سیاہ عمامہ كےجواز كا حكم
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 463

    سوال

    کیا کالا عمامہ کا سنت ہونا شرعا ثابت ہے ؟اگر نہیں تو اس کے پہننے کا جواز ہے ؟

    سائل:طالب حسین۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    جی ہاں کالا عمامہ کا سنت ہونا احادیث مبارکہ اور اقوال فقہاء سے ثابت ہے۔

    مسلم شریف (باب دخول مکۃ بغیر احرام،رقم ۱۳۵۸)،سنن ابی داؤد(باب فی العمائم ،رقم الحدیث:۴۰۷۶)اور ترمذی شریف (باب فی العمامۃ السوداء،رقم الحدیث :۱۷۳۵)میں ہے وللفظ لہحضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ"وَفِي البَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ، وَابْنِ حُرَيْثٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَرُكَانَةَ: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

    ترجمہ:بلاشبہ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺمکہ( مکرمہ )میں تشریف فرما ہوئے اور آپ کے سرے انور پر کالا عمامہ سجاہوا تھا ۔اور اس حوالے سے حضرت علی ،حضرت عمر،حضرت ابن حریث،حضرت ابن عباس اور حضرت رکانۃرضی اللہ عنھم سے بھی روایت ہے اورحضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث،حدیث حسن صحیح ہے۔

    اس کے علاوہ مصنف ابن ابی شیبہ میں سیاہ عمامہ پر پورا ایک باب (باب فی العمائم السوداء،رقم الحدیث : ۲۴۹۵۱تا ۲۴۹۷۱ )موجود ہے کہ جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدناامام حسن ، سیدناامام حسین، سیدناانس، سیدناعلی بن ابی عبیدہ، سیدناعمار،عبدالرحمن ، سیدنا ابوالدرداء، سیدنا الاسود، سیدنا براء، سیدنا واثلہ ، سیدنا ابونضرۃ اورسیدناعلی بن الحنیفۃ رضی اللہ عنھم وارضاہ عناسے کالےعمامہ پہننا ثابت ہے اور سیدناجبریل علیہ السلام سے بھی فرعون کے غرق ہونے کے دن کالا عمامہ پہننا ثابت ہے۔

    ردالمحتار (فصل فی اللبس،ج:۶،ص:۳۵۱،طبع:دارالفکر ،بیروت

    "ويستحب الأبيض وكذا الأسود لأنه شعار بني العباس ودخل عليه الصلاة والسلام مكة وعلى رأسه عمامة سوداء"اور سفید اسی طرح سیاہ (عمامہ )بھی مستحب ہے اس لیئےکہ یہ بنی عباس کا شعار تھا اور فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺمکہ( مکرمہ )میں تشریف فرما ہوئے تو آپ کے سرے انور پر کالا عمامہ سجاہوا تھا۔

    واللہ تعالی اعلم بالثواب ۔

    کتبـــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21 محرم الحرام 1440 ھ/03اکتوبر 2018 ء