ھبہ کے بعد رجوع کا مطالبہ کرنا کیسا
    تاریخ: 3 مارچ، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 945

    سوال

    ہمارے والد کا تین منزلہ گھر ہے انہوں نے گراؤنڈ فلور اور اسکی دوکان مجھے دے دی اور میرا ہی قبضہ رہا اوربرسوں میں ہی مقیم رہا، بجلی کے بلز، دوکان کا کرایہ بھی میں ہی وصول کرتا رہا ۔ پہلی منزل میرے چھوٹے بھائی کو اسی طرح قبضہ میں دے دی۔ اس سے اوپر والی سب سے چھوٹے بھائی کو دی تاہم انہوں نے قبضہ نہیں کیا کیونکہ وہ پنجاب رہتے ہیں وہیں سرکاری ملازمت کرتے ہیں اور تیسری منزل پر والدین خود رہتے ہیں جوکہ تاحال حیات ہیں۔

    میں نے ایک جگہ مکان تعمیر کرنے کے لئے والد سے 6 لاکھ قرضہ لیا جس میں سے ایک لاکھ بطورِ قرض حسنہ تھا کہ دل چاہا تو دینا ورنہ نہیں میں نے مکان تعمیر کیا اسکے بعد اس گھر میں شفٹ ہوگئے اور یہ فلور اورکرائے پر دے دیا اور یہ طے پایا کہ اسکا جو کرایہ آئے گا وہ والد صاحب رکھیں گے حتٰی کہ انکا 6 لاکھ قرض اتر جائے ۔ معاملہ چلتا رہا حتٰی کہ قرض اتر گیا تاہم اب والد صاحب مکان و دوکان واپس دینے پر راضی نہیں بلکہ انکا کہنا کہ یہ سب میری ملکیت ہے اور اسکا کرایہ میرا ہے اور ابھی تک تم نے 6 لاکھ میرا قرض ادا کرنا ہےاور ہر ماہ 6 ہزار والدین کی خدمت کے بھی دیتے رہیں گے۔برائے مہربانی والد صاحب کے اس عمل کا حکم شرعی قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرمائیں۔

    سائل:محبوب الرحمان نقشبندی :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں بیٹے کومکمل فلور دے دینا ھبہ ہے۔جو بعدِ قبضہ کاملہ تام ہوگیا اور والد کی ملک سے نکل کر بیٹے کی ملکیت میں آگیا ۔ اب والد کو یہ حق و اختیار نہیں ہے ھبہ کرنے کے بعد بیٹے سے وہ فلور واپس لے لے کیونکہ یہاں واہب و موہوب لہ کے مابین قرابت ہے ۔ اور قرابت ھبہ میں رجوع سےمانع ہے۔لہذا والدِ موصوف کا مذکورہ عمل یعنی ھبہ کردہ فلور میں ملکیت کا تقاضا اور اسکا کرایہ اپنے تصرف میں لینا از روئے شرع ناجائز ، ظلم اور صلہ رحمی کے منافی ہے۔ پھر جب طے ہوچکا تھا کہ قرض کی ادائیگی کرایہ کی مد سے کی جائے گی اور بقولِ سائل ادائیگی ہوچکی تو اب سائل ذمہ سے بری ہے ،والد کی جانب سے کسی طرح کا کوئی مطالبہ جائز نہیں ہے۔

    تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    قرابت مانع رجوع ہے اس سلسلے میں شامی میں ہے:(ويمنع الرجوع فيها)حروف (دمع خزقه) يعني الموانع السبعة الآتية، (والقاف القرابة، فلو وهب لذي رحم محرم منه) نسبا (ولو ذميا أو مستأمنا لا يرجع)۔ترجمہ:اورھبہ میں رجوع سے مانع سات چیزیں ہیں، جن کا مجموعہ دمع خزقۃ ہے۔قاف سے مراد قرابت ہے لہذا اگراپنے کسی ذی رحم محرم کو کچھ ھبہ کیا اگر چہ وہ ذہ رحم محرم ذمی یا مستامن ہو رجوع نہیں کرسکتا۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار،جلد 5 ص 704)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: ان صورتوں میں وہ ہبہ قطعا صحیح وتام ونافذ ولازم ہوگیا جس میں رجوع کا زید کو ہر گز اختیار نہیں کہ موہوب لہم سب واہب کے ذی رحم محرم ہیں اور ایسی قرابت میں ہبہ سے رجوع ناجائز۔(فتاوٰ ی رضویہ، کتاب الھبہ ،جلد 19 ص 201 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔ متصرفاو ملتقطا)

    صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: قرابت مانع رجوع ہے۔ قرابت سے مراد اس مقام پر ذی رحم مَحرم ہے یعنی یہ دونوں باتیں ہوں اور حرمت بھی نسب کی وجہ سے ہوتو واپس نہیں لے سکتا اگرچہ وہ ذی رحم مَحرم ذمی یا مستامن ہوکہ اس سے بھی واپس نہیں لے سکتا۔ مثلاًباپ ،دادا، ما ں، دادی اصول اور بیٹا،بیٹی ،پوتا،پوتی، نواسہ، نواسی فروع اور بھائی، بہن اور چچا،پھوپی کہ یہ سب ذی رحم محرم ہیں۔(بہارِ شریعت ،جلد سوم حصہ 14 ص 94مکتبۃ المدینہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:07جمادی الثانی 1442 ھ/20 جنوری 2021 ء