا ناجائز و حرام ہے۔ البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:وجوه سبب الملك من قبول الهبة والوصية والإرث والشراءترجمہ:ملکیت کے اسباب ،ھبہ ، وصیت قبول کرنا،وراثت اور خریدناہیں۔( البنایہ شرح الہدایہ جلد 8ص216 الشاملہ)
دوسری یہ کہ پہلی بار ھبہ میں قبضہ ہوچکا تھا تو اسکے بعد رجوع جائز نہ تھا لہذا وہ پلاٹ بدستور بیٹے (الف)کی ملک رہا اب ان پر لازم کہ دوبارہ دیتے وقت پلاٹ کے عوض جو رقم لی وہ بیٹے (الف) کو واپس دیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28 صفر المظفر 1441 ھ/28 اکتوبر 2019 ء